کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ ہمارے ملک میں سڑکیں صرف گاڑیوں کے گزرنے کے لیے نہیں بنتیں، شاید یہ ہمیں یہ بتانے کے لیے بھی بنائی جاتی ہیں کہ اس ملک میں کس کا راستہ پہلے ہے اور کس کا بعد میں۔ ایک سڑک پر ایمبولینس راستہ مانگتی رہتی ہے، عام آدمی ٹریفک میں گھنٹوں کھڑا رہتا ہے، کسی کو اپنی نوکری چھوٹنے کا خوف ہوتا ہے، کسی کو اسپتال پہنچنے کی جلدی، کسی کو گھر میں انتظار کرتے بچوں کی فکر… مگر پھر اچانک خبر آتی ہے کہ فلاں اہم شخصیت نے یہاں سے گزرنا ہے، اور چند لمحوں میں پوری سڑک بند کر دی جاتی ہے۔ عام آدمی رک جاتا ہے، وقت رک جاتا ہے، زندگی رک جاتی ہے… کیونکہ کسی خاص آدمی کو گزرنا ہے۔
یہ منظر صرف ایک سڑک کا منظر نہیں، یہ ہمارے پورے نظام کی تصویر ہے۔ ہم نے شاید ترقی کے نام پر عمارتیں تو بہت بنا لیں، مگر انسان اور انسان کے درمیان موجود فاصلے کو کم نہیں کر سکے۔ ہمارے ہاں دو نظام ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ ایک وہ جس میں طاقتور کے لیے راستے صاف کیے جاتے ہیں، دروازے کھولے جاتے ہیں، قطاریں ختم ہو جاتی ہیں اور قوانین بھی کبھی کبھی راستہ چھوڑ دیتے ہیں۔ دوسرا وہ نظام جس میں عام آدمی کو اپنی باری کا انتظار کرنا پڑتا ہے، سفارش ڈھونڈنی پڑتی ہے، دروازے کھٹکھٹانے پڑتے ہیں اور پھر بھی یہ یقین نہیں ہوتا کہ دروازہ کھلے گا یا نہیں۔
المیہ صرف یہ نہیں کہ وی آئی پی کے لیے سڑک بند کر دی جاتی ہے، اصل المیہ یہ ہے کہ ہم نے اس منظر کو معمول سمجھ لیا ہے۔ ہم نے غیر مساوی سلوک کو اتنی بار دیکھا ہے کہ اب ہمیں اس میں غیر معمولی کچھ محسوس ہی نہیں ہوتا۔ ہمیں یہ عجیب نہیں لگتا کہ ایک شخص کی حیثیت دوسرے ہزاروں انسانوں کے وقت سے زیادہ قیمتی سمجھ لی جائے۔ ہمیں یہ سوال پریشان نہیں کرتا کہ آخر ایک ریاست میں قانون کی عزت شخص کے عہدے سے کیوں بدل جاتی ہے؟
مگر شاید اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ کیا یہ صرف ریاستی نظام ہے؟ نہیں۔ یہی تعصب ہماری روزمرہ زندگی میں بھی سانس لیتا ہے۔ ہم بھی اپنے چھوٹے چھوٹے دائروں میں وی آئی پی سسٹم چلا رہے ہیں۔ ہم بھی لوگوں کو ان کی قابلیت سے زیادہ اپنی ضرورت کے مطابق اہمیت دیتے ہیں۔ جس شخص سے ہمارا مطلب نکلتا ہو، ہم اس کی معمولی خوبی کو بھی کمال بنا دیتے ہیں، اور جس شخص سے ہمارا کوئی مفاد وابستہ نہ ہو، اس کی بڑی سے بڑی صلاحیت بھی ہمیں نظر نہیں آتی۔
ہم کسی کو اس لیے قریب رکھتے ہیں کہ وہ ہمارے کام آتا ہے، کسی کو اس لیے اہم سمجھتے ہیں کہ اس کے پاس اختیار ہے، کسی کی بات اس لیے سنتے ہیں کہ اس کے ساتھ تعلق ہمارے فائدے میں ہے۔ اور کبھی کبھی ہمارے سامنے ایک ایسا باصلاحیت، باکردار اور ہنرمند انسان کھڑا ہوتا ہے جسے صرف اس لیے نظرانداز کر دیا جاتا ہے کہ وہ ہمارے کسی مطلب کا نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں معاشرہ صرف نظام نہیں رہتا، مزاج بن جاتا ہے۔
