پنجاب کی موجودہ سیاسی اور انتظامی صورتحال کا اگر غیرجانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت تسلیم کرنا پڑتی ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے مختصر عرصے میں عوامی فلاح، ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی بہتری کے حوالے سے غیرمعمولی سرگرمی کا مظاہرہ کیا ہے۔ صوبے کے مختلف شہروں میں جاری ترقیاتی منصوبے، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں اقدامات، عوامی مسائل کے حل کے لیے براہِ راست نگرانی اور گڈ گورننس کے تصور کو عملی شکل دینے کی کوششیں ان کی سیاسی سنجیدگی کا ثبوت ہیں۔
تاہم ایک اہم سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا ایک صوبے کے تمام مسائل کا بوجھ صرف وزیراعلیٰ کے کندھوں پر ہونا چاہیے؟ کیا کابینہ کے وزراء، جنہیں عوامی خدمت اور مسائل کے حل کے لیے ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں، ان کی کوئی جوابدہی نہیں؟
جمہوریت میں حکمرانی کا حسن صرف ایک مضبوط قائد میں نہیں بلکہ ایک فعال اور متحرک ٹیم میں ہوتا ہے۔ جب وزراء عوام سے رابطہ ختم کر دیتے ہیں، فون سننے سے گریز کرتے ہیں، عوامی نمائندوں اور عام شہریوں کی بات سننے کے لیے وقت نہیں نکالتے تو حکومت اور عوام کے درمیان ایک خطرناک فاصلہ پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ یہی فاصلہ بعد ازاں سیاسی بے چینی، عوامی ناراضی اور جماعتی نقصان کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کو ہمیشہ اپوزیشن سے کم اور اپنے غیرفعال ساتھیوں سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ جب عوام کو یہ محسوس ہونے لگے کہ ان کے منتخب نمائندے اور وزراء ان کی دسترس سے باہر ہیں تو حکومتی کارکردگی کے مثبت اثرات بھی دھندلا جاتے ہیں۔ عوام صرف ترقیاتی منصوبے نہیں دیکھتے بلکہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ان کی آواز کون سنتا ہے، ان کے مسائل پر کون توجہ دیتا ہے اور ان کے دروازے پر دستک دینے پر جواب کون دیتا ہے۔
اگر وزیراعلیٰ پنجاب دن رات عوامی مسائل کے حل کے لیے سرگرم رہ سکتی ہیں تو کابینہ کے وزراء پر بھی لازم ہے کہ وہ عوامی رابطوں کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔ ایک وزیر کا منصب صرف فائلوں پر دستخط کرنے یا سرکاری تقریبات میں شرکت کرنے تک محدود نہیں ہوتا بلکہ اس کا اصل امتحان عوامی مسائل کے حل، عوامی رابطے اور خدمتِ خلق کے جذبے میں پوشیدہ ہوتا ہے۔
آج اگر پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو عوامی سطح پر پذیرائی حاصل ہو رہی ہے تو اس کی بنیادی وجہ عوامی خدمت کا وہ تصور ہے جسے نواز شریف اور مریم نواز شریف نے اپنی سیاست کا محور بنایا۔ اس کامیابی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ کابینہ کے تمام ارکان بھی اسی جذبے، اسی احساسِ ذمہ داری اور اسی عوامی طرزِ عمل کو اختیار کریں۔
وقت کا تقاضا ہے کہ گڈ گورننس کو صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ اجتماعی ذمہ داری بنایا جائے۔ ایک مضبوط وزیراعلیٰ کے ساتھ مضبوط، متحرک اور عوام دوست کابینہ ہی کسی حکومت کی اصل طاقت ہوتی ہے۔ عوام کے دروازے تک پہنچنا، ان کی بات سننا اور ان کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کرنا ہی وہ راستہ ہے جو حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کے رشتے کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔
