جب بھی دفاع کی بات سامنے آتی ہے تو عام طور پر ایک ہی تصور خیال میں آتا ہے کہ یہ ذمہ داری تو بس فوج پہ عائد ہوتی ہے۔ سرحدوں کی حفاظت کرنا عوام کے فرائض میں شامل نہیں ہوتا۔ سرحدوں کی حفاظت کا ذمہ تو فوج پہ عائد کرکے ہم فارغ الزمہ ہو گئے مگر یہ بھول گئے کہ دفاع وطن صرف بندوق سے نہیں ہوتا۔ اس کےلئے ہر شہری اپنی جگہ پر، اپنے شعبے میں اس کا ذمہ دار ہے۔آپ تدریس کے شعبہ سے منسلک ہیں تو آپ کا فرض بنتا ہے کہ آنے والی نسل میں جذبہ حب الوطنی اور دفاع وطن اس حد تک موجزن کردیں کہ کوئی دشمن کبھی میلی نظر بھی نہ ڈالے۔یہ جرآت اگر کرلے تو فوج کے ساتھ عوام بھی ایک سیسہ پلائی دیوار بن کر اس کے سامنے ڈٹ جائیں۔ استاد کو "قوم کا معمار ” کہتے ہیں کیونکہ وہ آنے والی نسل کو بناتا ہے۔ جس میں اچھے ڈاکٹر، انجنیئر، معلم، تاجر ، سائنس دان، کاشتکار, فوجی، صحافی اور صنعتکار ہوتے ہیں ۔ جب یہ سب ہنر مند اور باصلاحیت ہوں گے تو ملک کی باگ ڈور سنبھالیں گے اور وطن عزیز کو ترقی کی شاہراہ پر لے کر آئیں گے۔
آپ ڈاکٹر ہیں، انجنیئر ہیں، تاجر ہیں۔حتی کہ آپ کاشتکار بھی ہیں تو سمجھیں آپ وہاں بھی اپنے ملک کا دفاع میں شامل ہیں ۔مختلف ممالک میں زرعی اجناس، پھل اور دیگر مصنوعات بھیجتے ہیں۔ وہاں آپ کی اپنی پہچان نہیں ہوتی۔ آپ اپنے وطن کے نمائندے بن کر جاتے ہیں ۔اچھی مصنوعات ہوں، مناسب قیمت ہو تو عوامی تاجر کے سامنے آپ کے وطن کا اچھا تاثر پیدا ہوگا۔ مرد حضرات تو وطن کے دفاع میں شامل ہوتے ہی ہیں مگر وہ تنہا کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ جب تک صنف نازک کا ساتھ نہ ہو۔ اس لئے ہر میدان میں خواتین بھی برابر کی شریک ہیں اور اپنا فرض تن دہی سے نبھا رہی ہیں ۔ ماں، بہن اور بیوی ہر روپ میں یہ مردوں کا حوصلہ و ہمت بنتی ہیں۔ اب تو ہر شعبہ ہائے زندگی میں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔ اپنے اپنے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دے رہی ہیں اور کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہی ہیں۔ تدریس کے ساتھ اب ہر شعبہ ہائے زندگی میں خواتین موجود ہیں۔ اچھی ڈاکٹر، انجنیئر، تاجر، سائنس دان، صنعت کار حتی کہ کاشت کاری کے شعبہ میں بھی خواتین نظر آئیں گی ۔ وہ ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کے رتبہ پر تو فائز ہے کہ یہ مقام اسے رب کائنات نے دیا ہے لیکن ساتھ ہی اپنی تعلیمی قابلیت اور ذہنی صلاحیتوں کی وجہ سے آج ہر شعبہ میں ایک مقام رکھتی ہے۔ وہ ماں جو گھر میں رہتی ہے۔ وہ بھی اپنی اولاد کو ایماندار، نیک، با صلاحیت اور محب وطن بناکر دفاع وطن میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔
الغرض وطن کے دفاع کےلئے صرف بندوق اٹھا کر شامل نہیں ہوا جا سکتا۔ ہر شخص ہر شعبہ میں یہ سوچ کر کام کرے کہ اسے صرف اپنے لئے نہیں بلکہ اپنے وطن کے لئے بھی کام کرنا ہے۔ ایمانداری، وقت کی پابندی، محنت، لگن اور عاجزی کو اپنا شعار بنائیں تاکہ وطن سے رشوت، بدعنوانی، جہالت، دہشتگردی، اقرباء پروری اور لاقانونیت کو ختم کیا جا سکے۔ فوج دشمن کو سرحد پر روکنے کا کام کرتی ہے اور عوام ملک میں رہ کر اس کے دفاع کےلئے کام کرتی ہے۔ رب کائنات ہم سب کو اپنے وطن کے دفاع میں مثبت کردار ادا کرنے والا بنائے۔آمین ثم آمین
