علامہ اقبال کی ہمہ گیر شخصیت کے تمام تصورات ‘نظریات اور عقائد سب واضح ہیں اور اُن کی حیات پر بھی بہت کام اور تحقیق سامنے آ چکی ہے۔مجھے یہ بات کہنے میں کسی قسم کی کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی کہ جس قدر اُنہوں نے اِسلامی نظریات کو سمجھا اور اُسے فروغ دیا ‘وہ اپنی مثال آپ ہے۔آپ نے اُن تمام نظریات و تصورات و عقائد کے خلاف آواز بلند کی ‘جن سے نہ صرف دینِ اسلام کو خطرہ تھا بلکہ وہ ملت و قوم کے لیے بھی زہرقاتل تھے۔اُن کی زندگی میں ہی ایسا ایک گروہ قادیان سے متعلق تھا ‘جس کے عقائد و نظریات اس حد تک خطرناک تھے کہ اُنہوں نے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختمِ نبوت سے انکار کر دیا ۔برصغیر پاک و ہند میں اس گروہ کے نظریات کے خلاف جن فلسفیانہ و علمی دلائل علامہ اقبال نے پیش کیے ‘وہ گزشتہ ایک صدی میں روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں۔ اس گروہ کی حتی الامکان یہی کوشش رہی کہ وہ کسی بھی طرح یہ ثابت کرسکے کہ علامہ اقبال اس گروہ کے عقائد سے متاثر تھے مگر اُسے ہمیشہ ہی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس گروہ کا اگلا خطرناک قدم یہ تھا کہ وہ خانوادہ اقبال میں سے کسی شخصیت کے بارے میں تشہیرکرے کہ اُس نے ان کے عقائد کو تسلیم کر لیا ہے۔ اِس ضمن میں اُنہوں نے فرزندِ اقبال جناب آفتاب اقبال کے متعلق یہ افواہ پھیلائی کہ وہ قادیانی ہوچکے تھے۔ جبکہ آفتاب اقبال کی کسی تحریر یا کسی عمل سے کہیں ایسا ثابت نہیں کیا جاسکا۔ سوشل میڈیا پر اکثر لوگ مجھ سے بھی یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا آفتاب اقبال قادیانی یا لاہوری گروپ سے تعلق رکھتے تھےتو میرا جواب ہمیشہ یہی رہا کہ اس بات میں کسی قسم کا کوئی سچ نہیں ہے۔
چند روز قبل مجھے فرزندِ آفتاب اقبال اور پسرزادہ اقبال جناب آزاد اقبال کی خودنوشت انگریزی سوانح موصول ہوئی۔کسی بھی شخصیت کے متعلق جاننے کے لیے اُس کی اپنی تحریر سب سے بنیادی مآخذ ہوتا ہے جس سے اُس کی شخصیت کے پہلو اُجاگر ہوتے ہیں۔آزاد اقبال صاحب سے میرا تعلق گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصہ پر محیط ہے۔ اُن کے متعلق بھی سوشل میڈیا پر کچھ ایسی بے بنیاد باتیں پھیلائی جاتی ہیں کہ اُن کے عقائد بھی اُس گروہ سے مطابقت رکھتے ہیں جو ختمِ نبوت کے منکر ہیں۔حالاں کہ ایسی بات میں کوئی صداقت نہیں۔ آج اس مضمون کو لکھنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ میں اُن چیزوں کو سامنے لےکر آ ؤں جن سے اُن کی شخصیت کا یہ پہلو واضح ہو۔۱۱اپریل ۲۰۲۵ء کو جناب آزاد اقبال صاحب میرے غریب خانہ پر تشریف لائے تو میں نے اُن سے اس بابت سوال کیا تو اُنہوں نے اپنے عقائد سے متعلقہ مجھے واضح کیا ۔ اب اُنہوں نے اپنی انگریزی سوانح شائع کی ہے جس میں اُنہوں نے اپنی زندگی کے بہت سے گوشوں کو نہ صرف اُجاگر کیا ہے بلکہ کچھ تصاویری جھلکیاں بھی اُس میں شامل کی ہیں۔اپنی انگریزی سوانح “Beyond Iqbal”کے صفحہ نمبر ۱۹۵پر اُنہوں نےاپنی اُس شادی کا ذکر کیا جو ایک غیرمسلم خاتون کیتھی سے ۱۹۷۱ء میں انجام پائی۔ جس میں اُنہوں نے اُسے پہلے مسلمان کیا ‘اِس ضمن میں وہ رقمطراز ہیں:
“Before the ceremony, Cathy formally embraced Islam in the presence of a Muslim Imam by reciting the Shahada – the declaration of faith that signifies one’s entry into Islam – and took the Muslim name, Samra – which means fruit. The ceremony was a simple yet profound testimony affirming that there is no god but Allah, and that Muhammad is His Messenger”.
