Baaghi TV

سات سمندر پار سے: یارانِ نکتہ دان انٹرنیشنل آن لائن نعتیہ مشاعرہ ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

shahid naseem

ربیع الاول شریف کا مقدس اور بابرکت مہینہ آتے ہی عاشقانِ رسول ﷺ کے دل محبت و عقیدت سے سرشار ہو جاتے ہیں۔ فضائیں درود و سلام کی خوشبو سے مہکنے لگتی ہیں اور ہر سمت ذکرِ مصطفیٰ ﷺ کی صدائیں سنائی دیتی ہیں۔ یہی وہ مبارک مہینہ ہے جس میں آقائے دو جہاں، رحمت للعالمین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادتِ باسعادت ہوئی۔ دنیا بھر کے مسلمان اپنے اپنے انداز میں اس عظیم خوشی کا اظہار کرتے ہیں، مگر اہلِ قلم کا انداز ہمیشہ منفرد ہوتا ہے؛ وہ محبتِ رسول ﷺ کو الفاظ، اشعار، نعت اور درود و سلام کے ذریعے پیش کرتے ہیں۔

اسی جذبۂ عقیدت و محبت کے تحت یارانِ نکتہ داں واٹس ایپ گروپ میں جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کی خوشی میں ایک شاندار اور یادگار انٹرنیشنل نعتیہ مشاعرہ منعقد کیا گیا، جس کی نگرانی و سرپرستی امریکہ میں مقیم معروف ادبی شخصیت جناب پرویز طفیل جگنو نے فرمائی۔ اس مشاعرے کی خاص بات یہ تھی کہ جغرافیائی فاصلے اس محفلِ نعت کے راستے میں رکاوٹ نہ بن سکے۔ پاکستان اور امریکہ سمیت مختلف مقامات پر موجود اہلِ علم و ادب ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہوئے اور عشقِ رسول ﷺ کے پھول نچھاور کرتے رہے۔

یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ٹیکنالوجی نے اگرچہ لوگوں کو ایک دوسرے سے دور بھی کیا ہے، لیکن اس کا مثبت استعمال دلوں کو جوڑنے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ یارانِ نکتہ داں کی یہ محفل اسی خوب صورت حقیقت کی روشن مثال تھی کہ محبتِ رسول ﷺ کے سامنے نہ فاصلے معنی رکھتے ہیں، نہ سرحدیں اور نہ ہی سمندر۔ اسی لیے اس محفل کا عنوان "سات سمندر پار سے یارانِ نکتہ داں انٹرنیشنل نعتیہ مشاعرہ” نہایت موزوں محسوس ہوا۔
محفل کی صدارت ممتاز روحانی، علمی، ادبی اور مذہبی شخصیت جناب سید سیرت حسین زاہد نے فرمائی، جبکہ پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد قادری بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے۔ دونوں معزز شخصیات کی موجودگی نے محفل کے وقار اور معنویت میں مزید اضافہ کیا۔

