امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ ہوگیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق امریکی بحریہ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ یو ایس ایس جارج واشنگٹن گزشتہ ہفتے ویتنام کے شہر دا نانگ سے روانہ ہوا تھا اور اب آبنائے ملاکا تک پہنچ چکا ہے۔امریکی عہدیدار کے مطابق طیارہ بردار بحری جہاز کا رخ بحرِ ہند کی جانب ہے، جہاں سے اس کی مشرق وسطیٰ کی جانب پیش قدمی متوقع ہے۔دوسری جانب امریکی میڈیا نے طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر سپلائی، خوراک اور تعینات اہلکاروں کو درپیش ذہنی صحت کے مسائل سے متعلق رپورٹس بھی سامنے آنے کا دعویٰ کیا ہے۔رپورٹس کے مطابق تقریباً 5 ہزار امریکی سیلرز اور میرینز مسلسل 250 دن سے ابراہم لنکن پر تعینات ہیں، جبکہ بعض اہلکار 260 سے زائد دن سمندر میں گزار چکے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے جہاز پر خراب حالات سے متعلق رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابراہم لنکن پر تعینات اہلکار طویل عرصے تک سمندر میں رہنے کے باوجود پُرعزم اور اپنی ذمہ داریاں انجام دینے کے لیے تیار ہیں۔سینٹکام کے مطابق 3 اگست کو سمندر میں گرنے والے ایک اہلکار کو بحفاظت نکال لیا گیا تھا۔یو ایس ایس جارج واشنگٹن کی مشرق وسطیٰ کی جانب روانگی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں امریکی عسکری موجودگی اور بحری سرگرمیوں پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جارہی ہے۔
