Baaghi TV

اپنے آپ کے خیر خواہ ہیں تو یہ پڑھیے،تحریر: ظفر اقبال ظفر

zafar iqbal zafar

اگر ہماری خواہشات اور آرزوئیں پوری نہیں ہو سکتیں تو ہمیں پریشانی اور افسردگی سے اپنے عرصہ حیات کو تلخ اوراپنی صورتوں کو مسخ نہیں کر لینا چاہیے ہمیں اپنے آپ پر مہربان بننا چاہیے۔ہمیں اس کے متعلق فلسفیانہ نقط نظر اختیار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔آپ کے پاس جو کچھ موجود ہے اگر آپ کی نظروں میں وہ ناکافی ہے تو آپ ساری دنیا کے بھی مالک کیوں نا ہوں آپ ہمیشہ آرزومنداور پریشان ہی رہیں گئے۔ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ اگر ہم سارے ملک کے گرد باڑ لگا کر اس کے مالک بھی بن جائیں تب بھی دن میں تین دفعہ ہی کھانا کھائیں اور ایک وقت میں ایک ہی کرسی پر بیٹھ اور ایک ہی بستر پر سو سکتے ہیں۔

اپنے بچوں کو روپے پیسے کے متعلق زمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا سیکھائیے اپنی زندگی کے بیمے کی رقم اپنی بیوہ کو یک مشت مت دلائیے۔اپنے آپ کو تاحیات خوش رکھنا ہی اصلی کامیابی ہے۔دوسال بعد میں اپنی فائل کو جانچ رہا تھا تو کچھ پریشانیوں کی نشاندہی پر لکھی فہرست میرے ہاتھ لگی جو اُس وقت میری صحت کا دیوالیہ نکالنے کی دھمکی تھی میں نے انہیں بڑے شوق و دلچسپی سے پڑھا اب مجھے معلوم ہوا کہ ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔

جب کبھی میں پریشان مایوس دُکھی ہوتا ہوں تو کچھ ہی وقت میں اپنی ساری قنوطیت اور اُداسی دُور کر سکتا ہوں میں اپنی لائبریری جاتا ہوں آنکھیں بند کرتا ہوں الماری کی جانب ہاتھ بڑھاتا ہوں جو بھی کتاب قسمت پوڑی کی طرح ہاتھ لگتی ہے اسے نکال لیتا ہوں اور بند آنکھوں سے ہی اس کتاب کو اٹکل پچو کھولتا ہوں جو صفہ بھی سامنے آئے آنکھیں کھول کے پڑھنا شروع کر دیتا ہوں ایک گھنٹے تک جوں جوں پڑھتا جاتا ہوں مجھے احساس ہونے لگتا ہے کہ دنیا ہمیشہ دُکھوں اور مصیبتوں میں گرفتار رہی ہے۔تہذیب وثقافت تباہی کے غار پر لڑکھڑاتی رہی ہے۔تاریخ کے صفات جنگ،قحط،افلاس،وباؤں،اور انسان کی انسان کے ساتھ غیر انسانیت کی داستانوں سے گونجنے لگتے ہیں۔ ایک گھنٹے تک تاریخ پڑھنے کے بعد مجھے محسوس ہونے لگتا ہے کہ آج کل بھی حالات اگرچہ خراب ہیں لیکن ان سے کہیں بہتر ہیں جو پہلے ہوا کرتے تھے مجھے اس کے مناسب تناظر میں اپنی مشکلات و مصائب کو دیکھنے اور یہ سمجھنے میں بڑی مدد ملتی ہے کہ دنیا ایک کل کی حیثیت سے مسلسل بہتر ہوتی جا رہی ہے۔تاریخ پڑھیے! دس ہزار سال کا نقطہ نظر سمجھنے کی کوشش کیجئے آپ کو ابدیت کی اصطلاح میں اپنی مشکلات بالکل ادنیٰ اور حقیر نظر آئیں گئی۔

