ایئر انڈیا کی فوکٹ سے دہلی جانے والی پرواز کے کپتان سے متعلق تحقیقات میں نئے اور تشویشناک انکشافات سامنے آئے ہیں۔ تحقیقات کے دوران پائلٹ کے منشیات کے استعمال اور دوران پرواز مبینہ طور پر سونے سے متعلق معلومات سامنے آئی ہیں، جس نے فضائی سفر کی حفاظت کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق کپتان نے تفتیشی حکام کے سامنے اعتراف کیا کہ وہ اپنے فیملی ڈاکٹر کے مشورے پر نیند کی گولیاں استعمال کرتا رہا ہے۔ متاثرہ پرواز کے دوران بھی اس نے مبینہ طور پر نیند کی دوا استعمال کی اور تقریباً 30 سے 35 منٹ تک سویا رہا۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ دوران پرواز پائلٹ نے عملے کے ایک رکن سے سگریٹ نوشی کے لیے لائٹر طلب کیا تھا۔ اس معاملے سے متعلق خبر ایجنسی رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ کپتان کا منشیات ٹیسٹ بھی مثبت آیا، جس میں چرس کے استعمال کی تصدیق ہوئی۔
متاثرہ پرواز تھائی لینڈ کے سیاحتی شہر فوکٹ سے دہلی جا رہی تھی جب طیارے کو بھارتی ریاست اوڈیشہ کے اوپر پرواز کے دوران اچانک اور طویل اونچائی میں تبدیلی کا سامنا کرنا پڑا۔ طیارے کو شدید جھٹکے لگنے کے نتیجے میں 13 مسافر اور عملے کے چار ارکان زخمی ہوئے۔
بھارتی شہری ہوا بازی کی وزارت نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ایک ذریعے کے مطابق وزارت نے اس معاملے پر ایئر انڈیا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کیمبل ولسن کو بھی طلب کیا۔ کیمبل ولسن نے بتایا کہ ایئرلائن نے وزارت کو تحقیقات کی پیش رفت سے آگاہ کر دیا ہے۔
نشے میں دھت ایئرانڈیا کا پائلٹ دورانِ پرواز سوتا رہا
