نیویارک:نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کی سوشل میڈیا پر تشہیر کے لیے تقریباً 200 انفلوئنسرز پر مشتمل نیٹ ورک سامنے آگیا ہے، جس کے ذریعے میئر کے دفتر کے پیغامات، پالیسی مؤقف اور دیگر مواد سوشل میڈیا پر پھیلانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
یہ انکشاف کولمبیا جرنلزم ریویو کی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے، جس کے مطابق ممدانی انتظامیہ سے منسلک انفلوئنسرز کو ایک خفیہ اور انکرپٹڈ سگنل گروپ کے ذریعے روزانہ کی بنیاد پر ٹاکنگ پوائنٹس، ویڈیو کلپس اور دیگر مواد فراہم کیا جاتا ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ گروپ گزشتہ سال ممدانی کی انتخابی مہم کے دوران بننے والے Creators4Zohran نیٹ ورک کی نئی شکل ہے۔ انتخابی مہم کے دوران ممدانی کی حمایت کرنے والے متعدد کانٹینٹ کریئیٹرز کو بعد ازاں میئر کے دفتر کے پیغامات اور مؤقف کی تشہیر کے لیے استعمال کیا گیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس گروپ کو نیویارک سٹی میئر کے دفتر میں نیو میڈیا اور کلچرل کمیونیکیشنز کی ڈائریکٹر ایمیلیا رولینڈ اور ان کا عملہ چلا رہا ہے۔ گروپ کے ارکان کو مبینہ طور پر روزانہ کی بنیاد پر میئر کے دفتر کے اہم نکات اور قابلِ استعمال ویڈیو کلپس فراہم کیے جاتے ہیں تاکہ وہ انہیں اپنی سوشل میڈیا پوسٹس میں استعمال کرسکیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بعض انفلوئنسرز کو مخصوص پیغام رسانی کی مہمات کے لیے سرکاری رقم بھی مل رہی ہے، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ مجموعی طور پر کتنے انفلوئنسرز کو کتنی رقم ادا کی گئی۔رپورٹ کے مطابق سیاسی شعبے سے وابستہ بعض افراد کا کہنا ہے کہ جب انفلوئنسرز کو ویکسینیشن یا عوامی آگاہی جیسی مخصوص مہمات میں شامل کیا جاتا ہے تو عموماً انہیں معاوضہ دیا جاتا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ ممدانی کے موجودہ نیٹ ورک میں کون سے افراد معاوضہ وصول کر رہے ہیں اور کن افراد کی سرگرمیاں رضاکارانہ ہیں۔
رپورٹ میں انفلوئنسر ایلی اوبرائن کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جنہوں نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں ممدانی کو ’’بے قابو خوشی کا میئر‘‘ قرار دیا۔ اسی طرح دیگر سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے بھی ممدانی کی پالیسیوں اور بیانات کے حق میں مواد شیئر کیے جانے کی نشاندہی کی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق بعض نمایاں انفلوئنسرز نیویارک شہر سے باہر بھی رہتے ہیں، جس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ میئر کے دفتر کا یہ سوشل میڈیا نیٹ ورک شہر کی مقامی حکومت اور عوامی رابطہ کاری کے روایتی طریقوں سے کس حد تک مختلف ہے۔
انفلوئنسرز کے لیے انکرپٹڈ سگنل گروپ کا استعمال بھی تنازع کا باعث بن گیا ہے۔ نیویارک شہر کے سرکاری حکام سے متعلق قوانین کے تحت حکومتی امور سے متعلق پیغامات اور ریکارڈ محفوظ رکھنا ضروری ہوتا ہے تاکہ عوام اور نگرانی کرنے والے ادارے حکومتی فیصلوں کے عمل کو دیکھ سکیں۔رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ سگنل ایسی سہولت رکھتا ہے جس کے ذریعے پیغامات خودکار طور پر حذف کیے جا سکتے ہیں، جس کے باعث سرکاری ریکارڈ محفوظ رکھنے کے حوالے سے سوالات پیدا ہوئے ہیں۔یہ معاملہ نیویارک کے سابق میئر بل ڈی بلاسیو کے دور میں بھی سامنے آیا تھا، جب ان کے بعض معاونین کی جانب سے انکرپٹڈ پیغام رسانی کے استعمال پر ریکارڈ برقرار رکھنے سے متعلق اعتراضات اٹھائے گئے تھے۔
سگنل گروپ اور سرکاری ریکارڈ سے متعلق سوالات پر ظہران ممدانی نے ابتدا میں کہا کہ انفلوئنسرز سے رابطہ کرنا ریڈیو، ٹیلی وژن اور دیگر میڈیا ذرائع کے ذریعے عوام تک معلومات پہنچانے سے مختلف نہیں۔تاہم انہوں نے ساتھ ہی اس بات پر زور دیا کہ ان کی انتظامیہ قانونی تقاضوں کی پابندی کرے گی۔ممدانی نے کہا کہ ان کی انتظامیہ سرکاری ریکارڈ سے متعلق تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کی کوشش کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی کا کوئی معاملہ سامنے آیا تو انتظامیہ اس کا فوری جائزہ لے گی اور اصلاحی کارروائی کرے گی۔
میئر کے دفتر نے رپورٹ میں اٹھائے گئے مخصوص سوالات کا براہِ راست جواب دینے کے بجائے ممدانی کے بیان کی جانب رہنمائی کی۔یوں ممدانی انتظامیہ کے تقریباً 200 انفلوئنسرز پر مشتمل نیٹ ورک نے سرکاری پیغام رسانی، سیاسی تشہیر، سرکاری وسائل کے استعمال اور حکومتی ریکارڈ محفوظ رکھنے کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
