Baaghi TV

آخری نقش،تحریر:رشنا اختر

دہلی کی اس شام میں کچھ ایسا تھا جیسے سورج بھی قلعۂ شاہی کی فصیلوں سے رخصت ہوتے ہوئے ٹھہر گیا ہو۔
لال پتھر کی بلند دیواروں پر ڈوبتی ہوئی دھوپ کے آخری ٹکڑے ٹھہرے تھے۔ سنگِ مرمر کے جھروکوں میں سنہری روشنی کے ذرے تیر رہے تھے اور دریائے جمنا کے ساکت پانی پر شاہی محل کے گنبدوں کا عکس یوں لرز رہا تھا جیسے کسی بوڑھے بادشاہ کی آنکھ میں ماضی کی کوئی تصویر آخری بار جاگ اٹھی ہو۔محل کے اندر زندگی اب بھی پوری آب و تاب سے سانس لیتی دکھائی دیتی تھی۔

دیوانِ خاص کے ستونوں پر بیل بوٹے کندہ تھے۔ محرابوں کے اندر آئینہ کاری کے ٹکڑے چراغوں کی روشنی کو سینکڑوں ستاروں میں تقسیم کر رہے تھے۔ سنگِ مرمر کی جالیوں سے چھن کر آتی ہوا میں عطرِ گلاب چنبیلی اور صندل کی خوشبو گھلی ہوئی تھی مگر اس تمام حسن کے نیچے ایک ایسی خاموشی تھی جسے صرف وہی سن سکتا تھا جو زوال کی چاپ سے واقف ہو۔میر فرید اس خاموشی کو سن رہا تھا۔

وہ شاہی محل کا بوڑھا نقاش تھا۔چالیس برس سے اس کے ہاتھ محل کی دیواروں پر پھول بناتے آئے تھے۔ اس نے بادشاہوں کو آتے دیکھا تھا۔ شہزادوں کو جوان ہوتے دیکھا تھا۔ بیگمات کو ریشم کے پردوں میں ہنستے دیکھا تھا اور پھر انہی پردوں کے پیچھے آنسو چھپاتے بھی دیکھے تھے۔اس کے ہاتھ میں باریک قلم تھا اور سامنے سنگِ مرمر کی ایک تختی۔وہ اس پر بیل بوٹا بنا رہا تھا۔پاس ہی اس کا بیس سالہ شاگرد حسن بیٹھا رنگ گھول رہا تھا۔
"استاد!”
حسن نے اچانک سر اٹھایا۔
"جی؟”
"آپ ہر پھول کے درمیان اتنی خالی جگہ کیوں چھوڑتے ہیں؟”
میر فرید نے قلم روک لیا۔
کچھ دیر وہ نقش کو دیکھتا رہا۔
پھر ہلکا سا مسکرایا۔
"تاکہ پھول سانس لے سکے۔”
حسن ہنسا۔
"پھول بھی کہیں سانس لیتا ہے؟”
میر فرید نے اس کی طرف دیکھا۔
"عمارتیں بھی سانس لیتی ہیں، حسن۔”
"عمارتیں؟”
"ہاں۔ جب ان میں لوگ محبت سے رہتے ہیں تو ان کی دیواروں میں زندگی ہوتی ہے۔ جب لوگ صرف اپنی شان دکھانے کے لیے محل بناتے ہیں تو وہ عمارتیں باہر سے خوبصورت اور اندر سے خالی ہو جاتی ہیں۔”
حسن نے بات کو مذاق سمجھ کر دوبارہ رنگ گھولنا شروع کر دیا۔
میر فرید نے پھر اپنی تختی پر قلم رکھ دیا۔
مگر اس بار اس کے ہاتھ میں لرزش تھی۔
محل میں اس رات جشن تھا۔شاہی دربار کے لیے قندیلیں جلائی گئی تھیں۔ چھتوں سے لٹکتے فانوسوں میں موم بتیاں روشن تھیں۔ دیوانِ خاص میں قیمتی قالین بچھائے گئے تھے۔ درباری مخملی جاموں ریشمی قباؤں اور زری کے کام سے آراستہ لباس پہنے قطار در قطار کھڑے تھے۔شاہی دربار میں داخل ہونے والوں کے لباس سے ہی ان کے مرتبے کا اندازہ ہو جاتا تھا۔

