Baaghi TV

عورتیں اب روئیے پڑھتی ہیں ،تحریر: فاطمہ زہراء

اس رات اسے پہلی بار یقین ہوا کہ شیطان ہمیشہ سینگوں کے ساتھ نہیں آتا۔
کبھی وہ سفید لباس پہنتا ہے لہجے میں شرافت گھولتا ہے، عورت کی عزت کے قصے سناتا ہے، اپنی ماں، بہن اور بیٹی کی قسمیں کھاتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ اُس عورت کی زندگی میں داخل ہوجاتا ہے جو اسے ایک شریف انسان سمجھ کر اپنے دل کے دروازے کھول دیتی ہے۔
وہ بھی اُسے ایسا ہی سمجھ بیٹھی تھی۔
اُسے کیا معلوم تھا کہ جس شخص کی باتوں میں اُسے تحفظ محسوس ہوتا ہے، اُسی کے اندر ایک ایسا درندہ پل رہا ہے جو موقع ملتے ہی اس کی عزت، اعتماد اور سکون سب کچھ نوچ ڈالے گا
وہ آئینے کے سامنے کھڑی اپنے آنسو پونچھ رہی تھی۔
’’میں نے تمہیں پہچاننے میں اتنی دیر کیوں کردی؟‘‘
آئینہ خاموش تھا۔
شاید اسے بھی معلوم تھا کہ کچھ چہرے پہچانے نہیں جاتے، وقت اُنہیں بے نقاب کرتا ہے۔

اس شخص سے اس کی پہلی ملاقات ایک عام سی ملاقات تھی۔ گفتگو میں شائستگی، باتوں میں وقار اور چہرے پر عجیب سی سنجیدگی۔
وہ عورتوں کی عزت کی بات کرتا تھا۔
کہتا تھا
’’عورت کو عزت دینا مرد کی تربیت کی پہچان ہے۔‘‘
وہ اس کی بات سن کر متاثر ہوئی تھی۔
اس نے سوچا تھا، شاید یہی وہ مرد ہے جس کے بارے میں مائیں اپنی بیٹیوں کو کہتی ہیں کہ ’’بیٹا، اچھے مرد اب بھی دنیا میں موجود ہیں۔‘‘
وہ اپنی ماں کا بہت ذکر کرتا تھا۔
اپنی بہنوں کا بھی
وقت گزرتا گیا
باتوں کا تعلق اعتماد میں بدل گیا۔
اعتماد امید میں
اور امید ایک ایسے رشتے میں، جس کا نام وہ خود بھی نہیں جانتی تھی۔
وہ شخص اسے یقین دلاتا رہا
’’تم باقی عورتوں جیسی نہیں ہو۔‘‘
’’میں باقی مردوں جیسا نہیں ہوں۔‘‘
’’میں تمہیں کبھی تکلیف نہیں دوں گا
یہ جملے اس کے دل میں اترتے گئے۔

پھر ایک دن لہجہ بدل گیا۔
پہلے جواب دیر سے آنے لگے۔
پھر باتوں میں بے اعتنائی آئی۔
پھر الزام۔
پھر خاموشی۔
اور آخرکار وہ دن بھی آیا جب وہی شخص، جو کبھی عورت کی عزت کو مقدس کہا کرتا تھا، اس کی عزت کو اپنے الفاظ سے زخمی کرنے لگا۔
وہ حیران تھی
’’تم بدل گئے ہو۔‘‘
وہ ہنسا۔
’’میں نہیں بدلا، تم نے مجھے اب دیکھا ہے۔‘‘
وہ جملہ اس کے دل میں تیر کی طرح لگا۔
کیونکہ وہ درست کہہ رہا تھا۔
وہ بدلا نہیں تھا۔
بس نقاب اتر گیا تھا۔
اس رات وہ دیر تک سوچتی رہی کہ آخر عورت کسی مرد کے اصل چہرے کو پہچان کیوں نہیں پاتی؟
شاید اس لیے کہ عورت الفاظ پر یقین کرلیتی ہے اور مرد اکثر الفاظ کو ہتھیار بنا لیتا ہے۔
وہ وعدے سنتی ہے تو مستقبل دیکھنے لگتی ہے۔
وہ عزت کی بات سنتی ہے تو اپنا وقار محفوظ سمجھتی ہے۔
وہ محبت سنتی ہے تو اپنا دل اس کے حوالے کردیتی ہے۔

