Baaghi TV

باغی،تحریر : محمد سبحان شوق

baaghitv

میں باغی ہوں۔
مگر کسی مذہب کا نہیں، کسی سیاست کا نہیں، کسی شخص کا نہیں۔
میں اُس رویّے کا باغی ہوں جو انسان کو انسان نہیں رہنے دیتا۔ اُس جھوٹے نظام کا باغی ہوں جہاں سچ بولنے والا تنہا رہ جاتا ہے اور مکر و فریب کا ہنر جاننے والا محفل کا معتبر آدمی بن جاتا ہے۔ جہاں کردار نہیں، تعلقات دیکھے جاتے ہیں؛ اصول نہیں، فائدہ دیکھا جاتا ہے؛ اور سچ نہیں، وہ بات پسند کی جاتی ہے جو ہمارے مطلب کی ہو۔
مجھے اس معاشرے سے شکایت نہیں، اس معاشرے کے چہروں سے شکایت ہے۔
ہر طرف ایک عجیب کھیل جاری ہے۔
دفتر میں سیاست ہے، بازار میں سیاست ہے، رشتوں میں سیاست ہے، دوستی میں سیاست ہے۔ کوئی کسی کو آگے بڑھتا نہیں دیکھ سکتا، کوئی کسی کے سکون سے خوش نہیں، کوئی کسی کی کامیابی کو اپنی شکست سمجھتا ہے۔ ایک شخص دوسرے کے خلاف تیسرے کے کان میں زہر گھولتا ہے، تیسرا چوتھے کو بھڑکاتا ہے اور پھر سب ایک ہی میز پر بیٹھ کر مسکراتے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
میں اس مسکراہٹ کا باغی ہوں۔
مجھے اُس شخص سے نفرت ہے جو سامنے محبت کے الفاظ بولتا ہے اور پیٹھ پیچھے تمہاری قیمت لگاتا ہے۔
مجھے اُس شخص سے نفرت ہے جو اپنے راز بتاتا ہے، سننے والا کمزوریاں سنتا ہے، تمہارا دکھ سمجھنے کا ڈراما کرتا ہے اور پھر موقع ملتے ہی انہی کمزوریوں کو تمہارے خلاف استعمال کرتا ہے۔
اور سب سے زیادہ نفرت اُس انسان سے ہے جو لوگوں کو آپس میں لڑاتا ہے اور پھر دونوں طرف بیٹھ کر امن کا علم بردار بنا پھرتا ہے۔
یہ کیسا معاشرہ ہے؟
یہاں لوگ دوسروں کے گھر اجاڑ کر اپنے گھر کی دیواروں پر شرافت کے کتبے لگاتے ہیں۔
یہاں رات کے سناٹے میں کچھ پاک باز لوگ اُس عورت کے ساتھ بیٹھ کر ہنستے ہیں جسے دن کے اجالے میں دیکھنا بھی اپنی عزت کے خلاف سمجھتے ہیں۔ رات کو اُس کے لفظوں پر قہقہے لگاتے ہیں، اُس کی موجودگی سے لطف اٹھاتے ہیں، اُس کے دکھ سنتے ہیں، اُس کے وجود کو اپنے لیے تفریح بناتے ہیں؛ پھر صبح ہوتے ہی اپنے کردار کا حساب دینے کے بجائے انگلی اُسی کردار پر اٹھاتے ہیں۔
یہ بغاوت اُس عورت کے حق میں نہیں، اُس منافقت کے خلاف ہے جو عورت کو رات کی تنہائی میں انسان سمجھتی ہے اور صبح کے مجمع میں بدنامی کا نام دے دیتی ہے۔
مجھے اُس ’’پاکیزگی‘‘ سے بھی بغاوت ہے جسے اپنے کردار سے زیادہ دوسروں کے کردار کی نگرانی کا شوق ہے۔
امیرِ شہر کے محل سے لے کر غریب کی جھونپڑی تک، مسئلہ دولت کا نہیں، نیت کا ہے۔
کسی کے پاس دولت ہے تو وہ اپنے اختیار کو انسانوں کی گردنوں پر رکھ دیتا ہے، کسی کے پاس عہدہ ہے تو وہ اسے انسانوں کی تذلیل کا لائسنس سمجھ لیتا ہے، کسی کے پاس زبان ہے تو وہ اسے دوسروں کی عزت کاٹنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔
اور عجیب بات یہ ہے کہ ہر شخص خود کو مظلوم سمجھتا ہے۔
ہر شخص کو اپنی غلطی چھوٹی اور دوسرے کی غلطی پہاڑ نظر آتی ہے۔
ہم نے اپنے لیے بہانے اور دوسروں کے لیے فیصلے پیدا کر رکھے ہیں۔
مذہب کے نام پر دل توڑتے ہیں، سیاست کے نام پر لوگو کو توڑتے ہیں، دولت کے نام پر انسانوں کو خریدتے ہیں، غربت کے نام پر عزت چھینتے ہیں، محبت کے نام پر قبضہ کرتے ہیں اور دوستی کے نام پر مفاد۔
پھر حیران ہوتے ہیں کہ معاشرہ بگڑ کیوں گیا۔
معاشرہ اچانک نہیں بگڑتا۔
یہ روز تھوڑا تھوڑا مرتا ہے۔
جب ایک ملازم دوسرے کی ترقی روکنے کے لیے جھوٹ بولتا ہے، جب ایک دکاندار گاہک کو دھوکا دیتا ہے، جب ایک دوست دوسرے دوست کی غیر موجودگی میں اس کا مذاق اڑاتا ہے، جب ایک شخص کسی کے گھر میں فساد کی ایک بات پہنچا کر خاموشی سے تماشا دیکھتا ہے، جب کوئی طاقتور اپنے اثر و رسوخ سے کمزور کی آواز دبا دیتا ہے، جب کوئی شخص اپنے گناہ چھپا کر دوسروں کے عیب اچھالتا ہے تب معاشرہ مرتا ہے۔
اور میں اسی موت کے خلاف باغی ہوں۔
مجھے ایسے شہر سے نفرت ہے جہاں عمارتیں بلند اور کردار پست ہوں۔
مجھے ایسی محفل سے نفرت ہے جہاں سب ایک دوسرے کو ’’بھائی‘‘ کہتے ہوں مگر کسی ایک کے گرنے پر سب سے پہلے تالیاں بجائیں۔
مجھے ایسے رشتوں سے بغاوت ہے جن کی بنیاد سچ نہیں، ضرورت ہو۔
میں کسی سے فرشتہ بننے کا مطالبہ نہیں کرتا۔
انسان ہو، غلطی کرو۔
مگر جھوٹ کو اصول نہ بناؤ۔
غلطی کرو تو مان لو۔
مگر دھوکے کو ذہانت کا نام نہ دو۔
اختلاف کرو۔
مگر انسان کو دشمن نہ بناؤ۔
اور اگر کسی سے نفرت ہے تو سامنے کہو۔
میں باغی ہوں اُس معاشرے کے خلاف جہاں ہر شخص اپنے چہرے پر شرافت کا نقاب رکھتا ہے اور دوسرے کا نقاب اتارنے میں مصروف ہے۔
میں باغی ہوں اُس خاموش ظلم کے خلاف جس میں کوئی ہاتھ نہیں اٹھاتا، مگر الفاظ سے انسان مار دیے جاتے ہیں۔
میں باغی ہوں اُس جھوٹ کے خلاف جسے ہم روزمرہ زندگی کہتے ہیں۔
اور اگر میری یہ بغاوت کسی کو بری لگتی ہے تو لگے۔
میں اب ہر چہرے کو خوش رکھنے کے لیے اپنے ضمیر کو قتل نہیں کر سکتا۔
کیونکہ مجھے یقین ہے
معاشرہ تب نہیں بدلتا جب لوگ دوسروں کی اصلاح شروع کرتے ہیں؛ معاشرہ اُس دن بدلتا ہے جب انسان آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر پہلی مرتبہ خود سے پوچھتا ہے:
’’جس کردار پر میں انگلی اٹھا رہا ہوں، کہیں وہ میرے اپنے چہرے پر تو نہیں؟‘‘

More posts