کسی کے کمر بند میں زمرد جڑا تھا۔ کسی کی پگڑی میں موتی۔ کسی کے جبے پر سنہری تار سے بیل بوٹے بنے تھے اور کسی کی آستین پر باریک کشیدہ کاری ایسی تھی جیسے کپڑے پر دھاگے نہیں روشنی بُنی گئی ہو۔
زنان خانے کی طرف سے خوشبوؤں کے جھونکے آ رہے تھے۔بیگمات نے نفیس ململ، ریشم اور زری کے لباس پہن رکھے تھے۔ موتیوں کے ہار گردنوں میں جگمگا رہے تھے۔ نتھوں میں ہیرے روشنی پکڑ رہے تھے اور چوڑیوں کی مدھم جھنکار محل کی خاموش راہداریوں میں تیر رہی تھی۔محفل میں موسیقی شروع ہوئی۔ستار کی آواز بلند ہوئی۔پھر طبلے کی تھاپ۔
پھر ایک رقاصہ نے آہستہ آہستہ قدم اٹھایا۔سب کی نگاہیں اس پر جم گئیں۔
میر فرید دور ایک ستون کے سائے میں کھڑا تھا۔
وہ اس حسن کو دیکھ رہا تھا مگر اس کے چہرے پر خوشی نہیں تھی۔اسے محسوس ہو رہا تھا جیسے محل اپنی آخری شام منا رہا ہو۔حسن اس کے پاس آیا۔
"استاد آپ خوش کیوں نہیں؟”
میر فرید نے سامنے دیکھا۔
"تمہیں یہ سب خوبصورت لگتا ہے؟”
"بہت۔”
"تو خوش ہو جاؤ۔”
"آپ کو خوبصورت نہیں لگتا؟”
میر فرید نے آہستہ سے کہا:
"خوبصورتی مجھے آج بھی پسند ہے حسن۔ مجھے صرف یہ ڈر ہے کہ کہیں ہم خوبصورتی کو بچانے کے چکر میں حقیقت نہ کھو دیں۔”
حسن کچھ نہ سمجھا۔
اس رات بادشاہ نے دربار میں اعلان کیا کہ محل کے ایک نئے حصے کی تعمیر ہوگی۔
نیا باغ۔نئی بارہ دری۔
نئی سنگِ مرمر کی عمارت۔نئے فوارے۔
درباریوں نے تالیاں بجائیں۔وزیر نے تعریفوں کے پل باندھ دیے۔
"جہاں پناہ! آپ کا ذوقِ تعمیر تاریخ میں مثال بنے گا۔”دوسرے نے کہا۔
"دنیا نے ایسا باغ کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔”
تیسرے نے جھک کر کہا۔
"آپ کے عہد کو لوگ سنہری دور کہیں گے۔”
بادشاہ مسکرایا۔
میر فرید نے نظریں جھکا لیں۔اسے معلوم تھا کہ شاہی خزانہ خالی ہو رہا ہے۔سپاہیوں کی تنخواہیں کئی ماہ سے رکی ہوئی تھیں۔بازاروں میں مہنگائی تھی۔دہلی کے باہر کئی علاقے شاہی اختیار سے نکل چکے تھے مگر محل کے اندر نئے فواروں کے نقشے بن رہے تھے۔ایک دن حسن نے پوچھا۔
"استاد اگر خزانہ کم ہے تو پھر نیا محل کیوں بن رہا ہے؟”
میر فرید نے جواب دیا۔
"کیونکہ زوال ہمیشہ شور سے نہیں آتا حسن۔ کبھی کبھی وہ سنگِ مرمر کی نئی دیواروں کے پیچھے خاموشی سے داخل ہوتا ہے۔”
کچھ ماہ گزرے۔نیا باغ تیار ہو گیا۔اس کے درمیان ایک وسیع حوض تھا جس میں سفید سنگِ مرمر کے فوارے لگائے گئے تھے۔ چاروں طرف صنوبر کے درخت، گلاب کی کیاریاں اور سنگی راستے تھے۔ بارہ دری کے ستونوں پر رنگین پتھروں کی جڑائی کی گئی تھی۔میر فرید نے اس عمارت کی آخری محراب پر بیل بوٹا بنایا۔
اس نے باریک قلم سے ایک چھوٹا سا پھول بنایا۔
حسن نے پوچھا
"یہ کون سا پھول ہے؟”
"یہ؟”
میر فرید نے کہا۔
"یہ امید ہے۔”
"امید بھی کوئی پھول ہے؟”
"ہاں۔ مگر یہ صرف وہاں کھلتا ہے جہاں انسان کو لگتا ہے کہ سب کچھ ختم ہو رہا ہے۔”
اسی دوران محل میں ایک نئی شخصیت آئی۔
شہزادی زہرہ۔وہ بادشاہ کی پوتی تھی۔دوسری شہزادیوں کے برعکس اسے زیورات سے زیادہ کتابوں باغوں اور عمارتوں میں دلچسپی تھی۔وہ اکثر میر فرید کے پاس آ بیٹھتی۔ایک دن اس نے پوچھا۔
"میر صاحب یہ جالی کس نے بنائی؟”
"میرے استاد نے۔”
"اور یہ محراب؟”
"میرے استاد کے استاد نے۔”
"اور یہ محل؟”
میر فرید نے کچھ دیر خاموش رہ کر کہا۔
"اسے بنانے والوں کے نام اب کسی کو یاد نہیں۔”
شہزادی نے حیرت سے کہا۔
"لیکن عمارت تو موجود ہے۔”
"عمارتیں رہ جاتی ہیں بی بی۔ آدمی چلے جاتے ہیں۔”
"پھر آدمی کیوں بناتا ہے؟”
میر فرید نے جالی کے سوراخوں سے باہر دیکھا۔
جمنا پر شام اتر رہی تھی۔
"شاید اس لیے کہ اسے یقین ہوتا ہے کہ جو چیز وہ بنائے گا وہ اس کے بعد بھی اس کا نام زندہ رکھے گی۔”
شہزادی مسکرائی۔
"تو آپ بھی چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کو یاد رکھیں؟”
میر فرید نے سر ہلایا۔
"نہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ لوگ ان عمارتوں کو دیکھ کر یہ سمجھیں کہ کبھی یہاں ایسے لوگ رہتے تھے جنہیں حسن کی قدر تھی۔”