حیرت انگیز تحریروں پر مبنی کتاب پڑھنے میں انسان اس قدر کھو جاتا ہے کہ اعصابی کشمکش کے دورے تھم جاتے ہیں۔حد سے زیادہ مایوس و قنوطی انسان کو کھیل کودکے زریعے اپنے آپ کو چست و چالاک رہنے پر مجبور کرنا چاہیے مگر عجلت،تیزی،بھاگم بھاگ،اور اعصابی کشمکش کے زیر اثر کام کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
ہر فیملی کی کفالت کرنے والا زمہ دار شخص جو ضرورتوں کے لیے وسائل کے بدوبست میں وقت سے پہلے پریشانی میں مبتلا ہو جاتا ہے مگر عین وقت پہ ضرورتیں حل پا کر پوری ہو جاتیں تو میں اپنی غیر ضروری فکر کی حماقت پر شرمندہ ہو جاتا کہ بغیر پریشانی لئے بھی ضرورتیں پوری کی جا سکتی ہیں مجھے ایڈوانس میں بندوبست کی فکر نے پریشانی دی اب جب بھی پریشانی کے اثرات زہن پہ پڑنے لگتے ہیں تو میں متعلقہ مسلے کے حل ہونے کے بعد غیر ضروری پریشانی لینے کی ندامت کو یاد کرکے زہن سے خود کو تکلیف دینے والے خیالات جھٹک دیتا ہوں۔

امن و چین کی زندگی بسر کرنے والوں کو وہ فلسفہ کبھی نہیں ملتا جو مصائب و پریشانی کی یونیورسٹی میں پڑھایا جاتا ہے۔مجبوریاں ہر روز زندگی بسر کرنا اور گزارنا سیکھاتی ہیں اس کے باوجود میں آنے والے کل کے خوف سے اپنے آج کو مصیبتیں ادھار لینے نہیں دیتا۔مستقبل کا یہ مدہم اندیشہ بندے کو بزدل بنا دیتا ہے جبکہ میں مصیبتوں سے لڑنے کے لیے قوت و توانائی سنبھال کر رکھتا ہوں تو چھوٹی چھوٹی کمزور قوت جھنجھلاہٹوں اور پریشانیاں اثر انداز نہیں ہوتیں۔

میں نے اپنے اندر خوشیوں اور مسرتوں کی عمارت گرنے کے بعدتنہائی کے ویران کھنڈروں کی صورت دیکھ چکا ہوں اب میں لوگوں سے زیادہ توقع نہیں رکھتااس لیے اُس دوست کی صحبت میں بھی محفوظ ہوں،جو مجھ سے وفادار نہیں یا کوئی واقف کار جو ڈینگیں مار رہا ہو۔میں نے ظرافت کا احساس حاصل کیا ہے جب کوئی اپنے مصائب پر رونے کی بجائے ان کا مزاق اُڑا نے لگے توکوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی۔میں اپنی مشکلات پر بھی پشیمان نہیں کیونکہ میں نے ان کے زریعے زندگی کے قیمتی لمحوں کو پایا اوریہ چھوٹی موٹی مشکلات اس کی مناسب قیمت تھیں۔

پریشانی میں زہنی سکون متزلزل ہو تو افسردگیوں کا تعاقب کرنے کے لیے خارجی جسمانی کام کی مدد لیں۔کھلی فضاء میں دوڑ لگائیں گھاس پہ ننگے پاؤں چلیں گہری سانسیں لیں کوئی کھیل کھیلیں جسمانی ورزش زہنی نقطہ نظر پر چھائے زہریلے خیالات کو صاف کر دیتی ہے۔جسمانی طور پر تھک جانے سے زہن کو قانونی مسائل سے آرام ملتا ہے۔

اس لیے جب ان کی طرف پلٹا جائے تو نیا جوش،نیا ولولہ،نئی قوت ملتی ہے۔جسمانی مصروفیات میں پریشانی اپنے اثرارت کھو بیٹھتی ہے اور تکالیف کے بڑے بڑے پہاڑ چھوٹی چھوٹی خشک پہاڑیاں بن جاتے ہیں جنہیں نئے خیالا ت اور افعال جلد ہموار کر لیتے ہیں۔پریشانی کے زہر کا تریاق ورزش ہے،عالم پریشانی میں اپنے پٹھوں کو زیادہ اور دماغ کو کم استعمال کیجئے۔اب مفید تحریر کے اختتام پر میری رُوحانی تجویز بھی دامن شعور میں رکھ لیجئے۔

میری زندگی نے خدا کے متعلق یہ راز تلاش کیا ہے کہ اس دنیا میں ہم نے خدا کو اپنے ساتھ رکھنا ہے اور اخرت میں خدا ہمیں اپنے ساتھ رکھے گا۔یہ احساس زندگی کی بڑی سے بڑی مشکل،مصیبت، امتحان سے کامیاب گزارنے والی ایک طاقت کا نام ہے۔روحانی طاقت کے اس دریا کو اس جملے کے کوزے میں قید کر لیجئے کہ۔جس نے مجھے اس دنیا میں بھیجا ہے وہ میرا خدامیرے ساتھ ہے۔

More posts