چین نے نیپال میں گزشتہ ہفتے آنے والے تباہ کن لینڈ سلائیڈنگ کے بعد ہنگامی امدادی کارروائیوں میں تعاون مزید بڑھا دیا ہے۔ چینی حکام نیپال کو سیٹلائٹ ڈیٹا، موسمیاتی معلومات اور جدید پیشگی انتباہی خدمات فراہم کر رہے ہیں تاکہ سرحد پار قدرتی آفت کی نگرانی اور امدادی کارروائیوں کو مؤثر بنایا جاسکے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے جمعرات کو کہا کہ آفت کے بعد سے چین کے محکمہ موسمیات اور آبی وسائل کے حکام نیپال کے متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں، نگرانی سے متعلق معلومات کا تبادلہ کر رہے ہیں اور قدرتی آفت سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چین متعلقہ شعبوں میں نیپال کے ساتھ تعاون مزید مضبوط بنائے گا اور ہنگامی امداد، ریسکیو اور قدرتی آفت سے نمٹنے کی کوششوں کے لیے نیپال کو بھرپور معاونت فراہم کرتا رہے گا۔
چین کے محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ ہفتے نیپال میں مٹی کے تودے گرنے کے واقعے کے بعد نیپال کے لیے موسمیاتی معاونت میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں سیٹلائٹ ڈیٹا اور موسمیاتی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ متاثرہ علاقوں کی نگرانی، خطرات کا جائزہ لینے اور ہنگامی ردعمل میں مدد مل سکے۔
چینی محکمہ موسمیات نیپال کو چین کے مصنوعی ذہانت سے لیس موسمیاتی پیشگی انتباہی نظام ’’مازو‘‘ (MAZU) کے ذریعے مختلف موسمیاتی معلومات فراہم کر رہا ہے۔ ان میں فینگ یون-3 اور فینگ یون-4 موسمیاتی سیٹلائٹس سے حاصل ہونے والا کثیرالمصادر سیٹلائٹ ڈیٹا اور دیگر معلومات شامل ہیں۔
26 اگست کو چین اور نیپال کے درمیان گیرونگ-راسوا سرحدی گزرگاہ کے قریب شدید لینڈ سلائیڈنگ ہوئی تھی، جس کے بعد چین کے نیشنل سیٹلائٹ میٹرولوجیکل سینٹر نے متاثرہ علاقوں میں بارش اور موسمی حالات میں ہونے والی تبدیلیوں کی مسلسل نگرانی جاری رکھی۔
چین نے ہائی ریزولوشن سیٹلائٹ ڈیٹا کے ذریعے بالائی علاقوں میں برف اور چٹانوں کے تودے گرنے کے مقامات اور دریاؤں کے راستوں کی بھی نگرانی کی، جس سے قدرتی آفت کے نقصانات کا جائزہ لینے، ریسکیو کارروائیوں اور موسمیاتی خدمات میں مدد مل رہی ہے۔
چینی محکمہ موسمیات نے نیپال کے لیے تیار کی گئی موسمیاتی خدمات کو فینگ یون سیٹلائٹس کے ساتھ حقیقی وقت میں منسلک کردیا ہے، جس کے ذریعے بادلوں کی شدید سرگرمی اور آسمانی بجلی کی صورتحال کی فوری نگرانی ممکن ہے۔
اس نظام کی مدد سے نیپال وسیع علاقے میں بارش کی صورتحال اور شدید موسمی سرگرمیوں پر نظر رکھ سکتا ہے، جس سے ممکنہ خطرات کی بروقت نشاندہی اور ہنگامی اقدامات میں مدد ملے گی۔
چین کا کہنا ہے کہ وہ نیپال کے ساتھ موسمیاتی نگرانی، آبی وسائل اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے شعبوں میں تعاون جاری رکھتے ہوئے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کی کوششوں کو مزید مؤثر بنانے میں معاونت فراہم کرے گا۔