مگر شہر بدل رہا تھا۔محل کی روشنیاں وہی تھیں مگر بازاروں کی رونق کم ہو رہی تھی۔شاہی باغوں میں فوارے چل رہے تھے مگر شہر کے کئی حصوں میں پانی نایاب تھا۔
محل کے باورچی خانوں میں سینکڑوں پکوان تیار ہوتے مگر شہر کے غریب محلوں میں چولہے ٹھنڈے پڑتے جا رہے تھے۔ دربار میں شاعری ہوتی۔موسیقی ہوتی۔رقص ہوتا اور محل کے باہر سپاہیوں کے گھوڑوں کے لیے چارہ تک مشکل سے ملتا۔
ایک دن میر فرید بازار سے واپس آ رہا تھا کہ اس نے دیکھا ایک بوڑھا سپاہی دکان کے باہر کھڑا روٹی مانگ رہا تھا۔وہی سپاہی جسے کبھی شاہی جلوس میں سب سے آگے گھوڑا دوڑاتے دیکھا تھا۔
میر فرید رک گیا۔سپاہی نے اسے پہچان لیا۔
"میر صاحب!”
"تم؟”
سپاہی ہنسا۔
"اب مجھے کون پہچانتا ہے؟”
میر فرید کے پاس جواب نہیں تھا۔سپاہی نے کہا۔
"محل میں آج پھر جشن ہے نا؟”
"ہاں۔”
وہ تلخی سے مسکرایا۔
"اچھا ہے۔ کم از کم بادشاہ کو معلوم تو رہے کہ سلطنت ابھی زندہ ہے۔”
میر فرید نے اس کے ہاتھ میں روٹی رکھ دی۔
واپس آتے ہوئے اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ قلعے کی بلند فصیلیں شہر کو محفوظ نہیں کر رہیں۔
وہ صرف شہر کی غربت کو محل کی آنکھوں سے چھپا رہی ہیں۔پھر ایک صبح شہر میں خبر پھیلی۔دشمن قریب آ پہنچا ہے۔محل میں اضطراب پھیل گیا۔
دربار میں پہلی بار شاعری کے بجائے جنگ کی بات ہونے لگی مگر خزانہ خالی تھا۔سپاہی کم تھے اور درباری اب بھی ایک دوسرے سے زیادہ قیمتی لباس پہننے میں مصروف تھے۔اسی رات میر فرید کو حکم ملا کہ شاہی تخت کے پیچھے والی دیوار پر سونے کی نئی جڑائی کی جائے۔وہ دیر تک اس دیوار کو دیکھتا رہا۔پھر اس نے قلم رکھ دیا۔حسن حیران تھا۔
"استاد؟”
"میں یہ کام نہیں کروں گا۔”
"کیوں؟”
"کیونکہ جب شہر کی دیواریں بھوک سے چیخ رہی ہوں تو محل کی دیوار پر سونا چڑھانا مجھے گناہ لگتا ہے۔”
حسن نے ڈرتے ہوئے چاروں طرف دیکھا۔
"آہستہ بولیں!”
میر فرید ہنس پڑا۔
"اب کس سے ڈرنا؟”
"بادشاہ سے۔”
میر فرید نے جواب دیا
"بادشاہ سے تو عمر بھر ڈرتا رہا ہوں حسن۔ اب اپنے ضمیر سے ڈرنے لگا ہوں۔”
چند دن بعد حملہ ہوا۔
قلعے کے باہر توپوں کی گھن گرج سنائی دینے لگی۔محل کے فانوس لرزنے لگے۔آئینوں میں چراغوں کے عکس کانپنے لگے۔زنان خانے میں چیخیں بلند ہوئیں۔درباری بھاگنے لگے۔جن لوگوں نے کل تک بادشاہ کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے تھے وہ آج اپنے خزانوں اور زیورات کے صندوق اٹھا کر محفوظ راستے تلاش کر رہے تھے۔شہزادی زہرہ میر فرید کے پاس آئی۔اس کے چہرے سے رنگ اڑ چکا تھا۔
"میر صاحب!”
"بی بی؟”
"کیا قلعہ بچ جائے گا؟”
میر فرید نے باہر دیکھا۔
دور آسمان پر دھواں اٹھ رہا تھا۔اس نے بہت دھیرے سے کہا۔
"قلعے پتھروں سے نہیں بچتے بی بی۔ انہیں لوگوں کے حوصلے بچاتے ہیں۔”
"اور ہمارے لوگ؟”
میر فرید خاموش رہا۔
یہ سوال ہی دراصل جواب تھا۔

