سیاسی جماعتیں دل گردہ بڑا کریں، عوامی مفادات کی سیاست کریں،ترجمان مرکزی مسلم لیگ
مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی نے کہا ہے کہ بلدیاتی نظام تباہی سے دو چار،نئے انتظامی یونٹس بہت پہلے بن جانے چاہئے تھے، سیاسی جماعتیں دل گردہ بڑا کریں، عوامی مفادات کی سیاست کریں،جس سیاسی جماعت کو اس بات کا خطرہ ہے کہ نئے انتظامی یونٹ بننے سے ہماری سیاست ختم ہو جائے گی تو اس کو تو عوام میں رہنے کا ہی کوئی حق نہیں،
ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بلدیاتی نظام اس وقت شدید بحران اور تباہی سے دوچار ہے،عوام کو بنیادی سہولیات کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے، بدقسمتی سے ہمارے ہاں اقتدار اور وسائل کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کے بجائے انہیں چند بڑے مراکز اور چند خاندانوں تک محدود رکھنے کی روایت مضبوط ہوتی جا رہی ہے، جس کا براہِ راست نقصان عام آدمی کو پہنچ رہا ہے،ان کا مزید کہنا تھا کہ نئے انتظامی یونٹس بہت پہلے قائم ہو جانے چاہیے تھے، بدقسمتی سے ہم نے صوبائیت اور لسانیت کو ایک ایسا بت بنا دیا ہے جس کی پرستش کی جا رہی ہے،انتظامی ضرورت اور عوامی سہولت کی بجائے ہر بحث کو علاقائی، لسانی اور سیاسی مفادات کے چشمے سے دیکھا جاتا ہے،حقیقت یہ ہے کہ اگر لاہور جیسے بڑے شہر کے لیے ایک بااختیار اور مؤثر میئر کا نظام قائم کرنے پر بھی ہم تیار نہیں، اگر گوجرانوالہ، فیصل آباد اور دیگر بڑے شہروں کو بااختیار بلدیاتی نظام دینے میں بھی ہچکچاہٹ موجود ہے تو ہمیں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ آخر حکمران عوام کو اختیار منتقل کرنے سے کیوں گھبرا رہے ہیں،سیاسی جماعتوں کو اب دل بڑا کرکے میدان میں آنا ہوگا، اگر کسی سیاسی جماعت کو یہ خوف ہے کہ نئے انتظامی یونٹس، مضبوط بلدیاتی ادارے یا بااختیار مقامی حکومتیں قائم ہونے سے اس کی روایتی سیاست ختم ہو جائے گی، تو پھر اسے اپنے سیاسی کردار پر نظرثانی کرنی چاہیے،ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی کا کہنا تھا کہ جو سیاست عوام کو اختیار دینے سے خوفزدہ ہو، وہ زیادہ دیر تک عوام کے درمیان اپنی جگہ نہیں بنا سکتی ،ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبائیت اور لسانیت کی سیاست سے بالاتر ہو کر عوامی مفاد،خدمت کی سیاست کوترجیح دی جائے .
