مشیرِ وزیراعظم اور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے واضح کیا ہے کہ حکومت تمام سیاسی جماعتوں سے بات چیت کی حامی ہے، تاہم تحریک انصاف کو مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے اپنا غیر سیاسی رویہ ترک کرنا ہوگا۔
ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ 9 مئی کو دفاعی تنصیبات پر حملوں کے بعد آئین و قانون سیاسی سرگرمیوں کی حدود طے کرتا ہے، جبکہ ملک دشمن مواد باہر بھیجنے کی صورت میں قیدیوں کی ملاقاتوں پر نظر رکھنا ریاست کا حق ہے مسلم لیگ ن کے قائدین میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف نے ہمیشہ سیاسی دشمنیوں اور تلخیوں کو ختم کرنے کے لیے تمام جماعتوں کو ساتھ ملانے کی بات کی ہےاس وقت پی ٹی آئی پر ‘9 مئی’ کے سنگین الزامات عائد ہیں، جب ایک سیاسی ٹولے نے دفاعی ادارے پر براہِ راست حملہ کیا، آئین و قانون جمہوریت میں سیاسی سرگرمیوں کی سہولت تو دیتا ہے لیکن ریاست پر حملے کی اجازت ہرگز نہیں دیتا، اس لیے مذاکرات کا آغاز صرف اسی وقت ممکن ہے جب پی ٹی آئی سیاسی روئیے کا مظاہرہ کرے۔
عمران خان اور دیگر رہنماؤں کی جیل میں سہولیات اور ملاقاتوں کے حوالے سے سینیٹر رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اگر کسی قیدی کو اس کے بنیادی حقوق میسر نہیں تو اسے قانون کے مطابق عدالتوں سے رجوع کرنا چاہیے،اگر جیل ملاقاتوں کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسا مواد باہر تشر کیا جائے جس سے ملک کی سلامتی کو نقصان پہنچتا ہو، تو ایسی سرگرمیوں کی روک تھام اور نگرانی کرنا ریاست کا آئینی حق اور ذمہ داری بن جاتی ہے۔
مملکت میں نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کی تشکیل سے متعلق اٹھنے والے سوالات پر مشیرِ وزیراعظم نے حتمی موقف دیتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے فی الوقت حکومت کی جانب سے کوئی باقاعدہ منصوبہ بندی یا تجویز زیرِ غور نہیں ہےبستی میں کوئی آگ نہیں لگی، محض آگ کا شور مچایا جا رہا ہے’5 وفاقی وزرا نے بھی محض بیان بازی کے علاوہ کوئی باضابطہ منصوبہ یا دستاویز پیش نہیں کی۔
عبد العلیم خان کی جانب سے 32 صوبوں کی بات پر انہوں نے کہا کہ بغیر کسی تحریری مسودے کے محض بیانات سے صوبے نہیں بنتے،مصطفیٰ کمال کا معاملہ محض کراچی کو وفاق کا حصہ بنانے یا سندھ سے الگ کرنے تک محدود ہے۔فی الوقت کوئی 20، کوئی 28، تو کوئی 29 صوبوں کی غیر واضح باتیں کر رہا ہے، لیکن جب تک تمام فریقین مل بیٹھ کر سنجیدہ مسودہ تیار نہیں کرتے، بات آگے نہیں بڑھ سکتی۔
رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ مسلم لیگ ن کا منشور عام آدمی کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنا ہے اور ن لیگ نے اس معاملے کو 2029 تک مؤخر کرنے کی کوئی رائے نہیں دی عوام میں نئے صوبوں کا کوئی عمومی مطالبہ موجود نہیں، ماضی سے اب تک صرف ‘صوبہ ہزارہ’ کی بات ہی سننے میں آئی ہے۔
