Baaghi TV

یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی،تحریر : دانش رحمان

یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی ،وہ وقت تیزی سے قریب آ رہا ہے جب کاغذ کی خوشبو کتاب کی جلد کو چھونے کا احساس ورق پلٹنے کی آواز اور اس کی صفحات سے نکلنے والی خوشبو صرف یادوں میں رہ جائے گی کیونکہ آج کا انسان کتابوں سے دور ہوتا جا رہا ہے، موبائل ای بکس اور ڈیجیٹل سکرینز نے کتابوں کی جگہ لے لی ہے مگر اس تبدیلی کے ساتھ ہم کچھ بہت قیمتی کھو رہے ہیں ،کتابیں صرف کاغذ کے مجموعے نہیں ہوتیں بلکہ وہ انسانی تجربات تاریخ جذبات حکمت اور زندگی کے سبق ہوتی ہیں جو ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتے ہیں،

جب ہم ایک حقیقی کتاب ہاتھ میں لیتے ہیں تو اس کی خوشبو اس کے ورق کا احساس اور اس پر لکھی ہوئی ہستی کی موجودگی ہمیں ایک خاص قسم کا سکون دیتی ہے جو کوئی سکرین نہیں دے سکتی ،کتابیں ہمیں سوچنے کی عادت دیتی ہیں شخصیت کو گہرائی بخشتی ہیں اور تنہائی میں سب سے اچھا ساتھی بن جاتی ہیں مگر آج کے دور میں نوجوان صبح اٹھتے ہی موبائل اٹھاتے ہیں رات سوتے وقت بھی اسی کے ساتھ سوتے ہیں اسکرین کی روشنی ان کی آنکھوں کو تھکا رہی ہے توجہ کا دورانیہ کم ہو رہا ہے ،گہری سوچنے کی صلاحیت ختم ہوتی جا رہی ہے اور وہ حقیقی زندگی سے دور ہوتے جا رہے ہیں جبکہ کتابیں پڑھنے والا شخص زیادہ حساس زیادہ سمجھدار زیادہ تخلیقی اور زیادہ ذمہ دار ہوتا ہے

آج جو نوجوان کتابیں نہیں پڑھتے وہ زندگی کی گہرائی کو نہیں سمجھتے، وہ سطحی سوچ رکھتے ہیں جذبات کو نہیں سمجھتے اور رشتوں کی قدر نہیں کرتے ،یہ آخری صدی ہے جب ہم اب بھی کتابوں کو بچا سکتے ہیں اگر ہم نے اب بھی کتابوں سے عشق نہیں کیا تو آنے والی نسلیں صرف سکرینز کی غلام بنیں گی وہ نہ تو گہری سوچ سکیں گی نہ ہی تخلیقی ہو سکیں گی، والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو موبائل کی بجائے کتابوں سے جوڑیں سکولوں میں کتاب پڑھنے کی عادت ڈالی جائے ،گھروں میں لائبریری بنائی جائے اور نوجوانوں کو بتایا جائے کہ حقیقی علم کتابوں میں ہے سکرین میں نہیں

کتابیں ہماری ثقافت تاریخ اور شناخت ہیں اگر ہم نے انہیں کھو دیا تو ہم اپنی جڑیں کھو دیں گے یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی، آئیے اسے ضائع نہ ہونے دیں اپنے بچوں کو کتابیں دیں خود کتابیں پڑھیں اور آنے والی نسلوں کو یہ تحفہ دیں کہ وہ بھی کتابوں سے محبت کریں کیونکہ کتابیں مرتی نہیں ہیں وہ صرف ان لوگوں کے دل میں مر جاتی ہیں جو انہیں پڑھنا چھوڑ دیتے ہیں، کتابیں ہمارے اندر ایک نئی دنیا کھولتی ہیں ہمیں دوسروں کے درد کو سمجھنے کی صلاحیت دیتی ہیں، ہمیں صبر سکھاتی ہیں ہمیں خواب دیکھنا سکھاتی ہیں اور ہمیں بہتر انسان بناتی ہیں .آج اگر ہم کتابیں نہیں پڑھیں گے تو کل ہماری نسلیں سطحی سوچ والی جذبات سے خالی اور تخلیقی صلاحیتوں سے محروم ہو جائیں گی لہٰذا آئیے اس آخری صدی میں کتابوں سے دوبارہ عشق کریں انہیں اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور آنے والی نسلوں کو یہ ورثہ دیں کہ وہ بھی کتابوں کی قدر کریں کیونکہ کتابیں ہی وہ آئینہ ہیں جو ہمیں خود کو اور دنیا کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں

More posts