وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان کرغزستان میں ملاقات ہوئی، جس میں پاکستان اور ایران کے باہمی تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون کی تازہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
ملاقات شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہ اجلاس کے موقع پر ہوئی، جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط اور وسیع کرنے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔
وزیراعظم اور ایرانی صدر نے دونوں ممالک کے درمیان موجودہ صلاحیتوں اور دستیاب مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا اور مختلف شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف تین روزہ سرکاری دورے پر کرغزستان پہنچے ہیں، جہاں کرغزستان کی کابینہ کے چیئرمین عادلبیک قاسمالیف نے ان کا استقبال کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف یکم ستمبر کو ہونے والے ایس سی او سربراہی اجلاس سے خطاب کریں گے، جس میں وہ علاقائی اور عالمی امور پر پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے۔ وہ ایس سی او پلس سربراہی اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔
وزیراعظم پاکستان ورلڈ نومیڈ گیمز کی افتتاحی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شریک ہوں گے، جبکہ اجلاس کے موقع پر مختلف ممالک کے رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں باہمی تعلقات، تجارت و سرمایہ کاری، علاقائی تعاون اور دیگر اہم امور پر گفتگو متوقع ہے۔
ایس سی او سربراہی اجلاس کے ساتھ ایس سی او پلس اجلاس بھی یکم ستمبر کو ہوگا۔ وزیراعظم شہباز شریف 2 ستمبر کو کرغزستان کا سرکاری دورہ کریں گے، جہاں صدر نور گوزوئچ ژاپاروف سے ملاقات ہوگی اور پاک کرغز تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سمیت روس، چین اور ایران کے صدور بھی شرکت کر رہے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم بھی بشکیک میں ایک ہی مقام پر موجود ہوں گے۔
وفاقی وزرا جام کمال خان، عبدالعلیم خان اور عطاء اللہ تارڑ بھی وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ ہیں۔
