Baaghi TV

اٹیچمنٹ سے بیزاری تک ،تحریر:دانیال حسن چغتائی

انسانی تعلقات کی دنیا بھی عجیب تر حلاوتوں، تلخیوں اور ستم ظریفیوں سے بھری پڑی ہے۔ کچھ رشتے ہماری زندگی میں یوں داخل ہوتے ہیں جیسے تپتے صحرا میں بارانِ رحمت کا پہلا قطرہ، مگر وقت کے ساتھ وہی رشتے ایسے بنجر پن میں تبدیل ہو جاتے ہیں جہاں نہ کوئی جذبہ باقی بچتا ہے اور نہ گفتگو کا کوئی سرا ملتا ہے۔ تعلقات کا یہ دائرہ اکثر اوقات نہایت سادہ اور معصوم سے جملے کیسے ہو؟ یا آپ کا کیا حال ہے؟ سے شروع ہوتا ہے۔ لیکن جب وہی گرم جوشی، بے پناہ اٹیچمنٹ اور جذباتی وابستگی آہستہ آہستہ سرد مہری اور بیزاری میں بدلتی ہے، تو اس کا اختتام طویل، بوجھل اور اذیت ناک خاموشی پر ہوتا ہے۔

جب دو افراد کے درمیان کسی رشتے کا آغاز ہوتا ہے تو غیر معمولی اٹیچمنٹ جنم لیتی ہے۔ شروع میں چھوٹے سے چھوٹا پیغام، چند سیکنڈ کی بات چیت یا کیسے ہو؟ بھی دن بھر کی تھکن اتارنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ بات چیت کا یہ سلسلہ گھنٹوں تک پھیل جاتا ہے، جہاں ہر موضوع اہم، ہر ڈسکشن دلچسپ اور ہر خاموشی بھی خوبصورت معلوم ہوتی ہے۔ انسان اس خوش فہمی کا شکار ہو جاتا ہے کہ شاید اسے اپنی روح کا ہم سفر مل گیا ہے۔ اس مرحلے پر انسان اپنی حدود، اپنی پسند و ناپسند اور اپنی نجی دنیا کے تمام قفل کھول کر سامنے والے کے سامنے رکھ دیتا ہے۔ یہی وہ حد سے بڑھی ہوئی وابستگی اور لگاؤ ہے جو بعد میں آنے والی بیزاری کا بیج بوتی ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنا گہرا لگاؤ آخر بیزاری میں کیسے بدل جاتا ہے؟

اس کا سب سے پہلا سبب حد سے زیادہ دستیابی اور توازن کا فقدان ہے۔ جب انسان کسی کے لیے ہر وقت اور ہر حالت میں دستیاب رہنے لگتا ہے، تو اس کی قدر و قیمت کم ہونے لگتی ہے۔ انسان کی فطرت ہے کہ جس چیز کی فراوانی ہو، وہ اس سے جلدی اکتا جاتا ہے۔دوسرا بڑا سبب توقعات کا بوجھ ہے۔ اٹیچمنٹ کا بڑھنا اپنے ساتھ غیر منطقی توقعات لاتا ہے۔ جب سامنے والا انسان ہماری ہر توقع پر پورا نہیں اترتا، یا جب اس کے رویے میں ذرا سی تبدیلی آتی ہے، تو انسان کے اندر رنجشیں جنم لیتی ہیں۔ باتوں میں تکرار، شکوے شکایتیں اور وضاحتوں کا لمبا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔تیسرا سبب مصنوعی پن اور نیت کا فرق ہے۔ بعض اوقات لوگ اپنے وقت کی تسکین يا عارضی جذباتی ضرورت کے لیے رشتوں کا آغاز کرتے ہیں۔ جب ان کی ضرورت پوری ہو جاتی ہے یا کوئی نیا دلچسپ متبادل مل جاتا ہے، تو پرانے رشتے ان کے لیے بوجھ بننے لگتے ہیں۔

بیزاری اچانک نازل نہیں ہوتی، بلکہ یہ آہستہ آہستہ گفتگو کے رنگ اڑا دیتی ہے۔ پہلے جو جوابات سیکنڈوں میں آتے تھے، اب ان میں گھنٹوں کا تاخیر آنے لگتا ہے۔ بات چیت مختصر سے مختصر تر ہوتی چلی جاتی ہے۔ کیسے ہو؟ کے جواب میں پہلے جہاں پوری زندگی کا احوال پیش کیا جاتا تھا، وہاں اب ٹھیک یا مصروف کے بے جان الفاظ رہ جاتے ہیں۔یہ وہ دردناک مرحلہ ہوتا ہے جہاں انسان کو یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ سامنے والا اب اسے برداشت کر رہا ہے۔ جب انسان کو اپنی عدم موجودگی یا موجودگی کا فرق ختم ہوتا دکھائی دیتا ہے، تو اس کے اندر کی خود داری جاگ اٹھتی ہے۔ وہ شکوے کرنا چھوڑ دیتا ہے، وضاحتیں دینا بند کر دیتا ہے اور بالاخر اپنے آپ کو طویل خاموشی کے سپرد کر دیتا ہے۔

یہ خاموشی الفاظ کی غیر موجودگی نہیں ہوتی، بلکہ یہ اس بات کا اعتراف ہوتی ہے کہ اب اس رشتے میں کچھ بھی بچانے کے قابل نہیں رہا۔ جس رشتے کا آغاز کیسے ہو؟ سے ہوا تھا، اس کا اختتام دونوں طرف کے مکمل سکوت پر ہو جاتا ہے۔ نہ خدا حافظ ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی باقاعدہ بریک اپ ، خاموش معاہدہ ہوتا ہے کہ اب ہم ایک دوسرے کے لیے اجنبی بن چکے ہیں۔رشتوں کی اس دردناک پیش رفت سے بچنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم انسانوں سے اٹیچمنٹ میں توازن قائم رکھیں۔ کسی کو اپنی دنیا کا مرکز و محور نہ بنائیں اور نہ ہی خود کو کسی کے لیے اتنا ارزاں کریں۔ رشتے باہمی احترام، سچائی اور توازن سے چلتے ہیں۔ اگر کسی رشتے میں بیزاری داخل ہونے لگے تو زبردستی اسے گھسیٹنے کے بجائے، اپنی عزتِ نفس کو بچاتے ہوئے بروقت پیچھے ہٹ جانا ہی دانشمندی ہے، تاکہ کیسے ہو؟ کا سفر اگر خاموشی پر ختم ہو بھی، تو کم از کم انسان کے اندر کا انسان زندہ رہے۔

More posts