Baaghi TV

ربیع الاول ، ہجرت ہمیشہ راستہ بدلنے کا نام نہیں،تحریر: زینب جہانزیب

ہم میں سے اکثر نے ہجرت کو ایک جگہ چھوڑ کر دوسری جگہ جانے کے معنی میں سمجھا ہے۔ مگر کبھی کبھی انسان اپنی جگہ پر موجود رہتے ہوئے بھی ایک بہت طویل ہجرت سے گزر رہا ہوتا ہے۔ کوئی شہر نہیں بدلتا، کوئی گھر نہیں بدلتا، کوئی راستہ بھی بظاہر وہی رہتا ہے، مگر انسان کے اندر کچھ ایسا بدل جاتا ہے کہ واپسی پھر ممکن نہیں رہتی۔

شاید ہر انسان کی زندگی میں ایک ایسی ہجرت ضرور آتی ہے جس کا کوئی نقشہ نہیں ہوتا۔ یہ ہجرت انسان اپنے ہی اندر کرتا ہے؛ اپنی پرانی عادتوں سے، اپنی کمزوریوں سے، اپنے خوف سے، اپنی انا سے، اُن خواہشوں سے جنہیں وہ جانتا ہے کہ اب اسے اپنے ساتھ نہیں لے کر چلنا۔ہم اکثر نئی زندگی شروع کرنے کے لیے حالات بدلنے کا انتظار کرتے ہیں۔ سوچتے ہیں کہ جگہ بدل جائے تو دل بدل جائے گا، لوگ بدل جائیں تو سکون مل جائے گا، وقت بدل جائے تو ہم بھی بدل جائیں گے۔ مگر شاید اصل تبدیلی باہر کے منظر بدلنے سے نہیں آتی۔ کبھی کبھی وہ اسی جگہ کھڑے ہو کر شروع ہوتی ہے جہاں ہم سب سے زیادہ تھک چکے ہوتے ہیں۔

ہجرت کا سب سے مشکل حصہ شاید راستہ نہیں، چھوڑنا ہے۔ کچھ چیزیں انسان جانتا ہے کہ اس کے لیے اچھی نہیں، پھر بھی انہیں چھوڑ نہیں پاتا۔ کچھ تعلقات ختم نہیں ہوتے، مگر اُن کی شکل بدل جاتی ہے۔ کچھ یادیں ساتھ رہتی ہیں، مگر اُن کا اثر آہستہ آہستہ کم کرنا پڑتا ہے۔ کچھ خواہشیں پوری نہ ہونے کے باوجود انسان کو قبول کرنا سیکھنا پڑتا ہے۔ اور کچھ ایسے خواب بھی ہوتے ہیں جنہیں چھوڑتے ہوئے انسان کو لگتا ہے جیسے وہ اپنے وجود کا ایک حصہ پیچھے چھوڑ رہا ہے۔

لیکن شاید ہر چیز کو ساتھ لے کر آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔ کبھی منزل تک پہنچنے کے لیے سامان کم کرنا پڑتا ہے۔
یہ بات مجھے ہجرت کے تصور میں بہت گہری محسوس ہوتی ہے کہ سفر صرف قدموں سے نہیں ہوتا، نیت سے بھی ہوتا ہے۔ انسان ایک ہی جگہ پر رہ کر بھی اپنے اندر کی سمت بدل سکتا ہے۔ کل جس چیز کو اپنی دنیا سمجھتا تھا، آج اُس سے آگے دیکھ سکتا ہے۔ کل جس بات پر ٹوٹ جاتا تھا، آج اُسے اللہ کے سپرد کرنا سیکھ سکتا ہے۔ کل جس شخص کی رائے اُس کی پوری دنیا تھی، آج وہ اپنے دل کا سکون کسی اور جگہ تلاش کرنا شروع کر سکتا ہے۔
اور شاید یہی اندرونی ہجرت انسان کو سب سے زیادہ آزاد کرتی ہے۔
ہم دوسروں کو چھوڑنے کی بات بہت کرتے ہیں، مگر کبھی کبھی ہمیں اپنے اندر موجود اُس شخص کو چھوڑنا ہوتا ہے جو ہر وقت دوسروں سے منظوری چاہتا ہے، ہر بات کا جواب چاہتا ہے، ہر زخم کا حساب چاہتا ہے اور ہر تعلق سے اپنی خواہش کے مطابق نتیجہ چاہتا ہے۔

شاید انسان کی سب سے بڑی ہجرت اُس دن شروع ہوتی ہے جب وہ یہ مان لیتا ہے کہ ہر چیز اُس کے اختیار میں نہیں۔ کچھ راستے خود چننے ہوتے ہیں، کچھ راستے قبول کرنے پڑتے ہیں، اور کچھ راستوں پر صرف اتنا کرنا ہوتا ہے کہ انسان چلتا رہے، چاہے اسے ابھی منزل دکھائی نہ دے۔
حضور اکرم ﷺ کی سیرت میں ہجرت کا ذکر آتا ہے تو میرے لیے یہ صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں رہتا۔ یہ مجھے اپنے اندر کی اُن جگہوں کو دیکھنے پر مجبور کرتا ہے جہاں میں ابھی تک رکی ہوئی ہوں۔ وہ خوف جنہیں میں نے اپنا مقدر سمجھ لیا ہے، وہ عادتیں جنہیں میں نے اپنی شخصیت کا نام دے دیا ہے، وہ دکھ جنہیں میں نے اپنی شناخت بنا لیا ہے۔
شاید ہمیں کبھی کبھی خود سے پوچھنا چاہیے: میں اپنی زندگی میں کس چیز سے ہجرت کرنے سے ڈر رہی ہوں؟ کیا وہ خوف ہے؟ کیا کوئی پرانی سوچ ہے؟ کیا کوئی ایسی خواہش ہے جس نے میرے دل کو باندھ رکھا ہے؟ یا پھر میرا اپنا وہ عکس ہے جس سے میں برسوں سے واقف ہوں، مگر اب وہ مجھے آگے بڑھنے نہیں دیتا؟

ہر ہجرت کا مطلب کسی چیز سے دور ہونا نہیں ہوتا۔ بعض ہجرتیں انسان کو اُس کے اصل کے قریب لے جاتی ہیں۔اور شاید یہی سب سے خوبصورت سفر ہے،جب انسان دنیا سے بھاگنے کے لیے نہیں، بلکہ اپنے رب کی طرف بڑھنے کے لیے اپنے اندر کے فاصلے کم کرنا شروع کر دے۔

تب راستے وہی رہتے ہیں، شہر وہی رہتے ہیں، لوگ وہی رہتے ہیں، مگر مسافر بدل جاتا ہے۔
اور شاید زندگی کی سب سے بڑی ہجرت بھی یہی ہے کہ انسان وہی رہتے ہوئے وہ نہ رہے جو پہلے تھا۔

More posts