اچھا لکھاری بننا صرف خوبصورت الفاظ جمع کرنے کا نام نہیں۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ جس شخص کی زبان شستہ ہو، جملے دلکش ہوں اور الفاظ کا ذخیرہ وسیع ہو، وہ لازماً اچھا لکھاری بھی ہو۔ اصل لکھاری وہ ہے جو اپنے عہد، اپنے معاشرے اور اپنے اردگرد موجود حقیقتوں کو دیکھ سکے اور پھر انہیں اس انداز میں لکھ سکے کہ قاری کو اپنے ہی وجود کے اندر کوئی سوال سنائی دینے لگے۔
مگر یہ کام آسان نہیں۔
کیونکہ حقیقت اکثر خوبصورت نہیں ہوتی۔
حقیقت کسی کے مفاد کے خلاف ہوتی ہے، کسی کے عقیدے کو چبھتی ہے، کسی کی انا کو زخمی کرتی ہے اور کبھی کبھی تو خود لکھنے والے کے اپنے نظریات کو بھی کٹہرے میں کھڑا کردیتی ہے۔ اسی لیے میرے نزدیک کوئی بھی انسان اس وقت تک مکمل لکھاری نہیں بن سکتا جب تک اس میں دوسروں کے ناراض ہونے کا خوف ختم نہ ہوجائے۔
یہاں ایک بات واضح ہونی چاہیے: *لوگوں کو تکلیف دینا اور سچ لکھنا ایک چیز نہیں۔*
لکھاری کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں ہونا چاہیے۔ مقصد یہ بھی نہیں کہ وہ جان بوجھ کر متنازع بات لکھے تاکہ لوگ اس پر بحث کریں۔ اصل ہمت یہ ہے کہ اگر کوئی حقیقت ضروری ہے تو اسے صرف اس خوف سے نہ چھپایا جائے کہ کوئی ناراض ہوجائے گا۔
ہم ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں لوگ اکثر سچ سے زیادہ اپنی پسند کی بات سننا چاہتے ہیں۔
آپ کسی کے سامنے اس کی غلطی بیان کریں تو وہ اصلاح کے بجائے آپ کی نیت تلاش کرے گا۔ آپ کسی رواج پر سوال اٹھائیں تو لوگ کہیں گے کہ آپ روایت دشمن ہیں۔ آپ کسی مقبول شخصیت پر تنقید کریں تو سوال شخصیت کے کردار پر نہیں بلکہ آپ کی وفاداری پر اٹھے گا۔ آپ کسی مذہبی، سیاسی یا سماجی مسئلے پر مختلف رائے دیں تو لوگ دلیل سے پہلے یہ دیکھیں گے کہ آپ کس گروہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔
ایسے ماحول میں لکھنا صرف قلم چلانا نہیں، *اپنے خلاف کھڑے ہونے کی ہمت پیدا کرنا ہے۔*
لکھاری کے سامنے سب سے بڑا امتحان اس وقت آتا ہے جب اسے معلوم ہو کہ اس کے پاس کہنے کو ایک ایسی بات ہے جو بہت سے لوگوں کو پسند نہیں آئے گی۔
پھر اس کے اندر دو آوازیں پیدا ہوتی ہیں۔
ایک کہتی ہے: لکھ دو، کیونکہ یہی حقیقت ہے۔
دوسری کہتی ہے: چھوڑ دو، لوگ برا مان جائیں گے۔
زیادہ تر لوگ دوسری آواز سن لیتے ہیں۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں بہت سے لکھنے والے صرف الفاظ کے کاریگر رہ جاتے ہیں، لکھاری نہیں بن پاتے۔
لکھاری کو یہ سیکھنا پڑتا ہے کہ ہر تحریر کا مقصد تالیاں حاصل کرنا نہیں۔ بعض اوقات اچھی تحریر وہ ہوتی ہے جس کے بعد قاری خاموش ہوجائے۔ اسے غصہ آئے، وہ اختلاف کرے، کچھ دیر کے لیے لکھاری کو برا بھلا کہے، لیکن رات کو تنہائی میں وہی بات اس کے ذہن میں واپس آتی رہے۔
یہی تحریر کی طاقت ہے۔
