حکومت نے ہارون اختر خان کو وزیراعظم کا مشیر برائے صنعت و پیداوار مقرر کرنے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ تقرری صدر مملکت کی منظوری کے بعد کی گئی جبکہ کابینہ ڈویژن نے اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ انہیں وفاقی وزیر کا درجہ بھی حاصل ہوگا۔
ہارون اختر خان فوری طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے اور صنعت و پیداوار کا قلمدان ان کے پاس ہوگا۔ ان کی تقرری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حکومت صنعتی شعبے میں سرمایہ کاری، کاروباری سرگرمیوں اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کے لیے مختلف اقدامات پر کام کر رہی ہے۔
ہارون اختر کا شمار کاروباری اور سیاسی شعبے میں طویل تجربہ رکھنے والی شخصیات میں ہوتا ہے۔ وہ دو مرتبہ سینیٹر اور دو مرتبہ پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوچکے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ماضی میں وفاقی حکومت میں معاون خصوصی برائے محصولات کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں، جہاں انہیں وفاقی وزیر کا درجہ حاصل تھا۔
انہوں نے کینیڈا کی یونیورسٹی آف مینی ٹوبا سے ایکچوریل سائنس اور بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹر آف سائنس کی ڈگری حاصل کی۔ وہ سوسائٹی آف ایکچوریز امریکا اور کینیڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایکچوریز کے فیلو بھی ہیں۔ پیشہ ورانہ میدان میں انہوں نے امریکا اور کینیڈا میں کارپوریٹ گورننس، معاشیات، منصوبہ بندی، پیش گوئی، ماڈلنگ اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں کام کیا۔
ہارون اختر نے 2006 سے 2012 تک سینیٹر کی حیثیت سے مختلف قائمہ کمیٹیوں میں بھی خدمات انجام دیں، جن میں خزانہ، اقتصادی امور، محصولات، منصوبہ بندی و ترقی، تجارت، صنعت و پیداوار، پیٹرولیم اور قدرتی وسائل سے متعلق کمیٹیاں شامل تھیں۔
2015 سے 2018 تک معاون خصوصی برائے محصولات کی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے انہوں نے کاروباری طبقے اور حکومت کے درمیان رابطے بہتر بنانے پر بھی کام کیا۔
نئی ذمہ داری کے بعد ان سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ صنعتی شعبے کو درپیش مسائل، سرمایہ کاری کے فروغ، صنعت کاروں کے اعتماد میں اضافے اور حکومت و کاروباری برادری کے درمیان روابط مضبوط بنانے میں کردار ادا کریں گے۔ ان کا وسیع کاروباری اور حکومتی تجربہ صنعت و پیداوار کے شعبے میں پالیسی سازی کے لیے اہم ثابت ہوسکتا ہے۔
ہارون اختر صنعت و پیداوار کے وزیراعظم کے مشیر مقرر