رات گہری ہو گئی۔محل کی بہت سی قندیلیں بجھ چکی تھیں۔ایک زمانے میں جس دیوانِ خاص میں ہزاروں چراغ روشن ہوتے تھے وہاں اب چند چراغ ٹمٹما رہے تھے۔
میر فرید اکیلا بارہ دری میں بیٹھا تھا۔سامنے سنگِ مرمر کا حوض تھا۔فوارے بند تھے۔پانی ساکت تھا۔اس نے اپنی جیب سے وہ چھوٹا سا نقش نکالا جو وہ برسوں پہلے بنا چکا تھا۔ایک پھول۔اس کے درمیان ایک خالی جگہ۔حسن نے پوچھا تھا۔
"یہ خالی کیوں ہے؟”
میر فرید نے کہا تھا۔
"تاکہ پھول سانس لے سکے۔”
آج اسے سمجھ آیا کہ اس پھول کے اندر جو خالی جگہ تھی وہ صرف پھول کی سانس نہیں تھی۔وہ آنے والے زمانے کی گنجائش تھی۔ماضی کے بعد مستقبل کے لیے چھوڑی ہوئی جگہ۔صبح ہوئی تو قلعے کے دروازے کھلے تھے۔شاہی جھنڈا اب بھی فصیل پر تھا مگر اس میں پہلے جیسی شان نہیں رہی تھی۔محل کے صحن میں بکھرے پھولوں پر رات کی گرد جمی تھی۔کئی فانوس ٹوٹ چکے تھے۔سنگِ مرمر کی جالی پر ایک جگہ گہرا نشان پڑ گیا تھا مگر عجیب بات تھی۔اس شکستہ جالی سے آنے والی صبح کی روشنی پہلے سے زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی۔شہزادی زہرہ میر فرید کے پاس آئی۔
"ہم ہار گئے؟”
میر فرید نے کچھ دیر سوچا۔
"ایک سلطنت ہاری ہے۔”
"اور عمارتیں؟”
"وہ رہیں گی۔”
"اور لوگ؟”
میر فرید نے کہا۔
"لوگ بھی رہیں گے مگر ان کے دلوں میں یہ سوال بھی رہے گا کہ اتنی بڑی سلطنت اتنی خاموشی سے کیسے ڈوب گئی؟”
شہزادی نے آنکھیں جھکا لیں۔
"کیا جواب ہے اس کا؟”
میر فرید نے ٹوٹے ہوئے فانوس کی طرف دیکھا۔
"جب حکمران اپنے محل کی روشنی کو سلطنت کی روشنی سمجھنے لگے تو زوال دروازے پر نہیں، تخت کے نیچے بیٹھا ہوتا ہے۔”
برسوں بعد دہلی بدل چکی تھی۔نئے لوگ آ گئے تھے۔نئے حکمران۔نئی زبانیں۔نئے لباس۔نئی حکومتیں مگر قلعے کی دیواریں اب بھی کھڑی تھیں۔
ایک دن ایک نوجوان مسافر اس پرانے محل میں داخل ہوا۔وہ سنگِ مرمر کی جالیوں کو دیکھتا ہوا محرابوں کو چھوتا ہوا دیوانِ خاص تک پہنچا۔وہاں ایک بوڑھا شخص بیٹھا تھا۔بال سفید۔ہاتھ میں قلم۔وہ کسی پتھر پر نقش بنا رہا تھا۔مسافر نے پوچھا۔
"بابا یہاں پہلے کون رہتا تھا؟”
بوڑھے نے سر اٹھایا۔
یہ حسن تھا۔
میر فرید کا شاگرد۔اب خود بوڑھا ہو چکا تھا۔
اس نے مسافر کی طرف دیکھا اور مسکرا دیا۔
"یہاں بادشاہ رہتے تھے۔”
"بہت امیر ہوں گے؟”
"بہت۔”
"اور یہ محل کس نے بنایا؟”
حسن نے دیوار پر انگلی پھیری۔
"ان لوگوں نے جن کے نام تاریخ میں کم رہ گئے اور ان کے ہاتھوں کے نشان ان دیواروں پر زیادہ۔”

