کسی بھی قوم کی ترقی کا اندازہ صرف بلند و بالا عمارتوں، کشادہ سڑکوں اور جدید ٹیکنالوجی سے نہیں لگایا جا سکتا۔ اصل ترقی یہ ہے کہ اس قوم کے شہریوں کو صاف ہوا، صاف پانی، صحت مند ماحول اور محفوظ زندگی میسر ہو۔
پاکستان آج ایک ایسے ماحولیاتی چیلنج سے گزر رہا ہے جسے نظر انداز کرنا آنے والی نسلوں کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہوگا۔کبھی شدید گرمی ہمیں جھلسا دیتی ہے، کبھی اچانک ہونے والی بارشیں شہری زندگی کو مفلوج کر دیتی ہیں، کبھی سیلاب بستیاں اجاڑ دیتا ہے اور کبھی دھند اور اسموگ سانس لینا دشوار بنا دیتی ہے۔ یہ محض موسم کی تبدیلیاں نہیں بلکہ ہمیں قدرت کی طرف سے دی جانے والی سنجیدہ وارننگز ہیں۔ہم نے اپنے شہروں کو پھیلایا، مگر درخت کم کر دیے۔ ہم نے سڑکیں بنائیں، مگر قدرتی راستوں اور نالوں کو نظر انداز کر دیا۔ ہم نے صنعتیں قائم کیں، مگر فضائی اور آبی آلودگی کے اثرات کو مناسب اہمیت نہ دی۔ ہم نے ترقی تو کی، لیکن بعض اوقات ایسی ترقی کی قیمت اپنے ماحول سے وصول کی۔
سوال یہ ہے کہ آخر کب تک؟
ہمارے لیے درخت صرف لکڑی یا سایہ نہیں۔ ایک درخت زندگی کا محافظ ہے۔ وہ فضا کو بہتر بنانے، گرمی کی شدت کم کرنے اور قدرتی ماحول کے توازن میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مگر افسوس کہ درخت لگانے کے بجائے ہم کئی جگہوں پر انہیں کاٹنے میں زیادہ تیزی دکھاتے ہیں۔شجرکاری کی تقریبات میں پودے لگتے ہیں، تصاویر بنتی ہیں، خبریں شائع ہوتی ہیں اور چند دن بعد وہ پودے ہماری نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ہمیں اپنی سوچ بدلنا ہوگی۔درخت لگانا مہم نہیں، ذمہ داری ہے۔پودا لگانا تقریب نہیں، مستقبل کی تعمیر ہے۔پاکستان میں پانی بھی ایک ایسا مسئلہ ہے جسے آج سنجیدگی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ پانی کا ضیاع، آبی ذخائر کی کمی اور آلودہ پانی آنے والے وقت میں ہمارے لیے مزید مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔ہم گھروں میں نل کھلا چھوڑ دیتے ہیں، سڑکوں پر پانی بہتا رہتا ہے اور دوسری طرف دنیا کے کئی حصے پانی کی کمی کے خطرے سے دوچار ہیں۔ہمیں آج پانی کی قدر کرنا ہوگی تاکہ کل ہماری نسلیں پانی کی ایک ایک بوند کو ترسنے پر مجبور نہ ہوں۔اسی طرح ہمارے شہروں کا کچرا ایک الگ المیہ ہے۔ گلیوں، بازاروں، ندی نالوں اور خالی جگہوں پر پھینکا جانے والا کچرا صرف بدصورتی پیدا نہیں کرتا بلکہ بیماریوں اور ماحولیاتی مسائل کو بھی جنم دیتا ہے۔
صفائی صرف بلدیاتی اداروں کی ذمہ داری نہیں۔اگر شہری کچرا سڑک پر پھینکیں اور پھر صفائی کے ناقص نظام کا شکوہ کریں تو مسئلہ صرف حکومت کا نہیں، ہماری اجتماعی تربیت کا بھی ہے۔ہمیں اپنے بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ سڑک ہماری بھی ہے، پارک ہمارا بھی ہے، دریا ہمارا بھی ہے اور یہ پورا پاکستان ہمارا بھی ہے۔جس سرزمین کو ہم اپنا گھر کہتے ہیں، اس گھر کو صاف رکھنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔میڈیا اس معاملے میں ایک طاقتور کردار ادا کرسکتا ہے۔ صحافیوں، کالم نگاروں اور ڈیجیٹل میڈیا کو ماحولیات کو صرف کسی عالمی دن تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں مستقل بنیادوں پر عوامی شعور پیدا کرنا ہوگا۔اسکولوں میں ماحولیات کے عملی پروگرام ہونے چاہئیں۔ ہر طالب علم کم از کم ایک پودا لگائے اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی لے۔ سرکاری ادارے شجرکاری کے ساتھ ساتھ درختوں کی بقا کا ریکارڈ بھی مرتب کریں۔ صنعتوں کو آلودگی کے معیار کا پابند بنایا جائے اور شہریوں کو صاف ماحول کے بنیادی حق کا احساس دلایا جائے۔ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ماحولیات کسی ایک جماعت، حکومت یا ادارے کا مسئلہ نہیں۔
یہ پاکستان کا مسئلہ ہے۔یہ کسان کا مسئلہ ہے، مزدور کا مسئلہ ہے، طالب علم کا مسئلہ ہے، تاجر کا مسئلہ ہے اور ہر اس ماں کا مسئلہ ہے جو اپنے بچے کو صاف ہوا اور محفوظ مستقبل دینا چاہتی ہے۔ہم اپنے بچوں کے لیے جائیدادیں چھوڑنے کی فکر کرتے ہیں، بینک بیلنس بنانے کی فکر کرتے ہیں، کاروبار اور دولت جمع کرنے کی فکر کرتے ہیں۔مگر کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ اگر ہوا صاف نہ رہی، پانی محفوظ نہ رہا اور موسم زندگی کے لیے ناقابلِ برداشت ہوگیا تو یہ دولت کس کام آئے گی؟ہمیں اپنی نسلوں کے لیے صرف زمین نہیں، قابلِ زندگی زمین چھوڑنی ہے۔آج وقت ہے کہ ہم اپنی ترجیحات بدلیں۔ایک درخت لگائیں۔ایک درخت بچائیں۔پانی کی ایک بوند بچائیں۔کچرا سڑک پر پھینکنے سے روکیں۔پلاسٹک کا غیر ضروری استعمال کم کریں۔اپنے اردگرد صفائی رکھیں۔اور دوسروں کو بھی ماحول کی حفاظت کا شعور دیں۔کیونکہ تبدیلی ہمیشہ حکومت کے دفتر سے شروع نہیں ہوتی، بعض اوقات تبدیلی ایک عام شہری کے ہاتھ میں پکڑے ہوئے ایک چھوٹے سے پودے سے شروع ہوتی ہے۔پاکستان ہمارا گھر ہے۔اگر ہم نے آج اس گھر کی حفاظت نہ کی تو کل ہماری آنے والی نسلیں ہم سے صرف یہ سوال کریں گی جب تمہارے پاس صاف ہوا، صاف پانی، درخت اور قدرتی حسن موجود تھا تو تم نے اسے محفوظ کیوں نہ رکھا؟اس سوال کا جواب آج ہمیں دینا ہے۔کل بہت دیر ہو سکتی ہے۔ماحول کی حفاظت دراصل پاکستان کی حفاظت ہے،اور پاکستان کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