محفل کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ ممتاز قاری اور ثنا خوانِ مصطفیٰ ﷺ جناب محمد ارشد ذوق نے نہایت خوب صورت اور پرسوز انداز میں تلاوتِ قرآن پاک کی سعادت حاصل کی۔ ان کی آواز میں موجود سوز، گداز اور عقیدت نے محفل کی فضا کو روحانی کیفیت عطا کردی۔ بعد ازاں انہوں نے ممتاز نعت گو شاعر حفیظ تائب اور صدرِ محفل سید سیرت حسین زاہد کا نعتیہ کلام بھی پیش کیا۔ ان کی مترنم آواز اور اندازِ پیشکش نے سامعین کو بے اختیار اپنی طرف متوجہ کیے رکھا اور یوں محفل کے آغاز ہی میں عشق و محبت کی ایک دل نشیں کیفیت پیدا ہوگئی۔
اس کے بعد نعتیہ مشاعرے کا باقاعدہ آغاز ہوا اور شعرائے کرام نے اپنے اپنے نعتیہ کلام کے ذریعے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں عقیدت کے پھول پیش کیے۔ آن لائن ہونے کے باوجود مشاعرے کی کیفیت کسی روایتی محفل سے کم نہ تھی۔ ہر شاعر کی باری کا انتظار کیا گیا، کلام سنا گیا، داد دی گئی اور محبت و احترام کے جذبات کا اظہار کیا گیا۔
جن نعت گو شعرائے کرام نے اس خوب صورت محفل میں اپنا نعتیہ کلام پیش کیا، ان میں راقم الحروف محمد شاہد نسیم ، ضمیر حسین اطہر قادری، پروفیسر ریاض احمد قادری، پروفیسر محمد امین عزمی، مرزا خالد محمود مغل اور سید سیرت حسین زاہد شامل تھے۔
ہر شاعر نے اپنے اپنے اسلوب میں محبتِ رسول ﷺ کو لفظوں کا جامہ پہنایا۔ کسی کے اشعار میں عقیدت کی گہرائی نمایاں تھی، کسی کے کلام میں مدینے کی حاضری کی تڑپ، کسی کے ہاں سیرتِ طیبہ ﷺ کے روشن پہلو اور کسی کے اشعار میں درود و سلام کی خوشبو محسوس ہوئی۔ یہی نعتیہ شاعری کی خوب صورتی ہے کہ شاعر کا قلم جب حضور اکرم ﷺ کی مدحت کے لیے اٹھتا ہے تو الفاظ محض الفاظ نہیں رہتے بلکہ عقیدت کے ترجمان بن جاتے ہیں۔
اس محفل کی ایک اور نمایاں خصوصیت نقابت تھی، جو امریکہ سے جناب پرویز طفیل جگنو نے نہایت عمدگی، شائستگی اور برجستگی کے ساتھ انجام دی۔ سات سمندر پار بیٹھ کر پاکستان کے ادیبوں اور نعت گو شعراء کو ایک خوب صورت لڑی میں پرو دینا یقیناً ان کی ادبی محبت اور تنظیمی صلاحیت کا مظہر ہے۔ انہوں نے شعراء کا تعارف بھی مؤثر انداز میں پیش کیا اور محفل کے تسلسل، وقار اور ادبی حسن کو بھی برقرار رکھا۔

درحقیقت آج کے دور میں آن لائن ادبی سرگرمیاں محض ایک متبادل ذریعہ نہیں رہیں بلکہ اردو ادب کے فروغ اور ادبی روابط کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم بن چکی ہیں۔ خصوصاً بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اہلِ قلم کے لیے یہ ذرائع وطن، زبان اور تہذیبی اقدار سے جڑے رہنے کا اہم وسیلہ ہیں۔ امریکہ میں بیٹھے پرویز طفیل جگنو کا پاکستان میں موجود یارانِ نکتہ داں کے احباب کے ساتھ مل کر نعتیہ مشاعرہ منعقد کرنا اسی ادبی رشتے کی خوب صورت مثال ہے۔
یہ مشاعرہ اس اعتبار سے بھی قابلِ تحسین ہے کہ اس میں کسی خاص شہر یا ملک کی نمائندگی نہیں بلکہ محبتِ رسول ﷺ کی عالمگیر کیفیت نمایاں تھی۔ نعت ایسی صنفِ سخن ہے جو دلوں کو جوڑتی ہے۔ اس میں شاعر اپنی ذات، اپنے اختلافات اور اپنی انفرادی شناخت سے بلند ہو کر حضور اکرم ﷺ کی بارگاہ میں خراجِ عقیدت پیش کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نعتیہ مشاعرے ادبی محفل ہونے کے ساتھ ساتھ روحانی اجتماع کی کیفیت بھی رکھتے ہیں۔
صدرِ محفل سید سیرت حسین زاہد کی علمی و ادبی شخصیت اور ان کی نعتیہ خدمات بھی اس محفل کا ایک اہم حوالہ تھیں۔ ان کے کلام کو محمد ارشد ذوق نے جس عقیدت و محبت سے پیش کیا، اس سے محفل کی روحانی فضا مزید گہری ہوگئی۔ اسی طرح پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد قادری کی شرکت نے اہلِ محفل کے لیے حوصلہ افزائی اور اعزاز کا باعث بن کر مشاعرے کی اہمیت میں اضافہ کیا۔