اور پھر جب حقیقت سامنے آتی ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جسے اپنا محافظ سمجھ رہی تھی، وہ تو اس کے اعتماد کا قاتل تھا۔
مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔
اس شخص نے ایک دن غصے میں کہا
’’تمہیں معلوم بھی ہے میں اپنی بہن کے لیے کیا کرسکتا ہوں؟ کوئی اسے بری نظر سے دیکھے تو میں اسے چھوڑوں گا نہیں۔‘‘
وہ عورت خاموش رہی۔
پھر بہت آہستہ سے بولی
’’اور اگر کسی کی بہن کو تمہاری بری نظر کا سامنا ہو تو؟‘‘
وہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا۔
’’تم مجھے کیا سمجھتی ہو؟‘‘
وہ مسکرائی۔
ایسی مسکراہٹ جس میں برسوں کا دکھ تھا۔
’’میں تمہیں وہی سمجھتی ہوں جو تم ہو۔‘‘
’’اور وہ کیا ہے؟‘‘
اس نے جواب دیا
’’ایک ایسا مرد جو عورت کی عزت کو صرف اس وقت عزت سمجھتا ہے جب عورت اس کے اپنے گھر سے تعلق رکھتی ہو۔‘‘
اور اپنی بیٹی کا تو ایسے ذکر کرتا جیسے دنیا میں اس سے زیادہ قیمتی چیز کوئی نہ ہو۔
اس دن احساس ہوا بعض لوگ اپنی بیٹی کے لیے اصول بناتے ہیں اور دوسروں کی بیٹی کے لیے صرف خواہشیں۔
وہ اٹھ کر چلی گئی۔
اس دن پہلی مرتبہ اسے اپنے ٹوٹنے کا دکھ نہیں تھا۔
اسے خوشی تھی کہ اس نے خود کو وقت پر بچا لیا۔
وہ جان چکی تھی کہ ہر خوب صورت لفظ سچا نہیں ہوتا، ہر نرم لہجہ مخلص نہیں ہوتا اور ہر وہ شخص جو عورت کی حفاظت کی بات کرے، ضروری نہیں کہ عورت کے احترام کا اہل بھی ہو۔
اس نے اپنی زندگی سے ایک شخص نکالا تھا، مگر اس کے ساتھ ایک بہت بڑا سبق حاصل کیا تھا

مرد کی پہچان اس بات سے نہیں ہوتی کہ وہ اپنی ماں، بہن اور بیٹی کے ساتھ کیسا ہے؟مرد کی اصل پہچان یہ ہے کہ وہ اُن عورتوں کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتا ہے جن پر اس کا کوئی اختیار نہیں۔
جو عورت کو کمزور سمجھ کر فائدہ اٹھائے وہ طاقتور نہیں کم ظرف ہے۔
جو کسی کے اعتماد کو اپنی خواہش کی سیڑھی بنائے وہ مرد نہیں اپنے نفس کا غلام ہے۔
جو کسی کی بیٹی کے آنسو دیکھ کر بھی بے حس رہے اور گھر جا کر اپنی بیٹی کے لیے دنیا سے لڑنے کی بات کرے، وہ غیرت مند نہیں، منافقت کا پیکر ہے۔
لیکن انصاف کا تقاضا ہے کہ سب مردوں کو ایک ترازو میں نہ تولا جائے۔
دنیا میں ایسے مرد بھی ہیں جن کے وجود سے عورت کو خوف نہیں، اطمینان ملتا ہے۔
جو عورت کو ملکیت نہیں، انسان سمجھتے ہیں۔
جو اپنی بیٹی کی عزت کی طرح دوسری کی بیٹی کی عزت بھی کرتے ہیں۔
جو کسی عورت کے انکار کو اپنی انا کا مسئلہ نہیں بناتے۔
جو محبت کے نام پر قبضہ نہیں کرتے۔
جو طاقت کے نام پر ظلم نہیں کرتے۔
اور جو جانتے ہیں کہ مردانگی عورت کو زیر کرنا نہیں اپنے نفس کو زیر کرنا ہے۔
وہ عورت آج بھی آئینے کے سامنے کھڑی ہوتی ہے۔
فرق صرف اتنا ہے کہ اب وہ اپنے چہرے پر کسی اور کے دیے ہوئے زخم تلاش نہیں کرتی۔
اب وہ خود کو دیکھتی ہے اور مسکرا دیتی ہے۔
کیونکہ اسے معلوم ہوچکا ہے کہ کچھ رشتوں کا ختم ہونا شکست نہیں ہوتا۔
کبھی کبھی کسی درندے سے بچ نکلنا ہی زندگی کی سب سے بڑی فتح ہوتی ہے۔
اور وہ شخص؟
وہ شاید آج بھی کسی نئی عورت کے سامنے بیٹھا ہو۔
وہی شرافت۔
وہی نرم لہجہ۔
وہی ماں، بہن اور بیٹی کے قصے۔
وہی جملہ
’’میں باقی مردوں جیسا نہیں ہوں۔‘‘
مگر اب اسے کون بتائے کہ دنیا بدل گئی ہے؟
’’اب عورتیں چہروں کے سحر میں گرفتار نہیں ہوتیں وہ رویوں کی تحریر پڑھنا سیکھ چکی ہیں اور رویے وہ آئینہ ہیں جس میں ہر نقاب آخرکار اتر جاتا ہے

More posts