Baaghi TV

میلا د مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نور ہدایت اور آج کا معاشرہ،تحریر:شمسہ رانی

وہ دور جب ہر طرف جہالت کے اندھیرے چھائے ہوئے تھے۔ طاقتور کمزور پر حاوی تھا ،بیٹی کی پیدائش باعث ندامت سمجھی جاتی تھی، غلاموں پر ظلم ہوتا تھا، عورت کو عزت و وقار سے محروم رکھا جاتا تھا ،اور معاشرہ بے شمار برائیوں کی گرفت میں تھا، ایسے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں نور مجسم رحمت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ اپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم جہالت کے اندھیروں کو مٹانے والے معلم اعظم ،غریبوں کے سہارا ،غلاموں کے اقا، عورتوں کے محافظ اور انسانیت کے لیے رحمت بن کر ائے۔ اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کو انسان کی عزت سکھائی، بیٹی کو رحمت قرار دیا، غلاموں کے حقوق دیے اور معاشرے کو عدل، محبت، اخوت اور انسانیت کا درس دیا۔

لیکن آج میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم مناتے ہوئے ہمیں اپنے گریبان میں بھی جھانکنا ہوگا۔ ہم زبان سے تو عشق رسول کا اظہار کرتے ہیں ۔محفل سجاتے ہیں ،درود و سلام پڑھتے ہیں۔ مگر کیا ہماری زندگیوں میں سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا نور بھی موجود ہے۔ آج بھی بیٹیاں ظلم و تشدد کا شکار ہے، عورت کی عزت پامال ہوتی ہے، کمزور کو دبایا جاتا ہے، جھوٹ اور خود غرضی ہمارے معاشرے میں جگہ بنا چکی ہے۔ اگر نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہونے کے باوجود بھی ہمارے کردار میں رحم، انصاف، سچائی اور محبت نہیں تو ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم نے میلاد کے اصل پیغام کو کتنا سمجھا ہے۔

میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا حقیقی جشن یہی ہے کہ ہم اپنے کردار کو سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے سانچے میں ڈالیں۔ ایک بیٹی کو عزت دیں ۔ایک کمزور کا سہارا بنے کسی کا حق نہ مارے، جھوٹ سے بچے ،ظلم کے سامنے اواز اٹھائیں ،اور دلوں میں نفرت کے بجائے محبت پیدا کریں۔ اج ہمیں چراغ صرف گھروں میں نہیں اپنے کردار میں روشن کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں نور بن کر ائے تھے اور اس نور کی حقیقی امتی وہی ہیں جو اپنے عمل سے دوسروں کی زندگیوں میں بھی روشنی بانٹیں۔ یہی میلاد کا پیغام ہے یہی سیرت کا درس اور یہی ہمارے معاشرے کی حقیقی اصلاح کا راستہ ہے۔

More posts