Baaghi TV

ٹرمپ کا کینیڈین مصنوعات پر ٹیرف 50 فیصد کرنے کا اعلان

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا سے درآمد ہونے والی گاڑیوں، ٹرکوں، اسپیئر پارٹس اور اسٹیل پر ٹیرف بڑھا کر 50 فیصد کرنے کا اعلان کردیا ہے، نئی شرح کا اطلاق یکم جنوری 2027 سے ہوگا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا کئی برس سے امریکا کو نقصان پہنچا رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی خسارہ 60 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال مزید قابل قبول نہیں اور اسے جاری نہیں رہنے دیا جاسکتا۔

امریکی صدر نے اعلان کیا کہ یکم جنوری 2027 سے کینیڈا کی گاڑیوں، ٹرکوں، اسپیئر پارٹس اور اسٹیل سمیت بعض مصنوعات پر عائد ٹیرف کی شرح بڑھا کر 50 فیصد کردی جائے گی۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد امریکا میں مقامی صنعتی پیداوار کو فروغ دینا اور غیر ملکی مصنوعات پر انحصار کم کرنا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جو کمپنیاں امریکا میں گاڑیاں یا ٹرک تیار کریں گی، انہیں اس ٹیرف کی ادائیگی نہیں کرنا پڑے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیرف پالیسی کے ذریعے امریکی کمپنیوں کو ملک کے اندر سرمایہ کاری، فیکٹریاں قائم کرنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت کی ترجیح مقامی مینوفیکچرنگ کو مضبوط بنانا اور امریکی صنعت و روزگار کا تحفظ ہے۔ ان کے مطابق نئی پالیسی کے نتیجے میں کمپنیوں کو امریکا میں پیداوار بڑھانے کی ترغیب ملے گی اور صنعتی شعبے میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔

امریکی صدر نے کینیڈا کے ساتھ تجارتی تعلقات پر مزید سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اب کینیڈا کے ساتھ کسی امریکی ریاست کی طرح سلوک نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو کینیڈا کی ضرورت نہیں بلکہ کینیڈا کو امریکا کی ضرورت ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ کینیڈا کی تقریباً 95 فیصد تجارت امریکا کے ساتھ وابستہ ہے، اس لیے امریکی مارکیٹ کینیڈا کی معیشت کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اپنی تجارتی پالیسی میں ملکی مفادات کو اولین ترجیح دے گا اور ایسے اقدامات جاری رکھے گا جن سے امریکی صنعت اور روزگار کو فائدہ پہنچے۔

نئی ٹیرف پالیسی کے اعلان کے بعد امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہونے کا امکان ہے، جبکہ دونوں ممالک کی آٹو موبائل، اسٹیل اور صنعتی شعبوں کی تجارت پر بھی اس فیصلے کے نمایاں اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

More posts