یارانِ نکتہ داں کی یہ محفل اس بات کا عملی ثبوت بھی ہے کہ اگر نیت میں اخلاص، مقصد میں محبت اور دل میں عشقِ رسول ﷺ ہو تو محدود وسائل بھی بڑے بڑے فاصلے ختم کر دیتے ہیں۔ واٹس ایپ گروپ کا ایک ادبی پلیٹ فارم سات سمندر پار بیٹھے اہلِ ادب کو ایک ہی محفل میں جمع کرسکتا ہے، ایک شاعر امریکہ سے نقابت کرسکتا ہے، پاکستان کے مختلف شہروں سے شعراء اپنا کلام پیش کرسکتے ہیں اور دنیا کے کسی بھی حصے میں بیٹھا شخص اس روحانی و ادبی کیفیت کا حصہ بن سکتا ہے۔
آج جب معاشرے میں نفرت، انتشار اور باہمی فاصلے بڑھتے دکھائی دیتے ہیں، ایسی محفلیں امید کی کرن بن کر سامنے آتی ہیں۔ ادب کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے کہ انسان کو انسان کے قریب لایا جائے، محبت کو فروغ دیا جائے اور معاشرے میں برداشت، احترام اور حسنِ سلوک کی فضا قائم کی جائے۔ اگر اس کے ساتھ عشقِ رسول ﷺ کی روشنی بھی شامل ہو جائے تو اس کی تاثیر کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر منعقد ہونے والا یہ نعتیہ مشاعرہ محض اشعار سنانے کی ایک آن لائن نشست نہیں تھا بلکہ یہ محبت، عقیدت، ادب اور روحانیت کا حسین امتزاج تھا۔ اس محفل میں موجود ہر نام اپنی جگہ ایک ادبی حوالہ تھا اور ہر آواز حضور نبی کریم ﷺ سے محبت کی ترجمان۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسی ادبی و روحانی محافل کا سلسلہ جاری رکھا جائے اور جدید ٹیکنالوجی کو اردو زبان، ادب، نعتیہ شاعری اور سیرتِ طیبہ ﷺ کے پیغام کے فروغ کے لیے زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جائے۔ بالخصوص بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اہلِ قلم کو ان سرگرمیوں سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ نئی نسل بھی اپنی زبان، تہذیب اور دینی و ادبی ورثے سے وابستہ رہ سکے۔
آخر میں اس خوب صورت اور بابرکت محفل کے انعقاد پر جناب پرویز طفیل جگنو، صدرِ محفل سید سیرت حسین زاہد، مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد قادری، قاری و ثنا خواں محمد ارشد ذوق اور تمام نعت گو شعرائے کرام مبارک باد کے مستحق ہیں۔ بالخصوص یارانِ نکتہ داں کے تمام احباب نے جس محبت، خلوص اور ذوق کے ساتھ اس محفل کو کامیاب بنایا، وہ قابلِ تحسین ہے۔

یہ محفل ختم ضرور ہوئی، مگر اس کی خوشبو دیر تک دلوں میں محسوس ہوتی رہے گی۔ سات سمندر کے فاصلے سمٹ گئے، دل مدینے کی سمت جھک گئے اور لفظوں نے محبتِ مصطفیٰ ﷺ کا لباس پہن لیا۔
بلاشبہ "سات سمندر پار سے یارانِ نکتہ داں انٹرنیشنل نعتیہ مشاعرہ” ایک ایسی یادگار ادبی و روحانی محفل تھی جس نے ثابت کردیا کہ عشقِ رسول ﷺ کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ جہاں ذکرِ مصطفیٰ ﷺ ہو، وہیں دلوں کا مدینہ آباد ہوجاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ اس بابرکت کاوش کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور ہم سب کو حضور نبی کریم ﷺ کی سچی محبت، سنتِ طیبہ پر عمل اور بار بار مدینہ منورہ کی حاضری نصیب فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔

More posts