انڈونیشیا کے جزیرے فلورس میں آنے والے طاقتور زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں کم از کم 53 افراد ہلاک جبکہ تقریباً 5 ہزار افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ امدادی کارکن ملبے تلے دبے اور لاپتا افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔
7.7 شدت کا زلزلہ ہفتے کی صبح مقامی وقت کے مطابق پانچ بجے سے کچھ دیر قبل آیا۔ زلزلے کا مرکز سطح زمین سے صرف 15 کلومیٹر گہرائی میں تھا، جس کے باعث جھٹکے انتہائی شدید محسوس کیے گئے۔
انڈونیشیا کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق ابتدائی اطلاعات میں 900 سے زائد مکانات اور سیکڑوں دیگر عمارتوں کو شدید نقصان پہنچنے کی تصدیق ہوئی ہے۔ مرکزی زلزلے کے بعد 341 آفٹر شاکس بھی ریکارڈ کیے گئے، جس سے متاثرہ علاقوں میں خوف اور بے چینی مزید بڑھ گئی۔
زلزلے کے جھٹکے فلورس سے دور مغربی علاقے بیما تک محسوس کیے گئے، جبکہ مانگگارائی صوبہ سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تباہی کی مکمل شدت کا اندازہ لگانے کا عمل ابھی جاری ہے اور ہلاکتوں اور نقصانات میں اضافے کا خدشہ ہے۔
اسی دوران انڈونیشیا کے ایک اور علاقے میں 6.9 شدت کا زلزلہ بھی ریکارڈ کیا گیا، جس نے ایک بار پھر اس خطے کی جغرافیائی حساسیت کو نمایاں کر دیا۔ انڈونیشیا بحرالکاہل کے معروف رنگ آف فائر میں واقع ہے، جہاں زلزلے اور آتش فشانی سرگرمیاں اکثر رونما ہوتی رہتی ہیں۔
یہ زلزلہ انڈونیشیا میں 2022 کے بعد آنے والے مہلک ترین زلزلوں میں شمار کیا جا رہا ہے، جب مغربی جاوا میں شدید زلزلے کے باعث سینکڑوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔
انڈونیشیا میں 7.7 شدت کا ہولناک زلزلہ، 53 افراد ہلاک، 5 ہزار بے گھر
