شام کے ڈھلتے سائے اور سڑک کے بیچوں بیچ جلتی موٹر سائیکل سے اٹھتا بوجھل دھواں محض لوہے اور پلاسٹک کے راکھ ہونے کا منظر نہیں بلکہ ایک بے بس انسان کے ٹوٹتے ہوئے صبر کی روح فرسا تصویر ہے۔ میں ایک ٹک اس دلخراش منظر کو تکتا ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے آگ کے یہ بے رحم شعلے محض پیٹرول کی خوراک پر نہیں بھڑک رہے بلکہ ایک عام شہری کی محرومیوں ، معاشی تنگ دستی اور اس کے سینے میں سلگتے ہوئے شدید غصے پر ماتمی رقص کر رہے ہیں۔ اسی لمحے ایک سنسناتا ہوا خوفناک سناٹا میرے وجود میں اترنے لگتا ہے اور دل میں یہ بھیانک سوال سر اٹھاتا ہے کہ آج تو اس دکھیار نے اپنے ابلتے ہوئے غصے اور لاچاری کا بدلہ اس بے زبان سواری سے لے لیا لیکن اگر کل کو یہ تلخی برداشت کی تمام حدیں پار کر گئی اور یہ جلتا ہوا پیٹرول کسی سڑک پر کھڑے اہلکار کا پہناوا بن گیا تو ہم کہاں جائیں گے؟ کیا یہ منظر اس بات کا اعلان نہیں کر رہا کہ ہم ایک ایسے تباہ کن موڑ پر آ پہنچے ہیں جہاں سے آگے صرف افراتفری ، ہجوم کا تشدد اور قانون کی شکست کا اندھیرا ہمارا منتظر ہے؟
ہمارے شہروں کی سڑکیں اس وقت کسی جنگل کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ بے ہنگم گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کا ایک ایسا طوفان ہے جو ہر لمحہ حادثات کو دعوت دے رہا ہے۔ ہماری سڑکوں پر چلنے والی عوام کا ایک بڑا حصہ بدقسمتی سے غیر تربیت یافتہ ، غیر مہذب اور بنیادی اخلاقیات سے مکمل طور پر محروم نظر آتا ہے۔ غلط سمت میں گاڑی چلانا ، اشارہ توڑنا ، پیدل چلنے والوں کا راستہ روکنا اور بات بات پر گالی گلوچ اور بدتمیزی کرنا اب ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے۔ شاہراہوں پر بد ہیئت چنگ چی اور آٹو رکشوں کا اژدھام اور موٹر سائیکل سواروں کی من مانیاں اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتی ہیں کہ ہم سڑک کے آداب اور اخلاقیات یکسر بھول چکے ہیں۔ دوسری طرف وہ عام شہری ہے جو صبح سے شام تک کمر توڑ مہنگائی ، پیٹرول کی ہوش ربا قیمتوں اور روزمرہ زندگی کے عذابوں سے پس کر سڑک پر نکلتا ہے۔ جب یہ ذہنی طور پر نڈھال انسان سڑک پر آتا ہے اور اسے اصلاح کی بجائے چالان اور جرمانوں کی صورت نچوڑنے کا ہدف بنا لیا جاتا ہے تو اس کے اندر سالوں سے پکتا ہوا غصہ ایک دم دھماکے کی صورت باہر آتا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس تباہی کا راستہ محض رونے دھونے پر ختم ہو جاتا ہے؟ یا ایک ذمہ دار اور سمجھدار انسان کے طور پر ہم اس دکھ کو ایک روشن حل کی طرف موڑ سکتے ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ اس بگاڑ کی تہہ میں صرف قانون کی ناکامی نہیں بلکہ حکومت کا اپنے لوگوں کو بہتر سہولیات نہ دینا ہے ، لوگ شوق سے موٹر سائیکل یا رکشے پر نہیں بیٹھتے یہ ان کی مجبوری ہے کیونکہ حکومت نے انہیں سواری کے لیے کوئی اچھا اور باوقار انتظام نہیں کر کے دیا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ جلتی موٹر سائیکلوں کا یہ سلسلہ اور ممکنہ خونریز افراتفری رک جائے تو ہمیں کچھ کڑوے اور بنیادی فیصلے کرنے ہوں گے۔
سب سے پہلے قانون کے نفاذ کو عتاب یا شکار کی بجائے اصلاح اور سدھار کا وسیلہ بنانا ہوگا۔ سڑکوں پر ایستادہ پولیس اہلکاروں کو محض ریونیو اکٹھا کرنے والے جابروں کی جگہ شہریوں کا حقیقی محافظ اور مددگار نظر آنا چاہیے۔ جب تک چالان کے نظام میں مساوات قائم نہیں ہوگی اور عام شہری یہ محسوس نہیں کرے گا کہ قانون کی نظر میں امیر اور غریب ایک برابر ہیں تب تک دلوں میں پلتا ہوا غبار یوں ہی آتش فشاں بن کر پھٹتا رہے گا۔ سڑک پر پولیس اور عوام کے مابین پیدا ہونے والے ان زہریلے تنازعات کو ختم کرنے کے لیے کیمروں اور خودکار چالان کا جدید طریقہ کار بلا تفریق نافذ کرنا ہوگا تاکہ انسان کو انسان کے سامنے لا کر دست و گریبان ہونے کے مواقع ہی ختم کیے جا سکیں۔
اس کے ساتھ ساتھ ہمیں سڑکوں پر گاڑیوں ، موٹرسائیکلوں اور رکشوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے باوقار بسوں کا نظام لانا پڑے گا۔ جب ایک مزدور اور طالب علم کو سستی اور آرام دہ بس مل جائے گی تو وہ موٹر سائیکل کا خطرہ اور پیٹرول کا بوجھ کیوں اٹھائے گا؟ چنگ چی رکشوں کو یکسر بند کرنا غریبوں کا معاشی قتل ہوگا مگر انہیں گلیوں اور محلے تک محدود کر کے بڑی سڑکوں کو عام گاڑیوں کے لیے صاف بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ ڈرائیونگ کا پروانہ یعنی لائسنس دینے کا طریقہ رشوت سے پاک لیکن انتہائی سخت ہونا چاہیے تاکہ سڑک پر آنے والا ہر شخص گاڑی چلانے کے ساتھ ساتھ سڑک کے اخلاقی قاعدے اور صبر سے بھی واقف ہو۔
اگر کسی شہری کو لگتا ہے کہ اس کے ساتھ ناحق چالان ہوا ہے تو اس کے پاس شکایت کا ایک ایسا ذریعہ ہونا چاہیے جہاں اس کی بات جلدی سنی جائے۔ جب انسان کے تمام جائز راستے بند کر دیے جاتے ہیں تو وہ سڑک پر قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ لکڑی کو آگ تب ہی لگتی ہے جب وہ سوکھی ہوئی ہو ، ہمارے سماج کے عام لوگ معاشی تپش سے خشک ہوچکے ہیں انہیں مزید جلا کر راکھ کرنے کی بجائے امید ، انصاف اور سہولتوں کا ٹھنڈا پانی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے آج اپنے نظام اور اپنے رویوں کی اصلاح نہ کی تو کل کی افراتفری میں کسی کا دامن محفوظ نہیں رہے گا۔ راستہ اب بھی موجود ہے شرط صرف اتنی ہے کہ حکومت عقل سے کام لے اور عوام صبر اور شعور کا دامن تھام لیں
