Baaghi TV

پاکستان میں نئے سعودی سفیر ڈاکٹر راجح طامی البقمی: اھلا وسھلا!تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

hafi masood ahar

ارضِ پاک اور دیارِ حرم کا رشتہ محض دو جغرافیائی خطوں کا باہمی تعلق نہیں، بلکہ یہ ایک دل کا دوسرے دل سے، ایک روح کا دوسری روح سے وہ لطیف، منضبط اور مقدس بندھن ہے جس کی بنیادیں عقیدت، اخوت، روحانیت اور باہمی اعتماد کی محکم چٹانوں پر استوار ہیں۔ تاریخِ عالم گواہ ہے کہ جب بھی وقت نے پاکستان یا سعودی عرب کو کسی مشکل یا چیلنج کے سامنے کھڑا کیا، ان دونوں برادر ممالک نے ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر باہمی یکجہتی کی وہ لازوال مثال قائم کی جو بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ میں کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔

آج جب مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے تلاطم خیز دور سے گزر رہا ہے اور عالمی سیاسی و معاشی شطرنج پر نئے مہرے طے کیے جا رہے ہیں، پاک سعودی تعلقات ایک نئے، مستحکم اور بصیرت افروز موڑ میں داخل ہو چکے ہیں۔ اس نئے دور کی علامت اور بصیرت کا عکاس سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کے لیے نئے سفیر ڈاکٹر راجح طامی البقمی کی نامزدگی ہے۔ یہ تقرری صرف ایک معمول کی سفارتی تبدیلی نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان قائم لازوال اور تزویراتی (Strategic) رشتے کو ایک نئی بلندی، نیا آہنگ، اور نئی جہت دینے کے عزمِ مصمم کا بیّن ثبوت ہے۔ یہ اس بات کا بھی واضح اشارہ ہے کہ تبدیل ہوتے ہوئے عالمی حالات میں دونوں برادر ممالک اپنی دوستی کو مزید مضبوط اور پائیدار بنانا چاہتے ہیں۔

سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ کے مطابق ڈاکٹر راجح طامی البقمی ان آٹھ ممتاز سفیروں کی فہرست میں شامل ہیں جنہوں نے اس ہفتے اپنے منصبِ جلیل کا حلف اٹھایا ہے۔ وہ اپنے سے پیش رو ممتاز سفیر جناب نواف بن سعید المالکی کی جگہ یہ اہم ترین سفارتی مسند سنبھال رہے ہیں۔ اگر ڈاکٹر راجح کی شخصیت کا عمیق نظر سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ مملکتِ سعودی عرب نے پاکستان کے لیے ایک ایسی شخصیت کا انتخاب کیا ہے جو عسکری صلابت، انتظامی تدبر اور اعلیٰ ترین علمی قابلیت کا گرانقدر مجموعہ ہے۔ڈاکٹر راجح بن طامی نہ صرف ایک پی ایچ ڈی ہولڈر سکالر ہیں بلکہ انہوں نے طویل عرصے تک سعودی مسلح افواج میں نہایت اہم اور حساس مناصب پر خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے 2024ء میں میجر جنرل کے معزز عہدے سے ریٹائرمنٹ حاصل کی جس کے فوراً بعد ان کی قابلِ قدر صلاحیتوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے سفیر کے رتبے کے ساتھ سعودی وزارتِ خارجہ کے اہم دھارے میں شامل کیا گیا۔علمی میدان میںبھی ان کا سفر بے حد درخشاں اور متاثر کن ہے۔ انہوں نے 2015ء میں برطانیہ کی معروف برونیل یونیورسٹی لندن (Brunel University London) سے "ہیومن ریسورس مینجمنٹ” (انسانی وسائل کی تنظیم و انتظام) میں ڈاکٹریٹ کی اعلیٰ ترین ڈگری حاصل کی۔ ایک ایسا سفیر جو دفاعی حکمتِ عملی، عسکری تجربے اور ہیومن ریسورس کے عالمی اصولوں پر بیک وقت کامل دسترس رکھتا ہو، اس کی تعیناتی اس بات کا واضح پیغام ہے کہ سعودی عرب پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو محض رسمی سفارت کاری تک محدود نہیں رکھنا چاہتا، بلکہ ان روابط میں ادارہ جاتی استحکام، پیشہ ورانہ مہارت، دفاعی ہم آہنگی اور جدید ترین انتظامی اصولوں کو یکجا کرنا چاہتا ہے۔