اس درج بالا اقتباس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ آزاد اقبال صاحب اپنے مذہب پرنہ صرف دیارِ غیر میں بھی پابند رہے بلکہ اُنہوں نے جس غیر مسلم خاتون سے شادی کی اُسے بھی دائرہ اسلام میں داخل کیا اوراُسے کلمہ شہادت پڑھوا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کا اقرار بھی کروایا۔ آزاد صاحب نے اگست ۱۹۸۶ء میں اپنے حج کا ذکر بھی کتاب کے صفحہ۳۲۱ تا ۳۲۵ کیا ہے۔ ان صفحات میں صفحہ ۳۲۲ پر وہ عرفات کا نقشہ کھینچتے ہوئے تحریر کرتے ہیں:
“This sacred place, where the Prophet Muhammad delivered his farewell sermon”.
اس انگریزی سوانح میں اُنہوں نے ایک بات اور واضح کردی اور وہ اُن کی والدہ رشیدہ بیگم کے ضمن میں ہے۔ ہمارے یہاں سُنی سُنائی باتوں کو پھیلانے کا رواج اس حد تک خطرناک ہو چکا ہے کہ ہم بلاتحقیق کسی بھی بات کو من و عن تسلیم کرلیتے ہیں۔ رشیدہ بیگم کے متعلق اُن کے ایک بیان کو لے کر اُنہیں بھی قادیان سے جوڑا گیا جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ آزاد صاحب نے سعودی عرب میں گزرے اپنے روزوشب کا ذکر بہت وضاحت کے ساتھ کیا ہے۔ اُنہوں نے اپنی انگریزی سوانح میں تحریر کیا کہ ستمبر ۱۹۸۶ء میں اُن کی والدہ رشیدہ آفتاب اور خالہ وحیدہ نے سعودی عرب کا دورہ کیا اور وہ ہمارے پاس ٹھہریں۔جس میں اُنہوں نے اُن کے عمرہ کرنے کا حال بیان کیا۔ وہ صفحہ نمبر ۳۲۶ پر تحریر کرتے ہیں:
“Of course, for my mother and aunt, the foremost priority during their stay was to perform Umrah and also visit the holy city of Madinah”.
یہ صرف ایک عمرہ کی بات نہیں ہے۔ رشیدہ بیگم کے انتقال پر اپنے جذبات بیان کرتے ہوئے آزاد صاحب لکھتے ہیں:
“I took her for Umrah, and to Madinah, several times – each journey a cherished memory, a gift I am eternally grateful for”.
