منظر کشی: یادوں کا ویرانہ
آسمان پر ساون کے کالی سیاہ بادل ڈیرے ڈال چکے تھے اور ٹھنڈی ہوا کے تند جھونکے کھڑکی کے بوسیدہ پردوں کو بے رحمی سے ہلا رہے تھے۔ اسد خاموشی سے اس پرانے اور ویران مکان کے اندھیرے کمرے میں کھڑا تھا۔ یہ وہی جگہ تھی جہاں کبھی سیما کے کھلکھلاتے قہقہے گونجتے تھے اور زندگی مسکراتی تھی۔ آج وہ یہاں کسی زخمی پروانے کی طرح بھٹک رہا تھا، جس کا مقصد اب صرف اور صرف اپنی شمع کے مٹتے ہوئے نشانات کو ڈھونڈنا تھا۔ کمرے کی اداسی اس کے دل کی ویرانی کا منہ بولتا ثبوت تھی۔
ڈائری کا ملنا: ایک انمول راز
اسی اثنا میں ساون کی پہلی بھاری بوند تپتی ہوئی مٹی پر گری اور ایک سوندھی سی خوشبو پورے کمرے میں پھیل گئی۔ اس خوشبو نے اسد کے وجود میں یادوں کا ایک نیا چراغ روشن کر دیا۔ اس نے بڑھ کر لکڑی کی پرانی الماری کا دروازہ کھولا، جو ایک دردناک چرچراہٹ کے ساتھ کھلتا چلا گیا۔ الماری کے ایک اندھیرے اور دھندلے کونے میں اسے گرد آلود ڈائری نظر آئی۔
کانپتے ہاتھوں اور دھڑکتے دل کے ساتھ جب اس نے اس ڈائری کو اٹھا کر کھولا، تو اس کی آنکھیں پھٹ گئیں۔ وہ سیما کی ڈائری تھی! اس کا ایک ایک صفحہ اسد کی یاد میں لکھی گئی درد بھری شاعری سے بھرا ہوا تھا۔ ڈائری کے پہلے ہی صفحے پر جلی حروف میں یہ شعر لکھا تھا:
تیرے بغیر بھی ہم نے گزار لی زندگی اپنی
مگر یہ دل کبھی مانا نہیں کہ تم میرے نہیں
ان الفاظ کو دیکھ کر اسد کو ایسا لگا جیسے ان کی ادھوری محبت کی داستان چیخ چیخ کر گواہی دے رہی ہو۔
تڑپ اور تلاش: جنون کا سفر
ڈائری کے زرد صفحات پر اسد کے گرم آنسو ٹپک پڑے اور روشنائی کو پھیلانے لگے۔ سیما کی لکھی ہوئی شاعری نے اس کے ساکت دل میں ایک تلاطم برپا کر دیا۔ اب اس کے لیے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنا ممکن نہ رہا۔ محبت کی تڑپ نے اسے بے چین کر دیا۔ اس نے ڈائری کو اپنے سینے سے بھیچ لیا اور دیوانہ وار باہر تیز برسات میں نکل پڑا۔ باہر ساون کا شور تھا، بادلوں کی گرج تھی، اور اسد کے دل کے نہاں خانے میں صرف سیما کے نام کی پکار تھی۔ وہ بارش کی پرواہ کیے بغیر، گلیوں اور سڑکوں پر بھاگتا رہا، اس امید کے سہارے کہ شاید وہ اپنی کھوئی ہوئی کائنات کو دوبارہ پا لے گا۔
دردناک موڑ: حقیقت کا تھپڑ
تیز مینہ میں پوری طرح بھیگتے ہوئے جب اسد سیما کے بتائے ہوئے آخری پتے پر پہنچا، تو وہاں کی خاموشی نے اس کا استقبال کیا۔ تفتیش کرنے پر اسے معلوم ہوا کہ زمانوں پہلے سیما کی شادی ہو چکی ہے اور وہ اب کسی اور کے آنگن کو روشن کرنے کے لیے اس شہر سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دور جا چکی ہے۔ یہ سچائی سن کر اسد کے پاؤں تلے سے جیسے زمین ہی نکل گئی۔ اس کے خواب، اس کی امیدیں اور اس کا جنون ایک ہی لمحے میں شیشے کی طرح چور چور ہو گئے۔ ساون کی یخ بستہ ہوا بھی اس کے دل میں لگی آگ کو سرد نہ کر سکی۔
اختتام: محبت کی لافانی فتح
وہ ٹوٹے ہوئے حوصلے کے ساتھ تیز برسات میں وہیں سڑک کے کنارے، گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔ آسمان سے گرتا ہوا بے رحم پانی اور اس کی مظلوم آنکھوں کے گرم آنسو مل کر ایک ہو گئے۔ وہ روتی ہوئی، نمناک آنکھوں سے آسمان کی طرف دیکھتا ہے، جیسے اپنے نصیب کا شکوہ کر رہا ہو۔
لیکن اگلے ہی پل، وہ دھیرے سے سیما کی اس ڈائری کو اپنے کوٹ کے اندر، اپنے دل کے بالکل قریب چھپا لیتا ہے اور اس کے بھیگے ہوئے اداس چہرے پر ایک پرسکون مسکراہٹ ابھر آتی ہے۔ سیما بھلے ہی اس کی قسمت کے ماتھے پر نہیں لکھی تھی، لیکن ساون کی ہر گرتی بوند میں اور اس ڈائری کے ہر ایک لفظ میں وہ ہمیشہ اسی کی رہے گی۔ محبت پا لینے کا نام نہیں، کسی کو خود میں جذب کر لینے کا نام ہے۔
