Baaghi TV

اظہارِ نعت ،عشقِ رسول ﷺ کا ایک روشن اظہار ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

shahid naseem

ادب کی دنیا میں کچھ اصناف ایسی ہیں جنہیں محض فن کہنا ان کی عظمت کو محدود کر دیتا ہے۔ نعت بھی ایسی ہی ایک مقدس صنفِ سخن ہے۔ یہ صرف لفظوں کا حسن نہیں، دل کی کیفیت ہے؛ یہ محض شاعری نہیں، عقیدت کا اظہار ہے؛ یہ صرف قافیہ و ردیف کا التزام نہیں بلکہ محبتِ رسولِ اکرم ﷺ کے اس احساس کا نام ہے جس کے سامنے صاحبِ قلم اپنی تمام تر علمی و ادبی صلاحیتوں کے باوجود خود کو ایک نیازمند اور کم مایہ خادم تصور کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نعت لکھنے والا شاعر دراصل الفاظ نہیں سمیٹتا، وہ اپنے دل کی عقیدت کو حروف کا لباس پہناتا ہے۔

نعت گوئی کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی اسلامی تہذیب کی ادبی روایت۔ صحابۂ کرامؓ میں حضرت حسان بن ثابتؓ کو بارگاہِ رسالت ﷺ میں نعت گوئی کا جو شرف حاصل ہوا، اس کے بعد ہر دور میں اہلِ قلم نے اپنے اپنے انداز میں مدحتِ مصطفیٰ ﷺ کے چراغ روشن کیے۔ اردو ادب کی خوش نصیبی ہے کہ اس کے دامن میں نعت کا ایک نہایت وسیع، خوب صورت اور تابناک سرمایہ موجود ہے۔ اس روایت کو آگے بڑھانے والوں میں ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کا نام بھی احترام اور محبت کے ساتھ لیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر اظہار احمد گلزار بنیادی طور پر ایک محقق، نقاد، شاعر، افسانہ نگار، کالم نگار اور سیرت نگار کی حیثیت سے ادبی دنیا میں اپنی شناخت رکھتے ہیں۔ ان کی علمی و ادبی شخصیت کا ایک اہم پہلو نعت اور سیرتِ رسول ﷺ سے ان کی گہری وابستگی ہے۔ ان کی تصنیف „اظہارِ نعت“ اسی محبت اور عقیدت کا تخلیقی اظہار ہے۔ دستیاب ادبی تجزیوں میں بھی اس مجموعے کو ان کا طبع زاد اردو نعتیہ مجموعہ قرار دیا گیا ہے۔
„اظہارِ نعت“ کے عنوان ہی میں ایک خوب صورت معنوی کیفیت پوشیدہ ہے۔ اظہار بھی ہے اور نعت بھی؛ یعنی وہ اظہار جس کی منزل مدحتِ محبوبِ خدا ﷺ ہے۔ شاعر کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہی ہوتا ہے کہ وہ اس ذاتِ اقدس ﷺ کی تعریف کس زبان میں کرے جس کی تعریف خود ربِ کائنات نے فرمائی۔ یہی احساس نعت گو شاعر کو عجز کی طرف لے جاتا ہے۔ ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کے ہاں بھی یہی عجز و انکسار نمایاں دکھائی دیتا ہے۔

ان کا یہ شعر دیکھیے:
عشق حاصل اس کو ہی پیارے نبیؐ کا ہو گیا
جو گدا دل سے مدینے کی گلی کا ہو گیا
یہ صرف ایک شعر نہیں بلکہ نعت گو کے باطن کی کیفیت کا آئینہ ہے۔ مدینہ منورہ کی گلیوں کا گدا ہونا دراصل دنیاوی مرتبوں سے بے نیاز ہو کر عشقِ رسول ﷺ کی دولت حاصل کرنا ہے۔ نعت کی اصل روح بھی یہی ہے کہ شاعر اپنے فن کو اپنی بڑائی کا ذریعہ نہیں بناتا بلکہ اسے غلامیِ مصطفیٰ ﷺ کی نسبت سمجھتا ہے۔
ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کی نعتیہ شاعری کا ایک قابلِ توجہ پہلو یہ ہے کہ وہ حضور اکرم ﷺ کی مدحت کو صرف روایتی توصیفی انداز تک محدود نہیں رکھتے بلکہ سیرتِ طیبہ کے اخلاقی، انسانی اور رحمانی پہلوؤں کو بھی اپنی شاعری کا موضوع بناتے ہیں۔ ان کے ہاں رسولِ رحمت ﷺ یتیموں، بے نواؤں اور بے سہارا انسانوں کے لیے رحمت کا استعارہ ہیں۔ ایک شعر میں کہتے ہیں:
یتیموں، بے نواؤں اور بیواؤں کی خاطر ہی
ہے ہستی آپؐ کی بے حد مہرباں، یا رسول اللہ

