ممبئی: بالی ووڈ کے معروف اداکار سنجے دت کی جانب سے مہاراشٹرا میں مراٹھی زبان سے متعلق حکومتی پالیسی پر طنز کے بعد سابق جیل افسر نے اداکار کے یروڈا جیل میں گزارے گئے دنوں سے متعلق دلچسپ واقعہ بیان کردیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق تھانے میں دہی ہانڈی کی تقریب کے دوران سنجے دت نے مہاراشٹرا کے ٹرانسپورٹ وزیر پرتاپ سرنائیک کی موجودگی میں ان کی مراٹھی زبان سے متعلق ہدایات پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پونے کی یروڈا جیل میں چھ سال رہنے کے باوجود مراٹھی زبان نہیں سیکھ سکے۔پرتاپ سرنائیک نے ٹیکسی ڈرائیوروں کو 15 اگست تک مراٹھی سیکھنے کی مہلت دی تھی اور خبردار کیا تھا کہ مقررہ مدت تک زبان نہ سیکھنے والے ڈرائیوروں کے پرمٹ معطل کیے جاسکتے ہیں۔تاہم ہندی بولنے والی آبادی کے جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے مہاراشٹرا کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے اس ہدایت پر ایک سال کے لیے عمل درآمد مؤخر کردیا تھا۔
سنجے دت کو ممبئی کی خصوصی ٹاڈا عدالت نے غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے جرم میں چھ سال قید کی سزا سنائی تھی۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے ان کی سزا کم کرکے پانچ سال کردی۔ رپورٹس کے مطابق پیرول، فرلو اور دیگر قانونی رعایتوں کے باعث انہوں نے جیل میں چار سال سے کچھ زیادہ عرصہ گزارا۔مہاراشٹرا کے محکمہ جیل خانہ جات کی سابق ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) سواتی ساٹھے نے سنجے دت کے جیل کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ اداکار مراٹھی تو نہیں سیکھ سکے، تاہم انہوں نے جیل میں ’’دھمکی کی زبان‘‘ ضرور سیکھ لی تھی۔سواتی ساٹھے کے مطابق اسلحہ ایکٹ کے تحت سزا ہونے کے بعد سنجے دت شدید صدمے میں تھے اور جیل کی زندگی قبول کرنا ان کے لیے آسان نہیں تھا۔ جیل پہنچنے کے بعد انہوں نے قیدیوں کے لیے مقررہ یونیفارم پہننے سے انکار کردیا۔جیل وارڈنز نے انہیں سفید رنگ کی قیدیوں والی شرٹ پہننے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی، تاہم سنجے دت نے مبینہ طور پر غصے کا اظہار کیا اور عملے کے ساتھ بدتمیزی کی۔
اس وقت جیل کی سپرنٹنڈنٹ سواتی ساٹھے تھیں، جو سخت نظم و ضبط کے لیے مشہور تھیں۔ انہیں خطرناک جرائم پیشہ افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے والی افسر کے طور پر جانا جاتا تھا۔سنجے دت کے رویے کی اطلاع ملنے پر سواتی ساٹھے خود ان کی بیرک پہنچیں۔ انہوں نے اداکار کی جانب ڈنڈا کرتے ہوئے سخت لہجے میں کہا کہ ’’سنجو، باتوں کی زبان سمجھو گے یا لاتوں کی؟‘‘سواتی ساٹھے کے سخت رویے سے سنجے دت خوف زدہ ہوگئے اور فوری طور پر چینجنگ روم میں جاکر جیل کی وردی پہن لی۔ سابق افسر کے مطابق اس واقعے کے بعد سنجے دت نے جیل میں دوبارہ اس نوعیت کا رویہ اختیار نہیں کیا۔بعد ازاں سنجے دت اور سواتی ساٹھے سمیت جیل حکام کے درمیان دوستانہ تعلقات قائم ہوگئے۔ سنجے دت نے جیل انتظامیہ کے مختلف پروگراموں کے انعقاد میں بھی تعاون کیا اور اپنی فلم ’’لگے رہو منا بھائی‘‘ سے متاثر ہوکر جیل ریڈیو چلانے میں بھی کردار ادا کیا۔سواتی ساٹھے کے مطابق جیل میں سنجے دت کا رویہ وقت کے ساتھ بہتر ہوگیا اور انہوں نے قیدی کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں اور جیل کے نظم و ضبط کو قبول کرلیا۔