مسافر نے پوچھا۔
"پھر ان کی سلطنت کہاں گئی؟”حسن نے سامنے خاموش کھڑے محل کو دیکھا۔
کچھ لمحے تک کچھ نہ بولا۔پھر کہا۔

"سلطنتیں ختم ہو جاتی ہیں، بیٹا۔”
"مگر؟”
"مگر حسنِ تعمیر، فن محبت اور انسان کے ہاتھ سے نکلا ہوا کمال کبھی کبھی سلطنت سے زیادہ عمر پاتا ہے۔”
وہ اٹھا اور دیوار پر بنے ایک پرانے پھول کے پاس گیا۔پھول کے بیچ میں ایک چھوٹی سی خالی جگہ تھی۔مسافر نے پوچھا۔
"یہ جگہ خالی کیوں ہے؟”
حسن نے مسکرا کر کہا۔
"تاکہ پھول سانس لے سکے۔”
اور پھر وہ کچھ دیر خاموش رہا۔
شاید اسے اپنے استاد کی آواز سنائی دے رہی تھی۔دور کہیں جمنا بہہ رہی تھی۔محل کے گنبد پر شام اتر رہی تھی۔وہی گنبد جس نے کبھی بادشاہوں کے تاج دیکھے تھے۔وہی محرابیں جن کے نیچے کبھی ریشمی لباس سرسراتے تھے۔وہی جالیاں جن کے پیچھے کبھی شہزادیاں اپنے خواب چھپایا کرتی تھیں اور وہی سنگِ مرمرجس نے شان و شوکت بھی دیکھی تھی۔عیش و عشرت بھی۔محبت بھی۔
سازش بھی اور زوال بھی۔شام کی آخری کرن نے جب اس پھول کو چھوا تو اس کے بیچ کی خالی جگہ اچانک روشن ہو گئی۔یوں لگا جیسے صدیوں پرانا محل آخری بار سانس لے رہا ہو اور شاید یہی تاریخ کا سب سے بڑا فریب ہے۔
سلطنتیں مٹ جاتی ہیں۔ تخت خالی ہو جاتے ہیں۔ لباس گرد میں اتر جاتے ہیں مگر انسان کے ہاتھ سے نکلا ہوا حسن کبھی کبھی اپنے خالق کی قبر سے بھی زیادہ دیر زندہ رہتا ہے۔

More posts