یہاں نعت ایک وسیع انسانی پیغام میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کی ذاتِ اقدس صرف ایک تاریخی شخصیت نہیں بلکہ انسانیت کے لیے رحمت، عدل، محبت اور اخلاق کا کامل نمونہ ہے۔ اسی لیے حقیقی نعت وہی ہے جو محبتِ رسول ﷺ کے ساتھ سیرتِ رسول ﷺ کی روشنی بھی قاری کے دل تک پہنچائے۔
ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کا علمی مزاج بھی ان کی نعت کو ایک خاص فکری جہت عطا کرتا ہے۔ وہ محض جذبات کے شاعر نہیں؛ تحقیق، مطالعہ اور ادبی تنقید سے ان کی طویل وابستگی ہے۔ ان کا نعتیہ سفر صرف „اظہارِ نعت“ تک محدود نہیں۔ انہوں نے غیر مسلم شعراء کے نعتیہ کلام کو بھی تحقیق و تدوین کے ذریعے ایک گلدستے کی صورت میں پیش کیا۔ ان کی کتاب „سارا عالم ہے منور آپ کے انوار سے“ میں ہندو، سکھ اور مسیحی شعراء کے نعتیہ کلام کو یکجا کیا گیا، جسے ادبی حلقوں میں ایک منفرد تحقیقی کاوش قرار دیا گیا ہے۔

یہ پہلو ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کو مزید اہم بنا دیتا ہے کہ ان کے نزدیک نعت صرف ایک مذہبی جذبہ نہیں بلکہ اردو ادب کی ایک ایسی وسیع روایت بھی ہے جو دلوں کو جوڑنے اور محبت کو فروغ دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ مبارکہ سے وابستہ محبت نے مختلف زبانوں، علاقوں اور مذاہب کے لوگوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ اس موضوع پر ان کی تحقیقی کاوش اسی وسیع انسانی اثر کو سامنے لاتی ہے۔
„اظہارِ نعت“ کا فنی مطالعہ کیا جائے تو اس میں کلاسیکی نعتیہ روایت کے ساتھ غزل کی شعری لطافت بھی محسوس ہوتی ہے۔ ردیف و قافیہ کی خوب صورتی، بحروں کی روانی، سادہ اور قابلِ فہم زبان اور مترنم اسلوب کلام کو عام قاری کے لیے بھی قابلِ رسائی بناتے ہیں۔ ادبی تجزیوں میں اس مجموعے کے حوالے سے بحرِ ہزج اور بحرِ رمل جیسی بحروں کے استعمال، سلاستِ زبان اور مترنم ردیفوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
لیکن نعت کی اصل کامیابی صرف فنی خوبی نہیں۔ نعت کا سب سے بڑا حسن اس کا ادب ہے۔ وہ ادب جو لفظوں میں بھی ہو اور دل میں بھی۔ نعت گو شاعر کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ کس ہستی کا ذکر کر رہا ہے۔ اس لیے اس کے لہجے میں عاجزی، الفاظ میں احترام اور جذبے میں پاکیزگی ضروری ہے۔ ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کی نعتیہ شاعری میں یہی کیفیت محسوس ہوتی ہے۔
وہ کہتے ہیں:
پیش ہے اظہارؔ یہ نذرانۂ نعتِ حضورؐ
اب ثنا لکھنا وظیفۂ بندگی کا ہو گیا

یہ شعر „اظہارِ نعت“ کی پوری روح کو سمیٹ لیتا ہے۔ نعت لکھنا یہاں شاعرانہ مشغلہ نہیں بلکہ وظیفۂ بندگی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں فن عبادت کے جذبے سے قریب ہو جاتا ہے۔ شاعر اپنے قلم کو اپنی ذات کی نمائش کے لیے نہیں بلکہ محبوبِ خدا ﷺ کی بارگاہ میں ایک معمولی سا نذرانہ سمجھ کر پیش کرتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ نعت کہنا آسان کام نہیں۔ عام شاعری میں شاعر اپنے تخیل کی دنیا میں آزاد ہوتا ہے، لیکن نعت میں عقیدت کے ساتھ عقیدہ، محبت کے ساتھ ادب، جذبے کے ساتھ احتیاط اور فن کے ساتھ شرعی و معنوی حدود کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کے کلام کے تنقیدی مطالعے میں بھی توحیدی حدود اور فیضانِ محمدی ﷺ کے درمیان توازن کو نمایاں کیا گیا ہے۔
یہ توازن نعت کی بڑی خوبی ہے۔ ایک طرف اللہ تعالیٰ کی الوہیت و ربوبیت کا کامل اقرار اور دوسری طرف رسولِ اکرم ﷺ کی بے مثال شان، مقام اور فیضان کا بیان—یہی وہ راستہ ہے جو نعت کو عقیدت کے ساتھ فکری وقار بھی عطا کرتا ہے۔

ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کا تعلق فیصل آباد کی اس ادبی روایت سے ہے جس نے نعت کو اپنی شناخت کا اہم حصہ بنایا۔ خود ان کی تحریروں میں فیصل آباد کو „شہرِ نعت“ کے طور پر یاد کیا گیا ہے اور شہر کے متعدد نعت گو شعراء کا تذکرہ ملتا ہے۔ اس شہر میں نعتیہ ادب کی جو مضبوط روایت موجود ہے، „اظہارِ نعت“ اسی روایت کے تسلسل میں ایک قابلِ ذکر اضافہ ہے۔
ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کا ایک خوب صورت پہلو یہ بھی ہے کہ وہ دوسروں کی نعتیہ خدمات کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں فیصل آباد کے نعت گو شعراء اور نعت خوانوں کے تذکرے ملتے ہیں۔ ڈاکٹر مقصود احمد عاجز جیسے نعت گو کے فن پر ان کی تحریر اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ وہ نعتیہ ادب کو صرف اپنی تخلیق تک محدود نہیں سمجھتے بلکہ اس پورے ادبی ورثے کے قدر دان اور مورخ بھی ہیں۔
آج کے دور میں جب ادب کے بعض گوشوں میں لفظوں کی چمک کبھی کبھی احساس کی گہرائی پر غالب آ جاتی ہے، نعت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ادب کی اصل طاقت دل کو بدلنے میں ہے۔ ایک سچی نعت انسان کے اندر محبت پیدا کرتی ہے، اخلاق سنوارتی ہے، سیرتِ طیبہ کی طرف متوجہ کرتی ہے اور انسان کو اپنے کردار پر نظر ڈالنے پر مجبور کرتی ہے۔
„اظہارِ نعت“ کی اہمیت بھی اسی حوالے سے ہے۔ یہ کتاب صرف ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کی شعری کاوش نہیں بلکہ ان کے قلبی سفر کی داستان ہے۔ اس میں ایک ایسے قلم کار کا دل بولتا ہے جس نے تحقیق کی سخت منزلیں بھی طے کیں، ادب کی مختلف اصناف میں قلم آزمایا اور پھر اپنے قلم کو مدحتِ مصطفیٰ ﷺ کے لیے وقف کیا۔
نعت گوئی کی سب سے بڑی سعادت شاید یہی ہے کہ شاعر کا نام اس کے کلام سے آگے بڑھ کر ایک مقدس نسبت کے ساتھ جڑ جاتا ہے۔ دنیا کے ادبی اعزازات اپنی جگہ، مگر کسی شاعر کے لیے اس سے بڑھ کر اور کیا سعادت ہو سکتی ہے کہ اس کا قلم سرکارِ دو عالم ﷺ کی مدحت میں چند الفاظ پیش کرنے کے قابل ہو جائے۔
ڈاکٹر اظہار احمد گلزار نے „اظہارِ نعت“ کے ذریعے اپنے نام کے ساتھ ایک ایسی نسبت قائم کی ہے جو کسی بھی ادبی شناخت سے بڑھ کر ہے۔ یہ نسبت عشق کی ہے، عقیدت کی ہے، ادب کی ہے اور سب سے بڑھ کر غلامیِ رسول ﷺ کی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم نعت کو صرف پڑھیں یا سنیں نہیں بلکہ اس کے پیغام کو اپنی زندگیوں میں بھی جگہ دیں۔ اگر نعت ہمیں سچائی، رحم، عدل، محبت، ایثار، عفو و درگزر اور انسان دوستی کی طرف لے جائے تو یہی اس کی حقیقی کامیابی ہے۔ حضور اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ ہمارے لیے کامل نمونہ ہے، اور نعت اس نمونے کی محبت کو دلوں تک پہنچانے کا ایک مؤثر وسیلہ۔
آخر میں ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کے لیے یہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے قلم کو مزید توانائی عطا فرمائے، ان کے لفظوں کو عشقِ رسول ﷺ کی حرارت نصیب ہو، ان کی نعتیہ کاوشیں آنے والی نسلوں کے لیے محبت و عقیدت کا چراغ بنتی رہیں اور „اظہارِ نعت“ ان کے ادبی سفر میں ایک ایسی روشن منزل ثابت ہو جس کی روشنی دیر تک اہلِ ذوق کے دلوں کو منور کرتی رہے۔
کیونکہ سچی بات یہی ہے کہ نعت لکھی نہیں جاتی، نعت دل پر اترتی ہے؛ پھر دل سے لفظوں میں ڈھلتی ہے۔
اور جب یہ لفظ مدحتِ مصطفیٰ ﷺ کے لیے اٹھیں تو قلم کی سب سے بڑی خوش نصیبی یہی ہے کہ وہ خود بھی ادب بن جائے اور اظہار بھی۔

More posts