Baaghi TV

40 ملین پاکستانیوں کے کرپٹو اکاؤنٹس بغیر کسی ریگولیشن کے کھولے گئے: بلال بن ثاقب

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کابینہ سیکرٹریٹ کے اجلاس میں چیئرمین پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب نے کرپٹو کرنسی سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں تقریباً 4 کروڑ افراد کے کرپٹو اکاؤنٹس ہیں، جو کسی باقاعدہ ریگولیشن کے بغیر کھولے گئے۔

رانا محمود الحسن کی زیر صدارت اجلاس میں بلال بن ثاقب نے بتایا کہ دنیا میں بلاک چین ٹیکنالوجی کے ذریعے بانڈز جاری کیے جا رہے ہیں اور پاکستان بھی کرپٹو کرنسی کے حوالے سے دنیا کے تجربات کا جائزہ لے رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا کی تیسری یا چوتھی بڑی فری لانسر مارکیٹ ہے اور نوجوان تیزی سے ڈیجیٹل فنانس کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے ڈیجیٹل اثاثوں پر تقریباً 8 سال سے پابندی عائد تھی، تاہم پابندی ختم ہونے کے بعد ریگولیٹری نظام قائم کیا گیا ہے اور این او سی جاری کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان میں ورچوئل ایسٹ آپریٹرز کو 5 ستمبر تک این او سی یا متعلقہ لائسنس کے لیے درخواست دینے کی مہلت دی گئی ہے، جبکہ اب تک دو این او سی جاری کیے جا چکے ہیں۔

اجلاس میں سینیٹر سعدیہ عباسی نے سوال کیا کہ پاکستان میں کرپٹو صارفین ٹیکس نیٹ میں کیوں نہیں ہیں؟ اس پر بلال بن ثاقب نے بتایا کہ کرپٹو کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کے لیے پالیسی زیر غور ہے۔

سینیٹر دلاور خان نے سوال کیا کہ اگر کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کرنے والا شخص نقصان اٹھاتا ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟ بلال بن ثاقب نے کہا کہ اسٹیٹ بینک بھی اتھارٹی کا حصہ ہے۔ سیکریٹری کابینہ نے وضاحت کی کہ ریاستی کرنسی کی گارنٹی اسٹیٹ بینک دیتا ہے۔

چیئرمین پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی نے بتایا کہ ادارے کو 800 ملین روپے کا بجٹ دیا گیا تھا، تاہم صرف 8 فیصد خرچ کیا گیا اور 92 فیصد بجٹ واپس کردیا گیا۔

سینیٹر دلاور خان نے کہا کہ پاکستان میں کاروباری افراد بھی کرپٹو کرنسی کو پوری طرح نہیں سمجھتے۔ اس پر بلال بن ثاقب نے کہا کہ انٹرنیٹ فنانس کے نظام کو تبدیل کر رہا ہے اور پاکستانی نوجوان اس شعبے کو سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بینکوں کے ذریعے کرپٹو کرنسی خریدی جائے گی تو لین دین کا مکمل ریکارڈ موجود ہوگا۔

سیکریٹری کابینہ نے کہا کہ کرپٹو کرنسی کو ریاستی قواعد و ضوابط کے دائرے میں لانا ضروری ہے اور کرپٹو سے ٹیکس حاصل کرنا بنیادی مقصد نہیں ہے۔

سعدیہ عباسی نے کہا کہ کرپٹو کاروبار قیاس آرائی پر مبنی ہے، اسی لیے مولانا تقی عثمانی نے اس کی مخالفت کی ہے۔ اس پر بلال بن ثاقب نے کہا کہ ماضی میں لاؤڈ اسپیکر اور پرنٹنگ پریس کو بھی حرام قرار دیا جاتا رہا ہے۔

More posts