Baaghi TV

راہل گاندھی کے دھرنے کے بعدطلبا احتجاج میں پیلٹ گن کیس میں ایف آئی آر درج

نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے کے باہر تقریباً ساڑھے سات گھنٹے دھرنا دینے کے بعد دہلی پولیس نے 20 جولائی کو جنتر منتر پر طلبہ احتجاج کے دوران زخمی ہونے والے طالب علم ساحل لوچب کی شکایت پر نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی۔

ایف آئی آر کے اندراج کے بعد ساحل لوچب نے راہل گاندھی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک ماہ سے ان کی ٹیم مسلسل ان کے رابطے میں تھی، جبکہ راہل گاندھی خود بھی ان کی صحت کے بارے میں معلومات لیتے رہے۔ساحل نے اپنی شکایت میں الزام عائد کیا ہے کہ 20 جولائی کو جنتر منتر سے پارلیمنٹ کی جانب طلبہ مارچ کے دوران ان پر دھاتی پیلٹ فائر کیے گئے، جس کے نتیجے میں ان کی دائیں آنکھ کی بینائی چلی گئی جبکہ جسم کے مختلف حصوں پر سیکڑوں چھروں کے زخم آئے۔20 سالہ ساحل دہلی کے نجف گڑھ کی اگروال کالونی کے رہائشی اور دہلی یونیورسٹی کے اسکول آف اوپن لرننگ کے طالب علم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے والد معذور ہیں اور وہ خاندان کے سب سے بڑے بیٹے ہیں۔ ساحل نے یہ بھی بتایا کہ ان کے خلاف ماضی میں کوئی مجرمانہ مقدمہ درج نہیں ہوا۔شکایت کے مطابق 20 جولائی کو طلبہ امتحانی بے ضابطگیوں، دہلی پولیس بھرتی امتحان 2025 اور نیٹ پیپر لیک کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ اسی دوران جنتر منتر سے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کیا گیا۔ ساحل کے مطابق لاٹھی چارج اور بھگدڑ کے دوران وہ پالیکا، کناٹ پلیس کے علاقے تک پہنچ گئے تھے اور ان کے ہاتھ میں قومی پرچم تھا۔ساحل کا الزام ہے کہ اسی دوران آنسو گیس اور لاٹھی چارج کیا گیا۔ ان کے مطابق ان کا چہرہ دوسری جانب تھا کہ اچانک انہیں دائیں سینے، بازو اور آنکھ پر زور دار دھماکے جیسا محسوس ہوا۔ پیچھے مڑ کر دیکھنے پر انہوں نے نیلی وردی میں ملبوس ایک شخص کو بڑی بندوق کے ساتھ دیکھا، جس نے مبینہ طور پر ان پر دھاتی پیلٹ فائر کیے۔ساحل کے مطابق ان پر پانچ سے چھ مرتبہ پیلٹ داغے گئے، جس کے بعد ان کی آنکھ، چہرے، ہاتھ اور سینے سے خون بہنے لگا اور دائیں آنکھ سے دکھائی دینا بند ہوگیا۔

زخمی ہونے کے بعد ساحل کو ابتدائی طبی امداد کے لیے لیڈی ہارڈنگ اسپتال لے جایا گیا، جہاں ان کی میڈیکو لیگل رپورٹ تیار کی گئی۔ بعد ازاں انہیں صفدرجنگ اسپتال اور پھر آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) ریفر کردیا گیا۔ 21 جولائی کی رات انہیں ایمس کے آر پی سینٹر منتقل کیا گیا، جس کے بعد ایمس ٹراما سینٹر میں داخل کیا گیا۔ شکایت کے مطابق 22 جولائی کی رات ان کی آنکھ کا پہلا آپریشن کیا گیا۔ساحل کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں نے میڈیکو لیگل رپورٹ میں آنکھ کی چوٹ کو پیلٹ سے لگنے والی چوٹ قرار دیا اور انہیں بتایا کہ بینائی واپس آنے کا امکان ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ ان کے مطابق ایمس میں کیے گئے سی ٹی اسکین میں جسم کے اندر 200 سے زائد دھاتی چھروں کی موجودگی کا انکشاف ہوا۔شکایت کے مطابق یہ چھروں آنکھ، گردن، سینے میں دل کے قریب، جبڑے اور بازو سمیت جسم کے مختلف حصوں میں موجود ہیں۔ ساحل کا کہنا ہے کہ کچھ چھرے آنکھ کی نس کے قریب ہیں جنہیں نکالنا ممکن نہیں، جبکہ دو چھرے زندگی بھر آنکھ کے اندر رہیں گے۔ایف آئی آر میں درج شکایت کے مطابق 25 جولائی کو دوبارہ معائنے کے دوران دائیں آنکھ میں کوئی بینائی نہیں پائی گئی۔ 31 جولائی کو آر پی سینٹر کی او پی ڈی میں معائنے کے بعد یکم اگست کو دوسری سرجری کی گئی، تاہم آنکھ کی حالت میں بہتری نہیں آئی۔ ساحل کے مطابق بعد کی طبی رپورٹس میں بھی زخموں کو دھاتی چھروں سے لگنے والی چوٹ قرار دیا گیا۔

ساحل نے کہا کہ وہ ایک طالب علم کی حیثیت سے پُرامن احتجاج میں شریک ہوئے تھے، لیکن اس کے نتیجے میں انہیں اپنی آنکھ کی بینائی سے محروم ہونا پڑا اور جسم میں سیکڑوں چھروں کے ساتھ زندگی گزارنا پڑ رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ دہلی پولیس میں بھرتی کی تیاری کر رہے تھے، تاہم اب ان کے لیے ملازمت حاصل کرنا مشکل ہوگیا ہے جبکہ ان کی تعلیم بھی متاثر ہوئی ہے۔انہوں نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ 20 جولائی کے واقعے سے متعلق جنتر منتر، پارلیمنٹ اسٹریٹ، کناٹ پلیس، پٹیل چوک، راجیو چوک، میٹرو اسٹیشن، ٹریفک پولیس اور ڈرون سے حاصل ہونے والی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کی جائے۔ساحل نے آپریشن کے دوران جسم سے نکالے گئے دھاتی چھروں کو فارنسک جانچ کے لیے بھیجنے اور لیڈی ہارڈنگ اسپتال، صفدرجنگ اسپتال، ایمس آر پی سینٹر اور ایمس ٹراما سینٹر سے ان کی میڈیکو لیگل رپورٹس اور علاج سے متعلق تمام ریکارڈ حاصل کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے علاج کے اخراجات اور مناسب معاوضے پر غور کرنے کی درخواست کرتے ہوئے پولیس کو تحقیقات میں مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔

More posts