Baaghi TV

جب محافظ ہی نقب لگا لے،تحریر:قرۃالعین خالد

پیدائش کے اعتبار سے مرد و زن برابر پیدا کیے گئے ہیں۔ بس فرق صرف معاشی زمہ داریوں کا ہے۔ ہر انسان آزاد پیدا کیا گیا ہے۔ ہم سب بس رب کے بندے ہیں، اسی ذات کے غلام ہیں۔ آزادی! دیکھا جائے تو کیا ہے یہ آزادی؟ آج ہر طرف ایک ہی نعرہ گونجتا ہے کہ "میں آزاد ہوں” اور یہی حقیقت بھی ہے۔ آزادی ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ اللہ سبحان و تعالیٰ نے ہر انسان کو آزاد پیدا کیا ہے، بس اپنی بندگی کا حکم دیا ہے۔ معاشرے میں بگاڑ تب پیدا ہوتا ہے جب ہم قدرت کے بنائے قانون کی حدود کو پامال کرتے ہیں۔ حکمرانی، اقتدار، داتا، ملکیت، بڑائی، کبریائی، سب اللّٰہ ربّ العزت کی صفات ہیں۔ جب بھی کسی انسان نے یا کسی قوم نے ان صفات کی حدود کو توڑنے کی کوشش کی تو وہ قوم صفحہ ہستی سے ہی مٹا دی گئی ہے۔ فرمان نبوی کے مطابق اگر آپ کوئی برائی دیکھو تو اسے ہاتھ سے روکو، اگر اس کی طاقت نہیں رکھتے تو زبان سے منع کرو اور اگر ایسا بھی نہیں کر سکتے تو اسے دل سے برا جانو، اگرچہ یہ ایمان کا سب سے کم درجہ ہے۔ ایک اور مقام پر فرمایا کہ "مسلمان تو ایک جسم کی مانند ہیں اگر اس کے کسی ایک حصے میں درد ہو گی تو دوسرا حصہ خود بخود تکلیف میں ہو گا۔” مگر جب میں اپنے اردگرد نفسا نفسی کا دور دیکھتی ہوں تو یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتی ہوں کہ ہم ایمان کے کون سے درجے پر ہیں؟ نہ ہم غلط بات کو ہاتھ سے روکنے کی استطاعت رکھتے ہیں نہ ہماری زبان حق کے لیے بولتی ہے، تو کیا ہم ایمان کے سب سے نچلے درجے سے بھی گر گئے ہیں؟ مسلمان جو ایک جسم کی مانند ہیں پھر ہمارا جسم، ہمارا دل، ہماری روح اپنوں کی تکلیف کو کیوں نہیں محسوس کرتی؟ کیا ہم مسلمان ہی نہیں رہے؟ کیا ہم انسان ہی نہیں رہے؟ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے۔
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کا شغر۔

میں سمجھتی ہوں کہ جس کا جتنا برتن ہوتا ہے اس میں وہ اتنی اشیاء بھر لیتا ہے۔ ظرف برتن کی طرح ہوتا ہے۔ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ مرد، عورت کا دشمن نہیں بلکہ عورت ہی عورت کی دشمن ہے۔ میں نے معاشرے میں نکل کر دیکھا ہے کہ کام کی جگہوں پر جتنی ٹانگ خواتین اپنی ساتھی خواتین کی کھینچتی ہیں وہ اور کوئی نہیں کرتا۔ اس کے برعکس مردوں میں حسد جلن اور نفرت کے جذبات بہت کم ہوتے ہیں۔ اکثر خواتین اپنی ساتھی خواتین کی کامیابی برداشت نہیں کرتیں بلکہ ان کو سیدھے راستے کی بجائے غلط راستہ دکھاتی ہیں جو ان کے پاس ہوتا ہے وہ چاہتی ہیں کسی دوسری کے پاس نہ ہو۔ میری نظر میں خواتین کے حقوق کی جنگ مردوں سے ذیادہ اپنی ہی ہم جنس خواتین سے ہے۔ مقابلہ تو برابر والے سے ہوتا ہے۔ جنگ کے اصولوں میں بھی برابری شامل ہے۔ آج کی عورت اپنے حقوق کی جنگ کرنے پلے کارڈ اٹھا کر جو گھر سے نکلی ہے وہ کس سے حقوق مانگنے نکلی ہے؟ پہلے تو آج معاشرے کی ہر عورت کو اپنی سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ جب کوئی عورت گھر سے کام کے لیے نکلے تو ہمیشہ دوسری عورت کی مدد کرنا چاہیے۔ اس کا ساتھ دینا چاہیے۔ اسے سپورٹ کرنا چاہیے۔ اس کے لیے آسانیاں فراہم کرنی چاہیے، تو ہمیں کسی مرد سے اپنے حق مانگنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ آگے بڑھ کر اپنی خواتین ساتھیوں کی مدد کریں ان کا ساتھ دیں کیونکہ جو کسی کا مقدر ہے وہ آپ چھین نہیں سکتیں اور جو آپ کا مقدر ہے وہ کوئی آپ سے لے نہیں سکتا تو پھر ڈر کس بات کا ہے؟ یہ دنیا فانی ہے اس کی ہر شے کو فنا ہے۔ یہ دولت، یہ شہرت، یہ عزت، یہ مقام سب منوں مٹی تلے دب جانے ہیں باقی رہ جانی ہیں صرف اور صرف نیکیاں ہیں۔ دوپٹہ یا چادر اتار کر ہم نہ مرد بن سکتیں ہیں نہ ان کے برابر ہو سکتی ہیں۔ جس کو اللہ نے قوام بنایا ہم اس کے برابر کیسے ہو سکتی ہیں؟ آدم کے لیے حوا لازم تھی اور حوا کے لیے آدم۔ ہم بھی اپنے ساتھی اور ہمارا ساتھی ہمارے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ یہ سب باتیں لکھنا کہنا برتنا آسان نہیں ہیں۔ مجھے اٹھارہ سال لگے یہ سب لکھنے میں مگر دلیل کے ساتھ اپنی بات کہنی سیکھیں۔ لڑائی جھگڑے اور پلے کارڈز اٹھا کر سڑکوں پر نکلنے کا کوئی فایدہ نہیں، کیونکہ جس کے ساتھ حقوق مانگنے کی جنگ ہے وہ کسی سڑک پر نہیں رہتا وہ ہمارے گھر پر رہتا ہے اور یہ جنگ لڑائی جھگڑے سے نہیں دلیل کے ساتھ جیتنی ہے ان شاءاللہ! اور جو مرد احساس کمتری کا شکار ہوتے ہیں وہی عورت کے ترقی کی طرف بڑھتے ہوئے قدم برداشت نہیں کرتے۔ میرے تجربے کے مطابق باہر کی دنیا، معاشرہ، لوگ عورت کو کچھ نہیں کہتے، اگر کوئی عورت کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالتا ہے تو وہ اس کے اپنے ہوتے ہیں، جو اس کے پیروں کے نیچے کانٹے بچھاتے ہیں، اس کو لہولہان کرتے ہیں۔ اس کی روح کو تار تار کرتے ہیں۔ اس کی ہمت کو چکنا چور کرتے ہیں۔