ڈاکٹر راجح طامی البقمی ایک ایسے وقت میں اسلام آباد میں اپنی سفارتی ذمہ داریاں سنبھال رہے ہیں جب ان کے پیشرو نواف بن سعید المالکی نے اپنے دورِ سفارت میں پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو ایک بے مثال بلندی پر پہنچا دیا ۔ جناب نواف المالکی کا دورِ سفارتکاری پاک سعودی تعلقات کا ایک سنہری باب تصور کیا جاتا ہے،ان کے دور میں نہ صرف اعلیٰ سطحی سیاسی و عسکری دوروں کا سلسلہ جاری رہا بلکہ سعودی عرب کی پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے عملی منصوبوں کی بھی بنیاد رکھی گئی۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ نئے سفیر جناب ڈاکٹر راجح کی تقرری ایک ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب ابھی ایک سال بھی نہیں گزرا کہ پاکستان اور سعودی عرب نے ایک تاریخی اور تزویراتی باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔یہ دفاعی معاہدہ محض ایک دفتری کاغذ کا ٹکڑا نہیں بلکہ دونوں اسلامی ریاستوں کے درمیان ایک آئرن کلیڈ (Ironclad) عسکری اور دفاعی میثاق ہے۔ اس تاریخی معاہدے کی سب سے بڑی اور بنیادی شرط یہ ہے کہ”پاکستان یا سعودی عرب میں سے کسی بھی ایک ملک کے خلاف کسی بھی قسم کی غیر ملکی جارحیت کو دونوں ممالک کے خلاف مشترکہ حملہ تصور کیا جائے گا، اور دونوں برادر ممالک اس کا یک زبان اور یک قالب ہو کر جواب دیں گے۔”

حالیہ چند مہینوں میں دونوں برادر ممالک کے درمیان تعلقات کی جو گہرائی اور قربت دیکھی گئی ہے، اس نے عالمی برادری کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ پاک سعودی اتحاد اب پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط، فعال اور جدید تقاضوں سے آراستہ ہو چکا ہے۔ اس تناظر میں ایک سابق اعلیٰ عسکری کمانڈر اور ہیومن ریسورس کے ماہر کو پاکستان میں سفیر مقرر کرنا سعودی قیادت بالخصوص خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی اس تزویراتی سوچ کو ظاہر کرتا ہے جس کا مقصد سفارت کاری کو نئی توانائی اور عملیت پسندی فراہم کرنا ہے۔

اگرچہ پاکستان اور سعودی عرب کا تاریخی رشتہ دفاعی اور تزویراتی بنیادوں پر بے حد مضبوط ہے، لیکن موجودہ دور کی سفارت کاری کا ایک بڑا ستون معاشی ترقی، تجارت اور باہمی سرمایہ کاری بھی ہے۔ سعودی عرب کا "ویژن 2030” جو شہزادہ محمد بن سلمان کی انقلابی اور جدید سوچ کا عکاس ہے، پاکستان کے معاشی امکانات اور خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کے اہداف کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔ عالمی سیاست میں پاکستان اور سعودی عرب کا اتحاد صرف دو ممالک کا دوطرفہ معاملہ نہیں بلکہ یہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے امید کی ایک کرن ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم (OIC)، اقوامِ متحدہ، اور دیگر عالمی فورمز پر پاکستان اور سعودی عرب نے ہمیشہ ایک دوسرے کے موقف کی بھرپور تائید کی ہے۔

موجودہ دور میں جب دنیا تفرقے اور متعدد بلاکس میں تقسیم ہو رہی ہے، پاک سعودی اتحاد عالمِ اسلام کے لیے ایک مضبوط اور مستحکم مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ ڈاکٹر راجح طامی البقمی کی بحیثیت سفیر آمد اس بات کی ضمانت ہے کہ عالمی و علاقائی سیاست میں دونوں ممالک کا یہ اتحادی نظام اب مزید مضبوط، مربوط اور وقت کے تقاضوں کے مطابق جدید شکل اختیار کرے گا۔

ڈاکٹر راجح طامی البقمی کی بحیثیت سفیرِ سعودی عرب برائے پاکستان نامزدگی دونوں ممالک کے مابین تعلقات کے ایک نئے اور تابناک دور کا پیش خیمہ ہے۔ ان کا عسکری وقار، تعلیمی تخصص اور سعودی قیادت کا ان پر کامل اعتماد اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ اپنی اس نئی اور گرانقدر ذمہ داری کو نہ صرف کامیابی سے نبھائیں گے بلکہ پاک سعودی اخوت کی دیواروں کو مزید مضبوط اور ناقابلِ تسخیر بنائیں گے۔

More posts