Baaghi TV

پاکستان کی خارجہ پالیسی، بدلتی دنیا میں توازن، تدبر اور قومی مفادات،تحریر: شمسہ رانی

دنیا اس وقت ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں عالمی سیاست کی بساط تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ طاقت کے مراکز بدل رہے ہیں، نئی معاشی صف بندیاں وجود میں آ رہی ہیں، علاقائی تنازعات عالمی امن کو متاثر کر رہے ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، موسمیاتی تبدیلی، توانائی اور عالمی تجارت خارجہ پالیسی کے نئے عنوانات بن چکے ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی خارجہ پالیسی محض سفارتی تعلقات کا نام نہیں بلکہ قومی سلامتی، اقتصادی استحکام اور بین الاقوامی وقار کا بنیادی ستون بن چکی ہے۔

پاکستان کو قدرت نے ایک غیر معمولی جغرافیائی حیثیت عطا کی ہے۔ جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور بحیرۂ عرب کے سنگم پر واقع یہ ملک خطے کی سیاست، تجارت اور توانائی کے عالمی نقشے میں اہم مقام رکھتا ہے۔ یہی جغرافیہ پاکستان کو بے شمار مواقع بھی فراہم کرتا ہے اور بڑی ذمہ داریاں بھی سونپتا ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتیں اس خطے میں اپنے اپنے مفادات رکھتی ہیں، اس لیے پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ جذبات کے بجائے تدبر، توازن اور قومی مفادات کو اپنی خارجہ پالیسی کی بنیاد بنائے۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی کی اصل روح یہ ہونی چاہیے کہ ملک کسی بھی عالمی کشمکش میں فریق بننے کے بجائے امن، تعاون اور باہمی احترام کا داعی رہے۔ موجودہ دور میں وہی ممالک کامیاب سمجھے جاتے ہیں جو اختلافات کے باوجود مکالمے کے دروازے بند نہیں کرتے بلکہ اپنے قومی مفادات کا تحفظ دانشمندانہ سفارت کاری کے ذریعے کرتے ہیں۔

چین کے ساتھ پاکستان کی دیرینہ اسٹریٹجک شراکت داری دونوں ممالک کے باہمی اعتماد کا مظہر ہے۔ اقتصادی تعاون، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور علاقائی روابط نے اس تعلق کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ اسی طرح سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، ترکی اور دیگر برادر اسلامی ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات مذہبی، تاریخی، اقتصادی اور عوامی سطح پر گہرے ہیں۔ ان روابط کو مزید وسعت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

دوسری طرف امریکہ اور یورپی ممالک کے ساتھ تعلقات بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم پہلو ہیں۔ تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی، صحت اور موسمیاتی تبدیلی جیسے شعبوں میں تعاون دونوں جانب کے مفاد میں ہے۔ عالمی سیاست میں مستقل دوست یا مستقل دشمن نہیں ہوتے، بلکہ مستقل قومی مفادات ہوتے ہیں۔ یہی اصول ہر بالغ نظر خارجہ پالیسی کی بنیاد بنتا ہے۔

پاکستان کے لیے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات بھی ناگزیر ہیں۔ افغانستان میں پائیدار امن نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ ایران کے ساتھ اقتصادی روابط، وسطی ایشیائی ریاستوں تک تجارتی رسائی اور جنوبی ایشیا میں کشیدگی کے خاتمے کی سنجیدہ کوششیں پاکستان کو علاقائی تجارت کا اہم مرکز بنا سکتی ہیں۔ اسی طرح مسئلۂ کشمیر پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی جزو ہے، جسے بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق سفارتی سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر کرتے رہنا پاکستان کی ذمہ داری ہے۔

آج کی دنیا میں سفارت کاری کا سب سے مؤثر ہتھیار مضبوط معیشت ہے۔ کمزور معیشت کے ساتھ مضبوط خارجہ پالیسی تشکیل دینا آسان نہیں ہوتا۔ اس لیے پاکستان کو اقتصادی سفارت کاری کو اپنی اولین ترجیح بنانا ہوگا۔ برآمدات میں اضافہ، بیرونی سرمایہ کاری کا فروغ، معدنی وسائل کا بہتر استعمال، انفارمیشن ٹیکنالوجی، زرعی جدت، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت کو عالمی منڈی سے جوڑنا خارجہ پالیسی کے اہم اہداف ہونے چاہییں۔ جب معیشت مستحکم ہوگی تو سفارتی مؤقف بھی زیادہ مضبوط ہوگا۔

پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں اور عالمی امن کے لیے اپنی ذمہ داریاں نبھائی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں پاکستانی اہلکاروں کی خدمات، انسانی امداد میں تعاون اور عالمی فورمز پر ذمہ دارانہ کردار پاکستان کے مثبت تشخص کا اہم سرمایہ ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کامیابیوں کو جدید سفارتی ذرائع، مؤثر میڈیا حکمتِ عملی اور عالمی ابلاغ کے ذریعے زیادہ مؤثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خارجہ پالیسی صرف وزارتِ خارجہ کے دفاتر میں نہیں بنتی بلکہ اس کی بنیاد ملک کے اندر سیاسی استحکام، قومی اتحاد، مضبوط معیشت، مؤثر اداروں، معیاری تعلیم اور قانون کی حکمرانی پر استوار ہوتی ہے۔ اندرونی کمزوری بیرونی سفارت کاری کو بھی متاثر کرتی ہے، جبکہ قومی یکجہتی بین الاقوامی اعتماد میں اضافہ کرتی ہے۔

بدلتی ہوئی عالمی سیاست پاکستان کے لیے ایک آزمائش بھی ہے اور ایک سنہری موقع بھی۔ اگر ہم اپنے جغرافیے کو اقتصادی طاقت، اپنی نوجوان نسل کو انسانی سرمایہ، اپنی سفارتی روایت کو قومی وقار اور اپنی خارجہ پالیسی کو مستقل قومی مفادات کے تابع بنا دیں تو پاکستان نہ صرف خطے بلکہ عالمی برادری میں ایک مؤثر، باوقار اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر مزید مضبوط مقام حاصل کر سکتا ہے۔

آج ضرورت نعروں کی نہیں بلکہ دوراندیش فیصلوں کی ہے۔ خارجہ پالیسی کا مقصد صرف دنیا سے تعلقات قائم رکھنا نہیں بلکہ ہر تعلق کو پاکستان کے عوام کی خوشحالی، معاشی ترقی، قومی سلامتی اور عالمی وقار سے جوڑنا ہے۔ جب ریاست اپنے قومی مفادات کو سیاسی مصلحتوں سے بالاتر رکھ کر مستقل مزاجی کے ساتھ آگے بڑھتی ہے تو دنیا بھی اس کی آواز کو سنجیدگی سے سنتی ہے۔

پاکستان کے پاس محلِ وقوع کی طاقت، نوجوانوں کی صلاحیت، سفارتی تجربہ اور قدرتی وسائل کی دولت موجود ہے۔ اگر ان تمام قوتوں کو ایک واضح قومی وژن اور متوازن خارجہ پالیسی کے تحت بروئے کار لایا جائے تو آنے والا دور پاکستان کے لیے نئی سفارتی کامیابیوں، معاشی استحکام اور عالمی احترام کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ یہی ایک مضبوط، باوقار اور خوداعتماد پاکستان کی سمت ہے۔

More posts