Baaghi TV

450شہرہ آفاق فلموں کے تاریخی رائٹر ناصر ادیب کے نام ایک شام،تحریر:ظفر اقبال ظفر

سیرت نگار میاں اسلم جاوید کی میزبانی میں سحر انگیز ملاقاتی نشست
پاکستان فلم انڈسٹری میں مولا جٹ جیسی چار سو پچاس سپر ہٹ تاریخی فلموں کے رائٹر ناصر ادیب کے اعزاز میں بحریہ ٹاون لاہور میں ایک علمی ادبی نشست کا اہتمام کیا گیاجس کی میزبانی کا اعزاز انگلینڈ میں مقیم پاکستانی،سیرت نگار، میاں محمد اسلم جاوید نے حاصل کیا۔

اس علمی ادبی فکری نشست کے دو طرفہ انتظامات انٹرنیشنل،کالم نگار،رائٹر ظفر اقبال ظفر نے کرواتے ہوئے نامور فلمی رائٹر جناب ناصر ادیب صاحب کو محترم میاں محمد اسلم کے گھر بحریہ ٹاون لاہور میں تشریف لانے کی دعوت دی جیسے ناصر ادیب صاحب نے خوش دلی کے قبول کرتے ہوئے اپنے لیے عزت و اعزاز کا مقام سمجھا۔اس نشست میں محترم امیر خان صاحب اور رائیونڈ تبلیغی مرکز کی کاروباری شخصیت جناب جاوید اقبال کبیر سے شمولیت اختیار کرتے ہوئے معزز مہمان ناصر ادیب صاحب کو میزبان میاں محمد اسلم صاحب کے ہمراہ استقبال و رُخصتی تک اپنے حسن سلوک سے چار چاند لگائے۔

اس موقع پر سیرت نگار میاں محمد اسلم جاوید صاحب نے اپنی کتاب سافع محشر ﷺ ناصر ادیب صاحب کو پیش کرتے ہوئے اپنے برکت خانے پر تشریف لانے کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور ناصر ادیب صاحب کی آمد کو اپنے لیے عزت و فخر سے لبریز قدردانی کا تحفہ سمجھاجس کے جواب میں جناب ناصر ادیب صاحب نے محترم میاں محمد اسلم جاوید صاحب کو کہا کہ میں آپ کے دولت کدے پر خود نہیں آیا بلکہ مجھے ایک چیز دھکے دے کر آپ کے پاس لائی ہے اور وہ ہے آپ کی عزت و محبت۔مجھے آپ کا مہمان بن کر جو مان ملا میں اسے زندگی بھر فراموش نہیں سکوں گا آپ نے میری رُوح کو چھوتے ہوئے میرے اندر اپنی عزت و محبت پر مبنی جو جگہ بنائی ہے جو تاحیات قائم رہے گئی۔

ایک نفیس شفیق مہربان قدردان شخص سے رشتہ قائم کروانے پر میں ظفر صاحب کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں اور محترم میاں محمد اسلم جاوید صاحب سے وابستہ ہوایہ رشتہ ہمیشہ قائم رکھنے کے لیے یہی کہوں گا کہ رشتہ اک کچہ دھاگہ ہوتا ہے جس کا اب ایک سرا آپ کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا سرا میرے ہاتھ میں ہے کبھی میں اپنا سرا کھینچوں تو آپ ڈھیلا چھوڑ دینا کبھی آپ کھینچیں تو میں ڈھیلا چھوڑ دوں گا تاکہ تعلق کا یہ کچہ دھاگہ کبھی ٹوٹنے نہ پائے۔

اس ملاقاتی نشست میں ناصر ادیب صاحب کے لیے شاہی کھانے کا اہتما م کیا گیا جس کی تیاری کے لیے میاں محمد اسلم جاوید صاحب کی شریک حیات نے مانچسٹر نے باورچن کی راہنمائی کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کا ذائقہ کھانے میں منتقل کرتے ہوئے اپنی موجودگی کا احساس کروایا۔ناصر ادیب صاحب نے پہلا نوالہ کھاتے ہی میاں صاحب سے کہا کہ مجھے لگ رہا ہے میری بہن، میری بھابھی کچن میں ہی موجود ہیں اور میں نے پہلی دفعہ اپنے مرشد جنہوں نے مجھے ناصر ادیب نام دیا ان کے حکم کی خلاف ورزی کی کہ انہوں نے کہا تھا ایک وقت آئے گا جب تمہارے لیے ایک وقت میں کئی کھانے دسترخوان پر لگیں گے مگر تم نے ایک ہی کھانا ہے مگر آج آپ لوگوں کی عزت و محبت نے وہ پابندی تڑوا دی۔

اس پرتکلف ضیافت پر میں آپ کے تمام اہل خانہ کے رزق،عزت،صحت یابی کے لیے خدا کے حضور دُعا کرتا ہوں کیونکہ جتنی عزت،قدر، محبت، آپ لوگوں نے مجھے دی ہے اس کا بدلہ میرے بس میں نہیں بس میرا خدا اس کا اجر، ثواب، برکت کے برتن میں ڈال کرآپ کو دے، آمین۔

آخر میں ناصر ادیب صاحب نے اس یادگار ملاقات کے لمحات کوکم محسوس کرتے ہوئے کہا کہ میری تشنگی ابھی باقی ہے پہلے آپ نے کہا اور میں آ گیا مگر اب میں آپ سے کہوں گا کہ میں چائے پہ آ رہا ہوں اور ہم جی بھر کرکھلے وقت کے ساتھ باتیں کریں گئے۔ناصر ادیب صاحب کے جانے کے بعد میاں محمد اسلم صاحب نے چائے پر اس ملاقات کے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں کبھی کسی شہرت یافتہ شخصیت سے ملنے کا آرزو مند نہیں رہا نہ شخصیت پرستی یا خود نمائی پر یقین رکھتا ہوں مگر ناصر ادیب صاحب سے مل کر واقعی مجھے خوشی اور اطمینان حاصل ہوا ہے کہ میں ایک حقیقی طور پر بڑے انسان سے ملا ہوں جو غرور وتکبر سے پاک عزت و عاجزی سے لبریز انسان ہے جس نے میری خاموش محبت و عزت کو اسی طرح محسوس کیا جس طرح میرے سینے میں تھی اور اس کی قدردانی کرکے مجھے اس اطمینان سے بھر دیا کہ میں نے اپنے مزاج جیسے بندے کی ملاقات کی۔

معزز قارئین میں ظفر اقبال ظفر بطور انٹریوو نگار پاکستان کی علمی ادبی شوبز کی شخصیات کے انٹریووزکر چکا ہوں اور میرا ماننا ہے کہ انسان شہرت یا دولت سے بڑا نہیں ہوتا بڑاانسان وہ ہے جس کی محفل میں کوئی خود کو چھوٹا محسوس نہ کرئے۔ انسانی قدروں پر ہی اچھی شخصیت کی عمارت کھڑی ہوتی ہے اور ناصر ادیب صاحب کا جیسا تعلق اپنے رب سے ہے ایسا ہی رب کے بندوں سے بھی ہے وہ احترام انسانیت کی دولت سے مالامال شخصیت ہیں جو بھی عزتوں محبتوں کے پھول کاسہ دل میں ڈال کر انہیں پیش کرتا ہے وہ انہی پھولوں کی مالا بنا کر اسی کے گلے میں پہنا دیتے ہیں۔

More posts