ہم شکایت کرتے ہیں کہ ملک میں میرٹ نہیں، مگر اپنے گھروں، اداروں، تعلقات اور محفلوں میں میرٹ کب قائم کرتے ہیں؟ ہم کہتے ہیں کہ سفارش نے ملک کو برباد کر دیا، مگر جب ہماری اپنی باری آتی ہے تو ہم بھی کسی جان پہچان والے کو آگے کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔ ہم کہتے ہیں کہ طاقتور کو قانون کے برابر ہونا چاہیے، مگر اپنی زندگی میں بھی تو ہم طاقتور تعلقات کے سامنے اصولوں کو خاموش کر دیتے ہیں۔
شاید اسی لیے مسئلہ صرف حکمرانوں کا نہیں، مسئلہ ہماری اجتماعی نفسیات کا بھی ہے۔ ہم نے انسان کی قدر اس کے کردار سے نہیں، اس کی حیثیت سے کرنا شروع کر دی ہے۔ ہمیں انسان کم اور اس کا عہدہ زیادہ دکھائی دیتا ہے، ہمیں صلاحیت کم اور تعلق زیادہ نظر آتا ہے، ہمیں حق کم اور مفاد زیادہ عزیز ہو گیا ہے۔ اور پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ معاشرے میں ناانصافی کیوں بڑھ رہی ہے۔
ناانصافی اچانک پیدا نہیں ہوتی۔ یہ روزمرہ کے ان چھوٹے چھوٹے فیصلوں سے جنم لیتی ہے جنہیں ہم معمولی سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ جب ہم کسی قابل انسان کو صرف اس لیے پیچھے کر دیتے ہیں کہ ہمارا تعلق کسی اور سے بہتر ہے، تو ہم بھی اسی غیر منصفانہ نظام کی ایک چھوٹی سی اینٹ بن جاتے ہیں۔ جب ہم کسی کے حق سے زیادہ اپنے تعلق کو اہمیت دیتے ہیں، تو ہم بھی ایک ایسی دنیا بنانے میں حصہ لیتے ہیں جہاں راستے قابلیت کے لیے نہیں، طاقت کے لیے کھلتے ہیں۔
اور پھر ایک دن یہی نظام اتنا بڑا ہو جاتا ہے کہ سڑکیں بھی بتانے لگتی ہیں کہ کون اہم ہے اور کون نہیں۔
مگر قائدِاعظم محمد علی جناحؒ نے جس پاکستان کا تصور دیا تھا، کیا وہ ایسا پاکستان تھا؟ کیا وہ پاکستان تھا جہاں کسی ایک شخص کے گزرنے کے لیے ہزاروں لوگ روک دیے جائیں؟ کیا وہ پاکستان تھا جہاں انسان کی قدر اس کے عہدے، تعلق، دولت اور اثر و رسوخ سے طے ہو؟ کیا وہ پاکستان تھا جہاں ایک باصلاحیت نوجوان صرف اس لیے پیچھے رہ جائے کہ اس کے پاس سفارش نہیں؟
نہیں۔
یہ وہ پاکستان نہیں تھا جس کا خواب ایک ایسی ریاست کے لیے دیکھا گیا تھا جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو، جہاں میرٹ عزت پائے اور جہاں انسان کی پہچان اس کے کردار اور قابلیت سے ہو۔ شاید ہم نے پاکستان تو بنا لیا، مگر اس پاکستان کی روح کہیں راستے میں چھوڑ آئے جس کا خواب دیکھا گیا تھا۔
اور آج سوال صرف یہ نہیں کہ سڑک کس کے لیے بند ہوئی؟ اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے اپنی زندگی کی کتنی سڑکیں خود بند کر رکھی ہیں،صرف اس لیے کہ وہاں سے گزرنے والا شخص ہمارے مطلب کا نہیں تھا؟
اور اگر ہم سب اپنی اپنی جگہ ایک چھوٹا سا وی آئی پی نظام چلا رہے ہیں، تو پھر ہمیں یہ حق کس نے دیا ہے کہ ہم بڑے نظام کی ناانصافی پر سوال اٹھائیں؟
