کسی قوم کی عظمت کا فیصلہ اس کے نقشے یا رقبے سے نہیں ہوتا، نہ ہی اس کے خزانوں کی گنتی سے۔ عظمت کا فیصلہ اس بات سے ہوتا ہے کہ قوم کتنی ذمہ دار ہے۔ اس کےلیے کوئی نگہبان یا کیمرہ نہیں ہوتا، پولیس چوکی نہیں ہوتی، بلکہ ضمیر ہوتا ہے۔ جس دن کسی معاشرے میں ضمیر کی آواز کی جگہ خوف (گرفتاری یا رسوائی) لے لے، اس دن سمجھ لینا چاہیے کہ نظام کی سمت درست نہیں۔کیونکہ نظام بنانے سے نہیں چلتا بلکہ احساس زمہ داری سے چلتا ہے۔
ہم اکثر یہ سوال سنتے ہیں کہ ریاستیں کیوں زوال پذیر ہوتی ہیں۔ جواب تاریخ کی کتابوں میں الجھا ہوا نہیں، بلکہ ہمارے اپنے روزمرہ رویوں میں بکھرا پڑا ہے۔ جب استاد کلاس میں پڑھانے کے بجائے ٹیوشن سنٹر کو ترجیح دیتا ہے، جب ڈاکٹر سرکاری ہسپتال میں مریض کو دو منٹ اور نجی کلینک میں آدھا گھنٹہ دیتا ہے، جب افسر فائل پر دستخط کرنے سے پہلے میز کے نیچے ہاتھ بڑھاتا ہے، جب صحافی سچ کے بجائے اشتہار کی زبان بولتا ہے۔ تو یہ سب واقعات الگ الگ نظر آتے ہیں مگر دراصل ایک ہی بیماری کی مختلف علامتیں ہیں۔ وہ بیماری ہے، غیر ذمہ داری اور شعوری کمی۔
ہمارے ہاں ایک عجیب رجحان پروان چڑھا ہے کہ ہم اصلاح کا آغاز ہمیشہ اوپر سے چاہتے ہیں۔ حکمران بدلیں، پھر ہم بدلیں گے۔ نظام ٹھیک ہو، پھر ہم ایمانداری دکھائیں گے۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ نظام بنتا کس چیز سے ہے؟ نظام کوئی الگ مخلوق نہیں جو آسمان سے اترتی ہے، نظام دراصل لاکھوں افراد کے فیصلوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ جب ایک شہری قطار توڑتا ہے، جب ایک تاجر ملاوٹ کرتا ہے، جب ایک ووٹر برادری یا رشوت کی بنیاد پر ووٹ دیتا ہے، تو دراصل وہ خود اسی نظام کی اینٹ رکھ رہا ہوتا ہے جس پر بعد میں وہ خود تنقید کرتا ہے۔ ہم بیک وقت مریض بھی ہیں اور بیماری کا سبب بھی۔
مشرق کی روایت میں کردار کو ہمیشہ ادارے پر فوقیت دی گئی ہے۔ خلافت راشدہ کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے، وہاں کوئی جدید آئین نہیں تھا، پیچیدہ ادارہ جاتی ڈھانچہ نہیں تھا، مگر عدل کا معیار اتنا بلند تھا کہ خلیفہ خود اپنا احتساب سر عام کرواتا تھا۔ اس کے برعکس، آج ہمارے پاس آئین بھی ہے، عدالتیں بھی، احتساب کے ادارے بھی، مگر انصاف پھر بھی کمزور کے لیے دور اور طاقتور کے لیے قریب ہے۔ فرق ڈھانچے کا نہیں، نیت اور کردار کا ہے۔
اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ فرد کیا کر سکتا ہے، مسئلہ تو اجتماعی ہے۔ یہ دلیل سننے میں معقول لگتی ہے مگر دراصل ذمہ داری سے بچنے کا ایک نفیس بہانہ ہے۔ سمندر قطروں سے بنتا ہے۔ جس دن ہر قطرہ یہ سوچنے لگے کہ میرا کیا کردار، اس دن سمندر خشک ہونے لگتا ہے۔ تاریخ میں بڑی تبدیلیاں کبھی ہجوم نے شروع نہیں کیں، ہمیشہ ایک فرد کے فیصلے سے آغاز ہوا، پھر وہ فیصلہ دوسروں کو متاثر کرتا گیا۔ ایک ایماندار افسر پورا محکمہ نہیں بدل سکتا، مگر وہ اپنے دائرے میں اتنی روشنی ضرور پھیلا سکتا ہے کہ آنے والوں کو درست راستہ نظر آنے لگے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ کردار کی تربیت کوئی نعرہ نہیں، ایک مسلسل عمل ہے، اس عمل کی تکمیل میں گھر، تعلیمی اداروں اور معاشرے کو کردار ادا کرنا ہوتا ھے۔ جس معاشرے میں بچے کو یہ سکھایا جائے کہ چالاکی کامیابی کی علامت ہے، وہاں دیانتدار نسل کیسے جنم لے گی؟ جس نصاب میں اخلاقیات کو ایک اختیاری مضمون کی حیثیت دی جائے، وہاں کردار سازی محض رسمی خانہ پری بن کر رہ جاتی ہے۔ اصلاح کا اصل میدان کلاس روم اور گھر کا دسترخوان ہے، پارلیمنٹ کا ایوان نہیں۔
اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ریاست اور اس کے اداروں کو ذمہ داری سے بری الذمہ قرار دے دیا جائے۔حکمرانی کی ناکامیوں پر سوال اٹھانا شہری کا حق ہے اور ہونا بھی چاہیے مگر سوال کرنے کا حق اسی وقت مضبوط دلیل بنتا ہے جب سوال کرنے والا خود اپنے دائرے میں دیانت دار ہو۔ ورنہ تنقید فقط ایک کھوکھلا شور بن کر رہ جاتی ہے۔
