Baaghi TV

مکہ کی فضاؤں میں نور بکھر گیا، تحریر :سید ساجد علی شاہ

مکہ کی وادی میں وہ رات عام راتوں جیسی نہ تھی۔ آسمان پر ستارے کچھ زیادہ روشن محسوس ہو رہے تھے، ہوا میں ایک عجیب سی خوشبو رچی ہوئی تھی اور خاموش پہاڑ جیسے کسی عظیم واقعے کے منتظر تھے۔ کعبۃ اللہ کے گرد سکون چھایا ہوا تھا، مگر قدرت کے ایوانوں میں ایک ایسی خوشی برپا تھی جس کا اندازہ انسانوں کو ابھی نہ تھا۔ یہ وہ مقدس رات تھی جس کے بعد دنیا کی تاریخ کا رخ بدلنے والا تھا۔ مکہ کی گلیاں خاموش تھیں، کہیں کہیں چراغوں کی مدھم روشنی دکھائی دیتی تھی۔ لوگ اپنے گھروں میں آرام کر رہے تھے، لیکن آسمان کی وسعتوں میں فرشتے ایک عظیم خوشخبری کے گواہ بن رہے تھے۔ سورج ابھی طلوع نہیں ہوا تھا، مگر ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے اندھیروں کے سینے میں روشنی کی پہلی کرن جنم لینے والی ہو۔ اسی مقدس شہر میں حضرت آمنہؓ کے گھر وہ عظیم سعادت طلوع ہوئی جس کا انتظار زمانے کر رہے تھے ، حضرت آمنہؓ نے ایک ایسے بچے کو جنم دیا جو پوری انسانیت کے لیے رحمت بن کر آیا، وہ بچہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تھے، جس کے ذکر سے دلوں کو سکون اور جس کی سیرت سے زندگی کو راستہ ملنا تھا ، صبح ہوئی تو سورج کی سنہری کرنیں مکہ کی وادی پر پھیل گئیں ، پہاڑوں کی چوٹیوں پر روشنی بکھری تو یوں لگا جیسے قدرت نے زمین کو مبارک باد دی ہو۔ کعبہ اپنی عظمت کے ساتھ کھڑا تھا اور مکہ کی فضا میں ایک نیا پیغام سانس لے رہا تھا۔

کسی کو معلوم نہ تھا کہ آج دنیا میں وہ ہستی تشریف لائی ہے جس کے ذریعے ظلمتوں میں بھٹکتی انسانیت کو ہدایت کا راستہ ملے گا، ایک بوڑھا شخص کعبہ کے قریب بیٹھا آسمان کو دیکھ رہا تھا اس نے سورج کی طرف دیکھا اور آہستہ سے بولا ’’آج کی صبح کچھ مختلف ہے، دل گواہی دے رہا ہے کہ کوئی بڑا راز دنیا پر آشکار ہونے والا ہے‘‘ قریب سے گزرنے والے ایک نوجوان نے حیرت سے پوچھا ’’بابا آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں؟‘‘ بوڑھے نے مسکرا کر کہا ’’بیٹا کبھی کبھی دل وہ بات محسوس کر لیتا ہے جسے آنکھیں دیکھ نہیں سکتیں آج مکہ کی ہوا میں عجیب سی خوشبو ہے اور آسمان کا رنگ بھی کچھ بدلا ہوا محسوس ہوتا ہے‘‘ اسی دوران ایک خبر شہر میں پھیلنے لگی کہ حضرت آمنہؓ کے ہاں بیٹے کی ولادت ہوئی ہے لوگ مبارک باد دینے لگے، عبدالمطلبؓ کو جب اپنے پوتے کی ولادت کی خبر ملی تو وہ خوشی سے جھوم اٹھے، انہوں نے بچے کو اپنی آغوش میں لیا، کعبہ کے قریب لے گئے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اس معصوم چہرے پر ایسی نورانیت تھی کہ دیکھنے والا بے اختیار محبت میں گرفتار ہو جاتا وہ بچہ صرف ایک گھر کی خوشی نہیں تھا، وہ آنے والے وقت میں پوری امت کے لیے رحمت کا چراغ بننے والا تھا اس کی زبان سے نکلنے والے الفاظ دلوں کو بدلنے والے تھے، اس کے اخلاق دشمنوں کو دوست بنانے والے تھے اور اس کی سیرت انسانیت کو عزت، عدل، محبت اور بھائی چارے کا درس دینے والی تھی مکہ کی وادی نے اس دن ایک عظیم راز اپنے سینے میں محفوظ کر لیا وہ وادی جہاں بعد میں حق کی صدا بلند ہونے والی تھی، جہاں توحید کا پرچم بلند ہونا تھا اور جہاں ظلم و جبر کے سامنے نبی کریم ﷺ نے حق کا پیغام پہنچانا تھا وقت گزرتا گیا، وہ بچہ جوان ہوا تو لوگ اس کی صداقت اور امانت کے گواہ بن گئے، اہل مکہ اسے ’’الصادق‘‘ اور ’’الامین‘‘ کہہ کر پکارنے لگے پھر وہ وقت بھی آیا جب غارِ حرا میں پہلی وحی نازل ہوئی اور انسانیت کو وہ پیغام ملا جس نے جہالت کے اندھیروں کو چیر کر علم و ہدایت کی روشنی پھیلا دی مگر اس عظیم انقلاب کی بنیاد اسی مبارک ولادت سے پڑ چکی تھی ، آج جب ربیع الاول کا چاند آسمان پر نمودار ہوتا ہے تو مسلمانوں کے دل محبتِ رسول ﷺ سے سرشار ہو جاتے ہیں گلیاں چراغوں سے روشن ہوتی ہیں، محافلِ میلاد سجتی ہیں اور نعتوں کی صدائیں بلند ہوتی ہیں لیکن نبی کریم ﷺ سے حقیقی محبت صرف چراغاں اور محفل تک محدود نہیں؛

آپ ﷺ کی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم آپ کی سیرت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، سچ بولیں، امانت ادا کریں، غریب کا سہارا بنیں، یتیم سے محبت کریں، والدین کا احترام کریں اور انسانیت کے ساتھ حسنِ سلوک کریں مکہ کی وہ مقدس وادی آج بھی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دنیا کے اندھیروں کو ختم کرنے کے لیے ایک سچی روشنی کافی ہوتی ہے وہ روشنی محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذاتِ اقدس تھی آپ ﷺ رحمت بن کر تشریف لائے اور قیامت تک آنے والی انسانیت کے لیے ہدایت کا راستہ روشن کر گئے سورج کی کرنیں ہر صبح مکہ کی وادی کو روشن کرتی ہیں، مگر نبی پاک ﷺ کی سیرت کا سورج آج بھی کروڑوں دلوں کو روشنی عطا کر رہا ہے یہی وہ نور ہے جو زمانوں کے بدلنے سے مدھم نہیں ہوتا، بلکہ ہر دور میں انسان کو محبت، امن، عدل اور ہدایت کی طرف بلاتا ہے۔

More posts