اجکل جسطر ح مزاح کے ساتھ مزاخ ہو رہا ہے وہ بذریعہ کتاب چہرہ با آ سانی سنا دیکھا پڑھا جا سکتا ہے جس کی تفصیل یہاں ضروری نہیں البتہ یہ ہے کچھ نام ایسے ہیں جو واقعی مزاحیہ ادب میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں
جدید جدیدیئت ماہ بعد جدید۔ لسانی افکار لحمہ بہ لمحہ ہم تک پہنچ رہے ہیں اور کہیں کہیں لسانی اعتبار کو جدیدیت کا لبادہ اوڑھے تسلیم کرنے کی ناکام کوشش ہو رہی ہے جو کہ صرف لسانی اعتبار سے قبول کی جاسکتی ہے۔ شعر یا غزل کے جدید ہونے کے طور الگ معیار ہے جو بہت کم نظر آ تا ہے ایسے مزاح نگاروں کی صف ایک ایسا شاعر بھی ہے ہے جو لسانی طور پر مزاح میں ایک نیا پن لانے میں کامیاب دیکھائی دیتا ہے اس کے ہاں
لسانی اعتبار سے ایسے الفاظ موجود جو کہ اردو زبان میں ضم ہوتے ملتے ہیں جیسے ، بہن ، کی جگہ سسٹر ، ڈیٹ ، آ ڈیو ، وڈیو ، ٹچ ، اور پنجابی کے الفاظ وغیرہ شامل کر کے مزاحیہ حس کو مزید نکھارا گیا ہے۔ مزاح تحریر کرنا اور وہ بھی غزل یا قطعہ کے انداز میں انتہائی مشکل کام ہے اور جو جو لوگ مزاح لکھ رہے ہیں یقینا وہ بڑا کام کر رہے ہیں اس بڑے کام کا حصہ ندیم آ ذر بھی ہے جسکا تازہ مزاحیہ شاعری پر مشتمل مجموعہ ” سواد آگیا ” کے نام سے شائع ہوا ہے اس مجموعہ میں مزاح کی بہت سی جہتوں پر کلام شامل ہیں
کلام کے چند ایک نسخے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے جب اس کو تاڑا سواد آگیا
جس طرح اس نے جھاڑا سواد آگیا
اپنے خونخوار ہاتھوں سے پھر اس نے جب
میرے کرتے کو پھاڑا سواد آگیا
۔۔۔۔۔۔
ایک دن بیوی نے شوہر سے کہا کیا بات ہے
اس قدر گم صم تجھے پہلے کبھی نہیں دیکھا
عقد نامہ اس کے آ گے رکھ کے شوہر بولا
کب یہ ہو گا ایکسپائر اس پہ کچھ لکھا نہیں
۔۔۔۔۔
پاکستان کے تمامی بڑے چینلز پر انکا نام بخوبی گونجتا ہے
انتہائی متحرک ادبی شخصیات میں انکا شمار ہوتا ہے
کلام میں تازگی ، لطافت ، کا گہوارہ بخوبی معلوم ہو جاتا ہے ان کے کلام میں نرمی کا ایک الگ سا انداز سے
پیروڈی بھی کمال سے لکھتے ہیں اور نئے انداز میں کلام میں جدت پیدا کرتے ہوئے قاری کو حصار میں جکڑ لیتے ہیں یہ انکی خوبی ہے کہ وہ ہر ایک موضوع کو کلام کا حصہ بنانے کی مہارت رکھتے۔ اس مجموعہ میں بہت ایسا کلا م ہے جسے ہم لسانی اور ادبی جدت کے کے طور نمایاں کہہ سکتے ہیں
ندیم آ ذر کے اس خوبصورت مجموعہ کی اشاعت پر انہیں مبارک پیش کرتا ہوں اور ان کی کامرانی کی ڈھیر دعا کے ساتھ کہ انکا آئند آ نے ولا مزاحیہ مجموعہ ادبی حلقوں میں الگ سے اپنی پہچان کا مرکز رہے۔ آمین
مزاح کی دکھتی رگ کا شاعر ، تبصرہ نگار: عرفان خانی
