ہم اکثر حکومتی پالیسیوں، بجٹ کے اعداد و شمار، مہنگائی کی شرح اور معیشت کے اتار چڑھاؤ پر گفتگو کرتے ہیں۔ ٹی وی اسکرینوں پر ماہرین گھنٹوں بحث کرتے ہیں کہ ملک کی معیشت کس سمت جا رہی ہے، لیکن کبھی کبھی کسی ملک کی اصل معاشی تصویر کسی رپورٹ میں نہیں، ایک چھوٹی سی ریڑھی کے پیچھے کھڑے اس شخص کے چہرے پر لکھی ہوتی ہے جو صبح سویرے اپنا سامان لے کر نکلتا ہے اور شام کو چند سو روپے کما کر گھر لوٹتا ہے۔
میرا ایک دہاڑی دار ریڑھی والا ہے۔ وہ کوئی سرمایہ دار نہیں، نہ اس کے پاس بچت کا بڑا ذخیرہ ہے، نہ کاروبار کے نقصان کو برداشت کرنے کی استطاعت۔ اس کی پوری معیشت ایک ریڑھی، چند سبزیوں، پھلوں یا روزمرہ کی اشیا اور اس امید پر قائم ہے کہ آج کا دن کل سے بہتر ہوگا۔
مگر آج اس کے لیے ہر دن ایک نیا امتحان ہے۔
صبح منڈی سے سامان مہنگا ملتا ہے، راستے میں کرایہ بڑھ چکا ہے، گھر پہنچ کر بچوں کی فیس، بجلی کا بل، گیس، دوائی، راشن اور مکان کا خرچ منتظر ہوتا ہے۔ اگر وہ قیمت بڑھاتا ہے تو گاہک ناراض ہوتے ہیں، اگر قیمت نہیں بڑھاتا تو اس کا اپنا منافع ختم ہوجاتا ہے۔ یوں مہنگائی کا پہیہ سب سے پہلے اسی غریب کے سینے پر چلتا ہے۔
ہم میں سے بہت سے لوگ مہنگائی کو صرف اپنی جیب پر محسوس کرتے ہیں، مگر ایک دہاڑی دار کے لیے مہنگائی کا مطلب ہوتا ہے ایک وقت کی روٹی کم، بچے کی خواہش ادھوری، علاج مؤخر اور گھر کے بجٹ میں ایک اور سوراخ۔
سطحِ غربت صرف ایک معاشی اصطلاح نہیں۔ یہ اس ماں کی آنکھ ہے جو بچوں کے لیے کھانا بناتے ہوئے سوچتی ہے کہ کل کا خرچ کہاں سے آئے گا۔ یہ اس باپ کی خاموشی ہے جو بچوں کی فیس کا تقاضا سن کر نظریں چرا لیتا ہے۔ یہ اس مزدور کے پسینے میں چھپی ہوئی بے بسی ہے جو بیماری کے باوجود کام پر جاتا ہے، کیونکہ اس کے گھر میں چھٹی کا مطلب آمدن کا ختم ہوجانا ہے۔
حکومتیں پالیسیاں بناتی ہیں، اور پالیسی بننا ضروری بھی ہے؛ مگر کسی بھی پالیسی کی اصل کامیابی اس وقت ثابت ہوتی ہے جب اس کا اثر عام آدمی کے چولہے تک پہنچے۔ اگر اعداد و شمار بہتر ہو جائیں لیکن ریڑھی والے کی آمدن اور گھر کے اخراجات کا فرق بڑھتا جائے تو ہمیں رک کر سوچنا ہوگا کہ ترقی کا فائدہ آخر کس تک پہنچ رہا ہے؟
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ہر مہنگی چیز خریدنے سے انکار کرنے والا شخص کنجوس نہیں ہوتا۔ بعض اوقات وہ صرف اپنی استطاعت کے اندر زندہ رہنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔
میرا ریڑھی والا شاید معاشی اصطلاحات نہیں جانتا، اسے افراطِ زر، مالیاتی پالیسی اور جی ڈی پی کے پیچیدہ مفہوم معلوم نہیں۔ لیکن اسے یہ ضرور معلوم ہے کہ آج جتنی رقم میں وہ کل دس کلو سامان لاتا تھا، آج شاید سات کلو بھی نہ لا سکے۔ اسے یہ بھی معلوم ہے کہ بچوں کی ضرورتیں کم نہیں ہوئیں، مگر اس کی آمدن کی طاقت ضرور کم ہوگئی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں حکومتی پالیسی اور عام آدمی کی زندگی ایک دوسرے سے جڑتی ہیں۔
ایک فلاحی معاشرے کا امتحان یہ نہیں کہ اس کے بڑے شہروں میں کتنی بلند عمارتیں ہیں؛ اصل امتحان یہ ہے کہ اس کے کمزور ترین شہری کے گھر میں چولہا کتنے اطمینان سے جلتا ہے۔ ملک کی ترقی کا سب سے خوبصورت منظر وہ ہوگا جب ایک دہاڑی دار باپ شام کو گھر لوٹے تو اس کے ہاتھ میں صرف تھکن نہ ہو بلکہ اپنے بچوں کے لیے کچھ امید بھی ہو۔
ہمیں ایسی معیشت چاہیے جس میں غریب صرف زندہ رہنے کی جنگ نہ لڑے بلکہ اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کا خواب بھی دیکھ سکے۔
کیونکہ کسی ریاست کی اصل طاقت اس کے خزانے میں نہیں، اس کے عام آدمی کے چہرے کے اطمینان میں ہوتی ہے۔
اور جب تک میری ریڑھی والا خوشحال نہیں، میری گلی کا مزدور مطمئن نہیں، اور میرے محلے کا غریب اپنے بچوں کی بنیادی ضرورتیں پوری کرنے کے قابل نہیں،تب تک ہمیں اپنی پالیسیوں، ترجیحات اور ترقی کے دعووں پر سوال اٹھاتے رہنا چاہیے۔
حکومت کی پالیسی کا آخری پیمانہ دفتر کی فائل نہیں، عام آدمی کی زندگی ہے۔