یہ مندرجہ بالا اقتباس واضح کرتا ہے کہ خود آزاد اقبال صاحب بھی کئی مرتبہ مدینہ منورہ تشریف لے جا چکے ہیں۔ مدینہ کی زیارت اور وہاں حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضہ مبارک پر حاضری ہر مسلمان کی خواہش ہے۔ آزاد صاحب نے اپنے اِس عقیدہ کو یہاں واضح کردیا۔ انگریزی سوانح کے صفحہ ۴۴۱ سے آگے اُنہوں نے اپنی کچھ یادگاری تصاویر بھی شائع کی ہیں ‘جن میں اُنہیں ایک تصویر میں مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ماڈل کے سامنے کھڑے دیکھا جا سکتا ہے۔
اب ذرا بات کرلیتے ہیں اُن کے فن کی۔ آزاد صاحب کو اپنے دادا علامہ محمد اقبال کی طرح شاعری کا بہت شوق ہے۔ شاعری کا شوق تو آزاد صاحب کو اپنی نوجوانی کے دور سے تھا۔ وہ اُردو اور انگریزی زبانوں میں شاعری کرتے ہیں۔اُس دور کے اُن کی شاعری کے نمونوں کی کچھ نقول میرے پاس محفوظ ہیں۔ اُن کا اوّلین مجموعہ کلام ’ ’دانائے راز‘‘ کے نام سے نومبر۲۰۲۱ء میں شائع ہوا۔ اس شعری مجموعہ میں اُن کی ایک نظم’’سوالِ بندہ‘جوابِ خدا‘‘ شامل ہے۔ جس میں نو سوالات کے نو منظوم جوابات درج ہیں۔ نویں سوال میں وہ مسلمانوں کی حالتِ زار کا ذکر کرتے ہوئے اُس کا جواب یوں دیتے ہیں:
اپنے اسلاف کے معمول پر آنا ہوگا
حق کے آگے سرِ تسلیم جھکانا ہو گا
ربط دربارِ رسالت سے بڑھانا ہو گا
پھر سے پیغامِ محمد کو پڑھانا ہوگا
اتباع آپ کا ایماں کی جاں ہوتا ہے
بے گماں ضامنِ تسکین و اماں ہوتا ہے
دانائے راز میں ہی اُن کی ایک نظم بعنوان’’ فروغِ اسلام‘‘ شائع ہوئی۔جس میں اُنہوں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شخصیت اور اُن کے کردار پر خوب صورت شاعری کی۔ ’ ’صلائے حق‘‘ کے نام سے اپنی نظم کے آخر میں بھی وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اُسوہ حسنہ کو اختیار کرنے کا سبق دیتے ہیں۔
آزاد اقبال کا دوسرا شعری مجموعہ کلام ’ ’رازِ سخن‘‘ کے نام سے جنوری ۲۰۲۵ء میں شائع ہوا۔ یہ دراصل اُن کی وہ شاعری ہے جو بچوں اور نسلِ نو کے لیے ہے۔ان مندرجہ بالا ثبوتوں سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ آزاد صاحب کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کیا عقیدہ ہے۔ آپ سے جب میری گفتگو ہوئی تو آپ نے واضح کیا کہ آپ سنی العقیدہ ہیں اور ہر اُس عقیدہ کو باطل سمجھتے ہیں جس میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختمِ نبوت پر ایمان و اقرار نہ کیا گیا ہو۔ہمارے یہاں سوشل میڈیا ‘جو کہ ایک بے ہنگم ذریعہ اظہار بن چکاہے اور بلاتحقیق سوشل میڈیا پر کسی بھی شخصیت کی مخالفت اور اُس کی حمایت میں لکھ دیا جاتا ہے۔ جس سے یہ بات واضح ہے کہ تحقیق کے میدان میں ہم بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ تحقیق کے ساتھ ہی ہم اصل بات کا پتہ چلا سکتے ہیں۔ میرے خیال میں میں حتی الامکان یہ کوشش کی ہے کہ آزاد اقبال صاحب پر کچھ لوگوں کی جانب سے کیچڑ اُچھالنے کی جو کاوشیں جاری ہیں ‘اُن کا قلع قمع کیا جا سکے اور حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہیے۔آخر میں اپنی اس تحریر کا خاتمہ آزاد اقبال کی نظم ’’خود اعتمادی‘‘ کے اس شعر پر کروں گا:
ہوا یاس سے قلب آزاد میرا
مجھے تھامنے آ گیا دستِ ہادی
جس گھر کا مگر چراغ ہے تُو،تحریر:ڈاکٹرمیاں ساجد علی