وہ جو گھر کا محافظ ہوتا ہے نا وہی جب نقب لگاتا ہے تو پھر عورت سنھبل نہیں پاتی۔ ہر مرد ایک جیسا نہیں ویسے ہی ہر عورت بھی ایک جیسی نہیں لیکن یہاں بات کرنے کا مقصد ہی یہ ہے کہ عورت اگر ناکام ہے، ہاری ہوئی ہے تو اس کا ذمہ دار وہ انسان ہے جو اسی گھر میں نقب لگائے بیٹھا ہے۔ مجھے ایک ادبی تقریب میں جانے کا موقع ملا وہاں سو خواتین میں سے ننانوے خواتین کے ساتھ بھائی یا والد آئے تھے صرف ایک خاتون کے ساتھ اس کا شوہر آیا تھا۔ یہ چند احساس کمتری کے شکار مردوں کی وجہ سے عورت اپنے اصل حق سے محروم ہے۔ میں یہ کہنا چاہوں گی اے بنت حوا! باہر حقوق کی جنگ لڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ جب دشمن تمھارے اپنے گھر میں موجود ہے۔ کامیاب عورتوں کی دو اقسام ہیں۔ ایک وہ جن کے پیچھے ان کے محرم رشتوں کی طاقت موجود ہے اور ایک وہ جو اس دنیا کی بھیڑ میں تنہا ہیں اور کامیاب ہیں۔ سلیوٹ ہے اس عورت کو جو تنہائی کے عذاب سے گزر کر کامیابی کی منازل طے کر گئی۔ کب یہ چند ذہنی مریض آدمی، عورت کی کامیابی سے حسد کرنا چھوڑیں گے؟ کب یہ اپنے گھر کی عورت پر فخر کرنا سیکھیں گے؟ کب تک یہ عورت کو طلاق کی دھمکی دے کر جھکنے پر مجبور کرتے رہیں گے؟ کب وہ وقت آئے گا جب شوہر اپنی محبت کی طاقت سے عورت کو جیتیں گے؟ کب۔۔۔۔؟کب۔۔۔۔؟ میرا سوال ہے کب۔۔۔۔؟ اب وقت آ گیا ہے کہ غلامی کی زنجیریں توڑ دی جائیں۔ جو رشتہ شرائط اور دھمکیوں پر چلے اس کو فراموش کر دیا جائے۔ جہاں محبت نہیں، عزت نہیں وہ در چھوڑ دیا جائے۔ اللہ رب العزت نے آپ کو اپنی ایک الگ شناخت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ وہاں روز محشر رب کے دربار میں جا کر یہ کہیں گی کہ میرا شوہر ظالم تھا تو فرعون سے ذیادہ ظالم تو نہ تھا۔ جب آسیہ حق کے لیے ڈٹ گئی تو ہم کیوں نہیں اپنے حق کے لیے کھڑے ہو سکتے؟ یہ زندگی مردوں کو بھی ایک بار ملی ہے اور عورتوں کو بھی۔ میری نظر میں ہر عورت خاص ہے چاہے وہ باہر کام کرنے والی خاتون ہے یا گھر سنھبالنے والی۔ عورت اللہ کی مخلوق ہے اس کے خاص ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ اللہ نے اس کو تخلیق کیا۔ خدود اللّٰہ میں رہتے ہوئے جو عورت بھی معاشرے کے لیے نفع مند رہے گی وہ کبھی ناکام نہیں رہے گی۔ آؤ!۔۔۔۔ایک دوسرے کا ہاتھ تھامو اور قدم سے قدم ملاؤ اور اس معاشرے کو بتا دو کہ جب نقب گھر پر لگی ہو تو نقب کو توڑنا ہے، کہہ دو جو دل میں ہے بول کہ لب آزاد ہیں تیرے اور سوچو جو صلاحیت میرے رب نے مجھے دی ہے اس کے ذریعے نفع مند بننا ہے۔ دوسروں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کریں رب العالمین آپ کی زندگی کو آسان بنا دے گا۔ مثبت طرز عمل و فکر ہی کامیابی اور آگے بڑھنے کی ضمانت ہے۔

More posts