پشاور ہائی کورٹ نے دو افغان صحافیوں کو پاکستان سے ڈی پورٹ کرنے سے روک دیا، جبکہ وفاقی حکومت کو ان کے کیسز کا دو ماہ میں فیصلہ کرنے کی ہدایت کردی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار سید احسان اللہ صالحی اور سید منیر احمد افغان صحافی ہیں اور قانونی ویزے پر پاکستان آئے ہیں، جہاں وہ اس وقت مقیم ہیں۔درخواست گزاروں کے مطابق انہوں نے فرانس میں آبادکاری کے لیے درخواستیں دے رکھی ہیں، جو فی الحال زیرِ غور ہیں، جبکہ فرانسیسی سفارتخانے کی جانب سے ان کے کیسز کی پہلے ہی توثیق کی جاچکی ہے۔عدالت کو بتایا گیا کہ دونوں صحافیوں کو گرفتاری اور ملک بدری کا خدشہ ہے، جس کے باعث وہ آزادانہ نقل و حرکت بھی نہیں کر پا رہے۔پشاور ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ 60 روز کے اندر درخواست گزاروں کے کیسز کا تعین کیا جائے۔ عدالت نے مزید قرار دیا کہ اگر وفاقی حکومت مقررہ مدت میں فیصلہ کرنے سے قاصر رہتی ہے تو وزارتِ داخلہ درخواست گزاروں کو عارضی اجازت فراہم کرے۔
عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزاروں کے کیس پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور انہیں فوری طور پر ملک بدر نہ کیا جائے۔