اچھا لکھاری معاشرے کا آئینہ ہوتا ہے۔ آئینے کا کام چہرہ خوبصورت بنانا نہیں، چہرہ دکھانا ہے۔ اگر چہرے پر داغ ہو تو آئینہ داغ چھپاتا نہیں۔ اگر بال بکھرے ہوں تو آئینہ انہیں ترتیب دینے کا جھوٹ نہیں بولتا۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہم آئینہ تو چاہتے ہیں، مگر ایسا آئینہ جو ہمیں صرف ہماری خوبصورتی دکھائے۔
ہم ایسا لکھاری چاہتے ہیں جو ہماری تعریف کرے، ہماری غلطیوں کو نظرانداز کرے، ہمارے پسندیدہ لوگوں پر خاموش رہے اور ہمارے مخالفین کے عیب گنواتا رہے۔ ہمیں لکھاری کم اور ترجمان زیادہ پسند آتے ہیں۔
مگر لکھاری کسی کا ترجمان نہیں ہوتا۔
وہ سوال اٹھاتا ہے۔
وہ کبھی اپنے قاری سے بھی اختلاف کرتا ہے، کبھی اپنے معاشرے سے، کبھی طاقتور سے اور کبھی اپنے آپ سے۔
اس کا قلم کسی کی خوشنودی کا محتاج نہیں ہونا چاہیے۔
لیکن بے خوف قلم کا مطلب بے لگام قلم نہیں ہوتا
یہ فرق سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔
اگر آپ کسی کی عزت صرف اس لیے اچھال رہے ہیں کہ آپ کو آزادیِ اظہار حاصل ہے تو یہ بہادری نہیں، بدتمیزی ہے۔ اگر آپ بغیر تحقیق کسی پر الزام لگا رہے ہیں تو یہ سچ نہیں، ظلم ہے۔ اگر آپ کسی کے ذاتی دکھ کو تماشہ بنا رہے ہیں تو یہ صحافت یا ادب نہیں، احساس کی موت ہے۔
لکھاری کو سخت ہونا چاہیے، مگر ظالم نہیں۔
اسے بے خوف ہونا چاہیے، مگر بے حس نہیں۔
اسے اختلاف کرنا چاہیے، مگر جھوٹ کے ذریعے نہیں۔
اور شاید سب سے مشکل کام یہ ہے کہ اسے دوسروں کے جذبات کی پرواہ بھی ہو اور ان کے جذبات کے خوف سے سچ چھپانے کی عادت بھی نہ ہو۔
کیونکہ ہر سچ بولنا ضروری نہیں، مگر جو سچ لکھنا ضروری ہو اسے صرف اس لیے نہیں چھپانا چاہیے کہ کسی کو برا لگے گا۔
دنیا میں بہت سے لوگ آپ سے محبت کریں گے اگر آپ وہی کہیں جو وہ سننا چاہتے ہیں۔ مگر ایک لکھاری کا اصل امتحان وہاں شروع ہوتا ہے جہاں اسے یہ انتخاب کرنا پڑے کہ *مجھے پسند کیا جائے یا میری بات سنی جائے۔*
اگر لکھاری ہر جملے سے پہلے یہ سوچنے لگے کہ فلاں ناراض ہوجائے گا، فلاں گروہ برا مان جائے گا، فلاں دوست تعلق ختم کردے گا، فلاں شخص سوشل میڈیا پر حملہ کرے گا، تو پھر اس کا قلم آہستہ آہستہ قید ہوجاتا ہے۔
پھر وہ لکھتا تو ہے، مگر حقیقت نہیں لکھتا۔
وہ خوبصورت جملے لکھتا ہے، محفوظ باتیں لکھتا ہے، سب کو خوش رکھنے والی تحریریں لکھتا ہے، مگر وہ سوال نہیں لکھتا جس کا جواب معاشرے کو واقعی درکار ہے۔
اچھا لکھاری بننے کے لیے دل میں یہ حوصلہ ہونا چاہیے کہ *اگر میری بات درست ہے، دلیل کے ساتھ ہے اور معاشرے کے لیے ضروری ہے تو کچھ لوگ ناراض ہوں گے، اور یہ ناراضی میری تحریر کی ناکامی نہیں۔*
کبھی کبھی کسی کو برا لگ جانا اس بات کی علامت بھی ہوسکتا ہے کہ آپ نے اس جگہ ہاتھ رکھ دیا ہے جہاں درد موجود تھا۔
مگر آخر میں ایک شرط ہے۔
آپ کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ آپ کسی کو زخمی کرنے کے لیے نہیں لکھ رہے، بلکہ حقیقت کو الفاظ دینے کے لیے لکھ رہے ہیں۔
کیونکہ اچھا لکھاری وہ نہیں جو سب کو خوش کردے۔
*اچھا لکھاری وہ ہے جو لوگوں کو سوچنے پر مجبور کردےچاہے سوچنے کا یہ عمل انہیں کچھ دیر کے لیے خود سے ہی ناراض کیوں نہ کردے۔*
