فلمی شاعری کا انحصار زیادہ تر دھن اور ماتروں پر ہوتا ہے
جس میں علم عروض کی کچھ بحور تو شامل ہوتی ہیں مگر زیادہ تر دھن کی وجہ سے علم عروض سے خارج ہوتی ہیں
گیت اگر کسی شاعر نے لکھے ہوں گے تو یقینا وہ علم عروض کے پیمانوں پر پورے اترتے ہوں گے مگر فلمی شاعری میں دھن کا اصیل علم ہے جس میں علم عروض کے مطابق لکھے گۓ گیت کو بھی دھن میں ڈھالنے کے لۓ ماتروں کا سہارا لینا پڑتا ہے جس کی وجہ سے گیت علم عروض سے خارج ملتے ہیں آفتاب خان کا شمار برصغیر کے نمائندہ شعراء میں شامل خاص ہے عالمی سطح پر ادبی حوالہ سے تجرباتی جہت پر انکی خاصی گرفت ہے یہی وجہ ہے افتاب خان نے ادب کو نئی راہ پر لایا جو کہ اردو فلمی شاعری کے عروضی تجزیہ پر مشتمل ہے۔ اردو فلمی شاعری کاعروضی تجزیہ کی کتاب میں اظہر جاوید خان اپنی راۓ میں لکھتے ہیں کہ
گیت
چوہدویں کا چاند ہو یا آفتاب ہو
جو بھی ہو تم خدا کی قسم لا جواب ہو
اس شعر میں لفظ تم نکال دیا گیا
پہلے مصرع کے شروع میں "تم ” کو نکال دیا گیا کیوں کہ
تم چوہدیویں کا چاند ہو یا آفتاب ہو
لفظ ” تم "ْ موسیقی اور گائیکی میں شامل نہیں ہو رہا تھا اسلۓ نکال دیا گیا ۔اس شعر سے ظاہر ہوتا ہے گیت نگاری میں اہمیت دھن کی ہے علم عروض کی نہیں ہے اس کے باوجود آفتاب خان نے اردو فلمی شاعری کا عروضی مطالعہ پیش کر کے ایک الگ سے ادبی تجربہ کی بنیاد رکھی جو کہ تاریخ کا اہم حصہ ہو گی ۔ یہ کتاب نہ صرف علم عروض کے حوالہ سے گیت نگاری کی پرکھ ہے بلکہ اس میں شامل گیت , , موسیقار, اور فلموں کے نام شامل ہونے سے تحقیق کی بھی عمدہ کتاب ہے
یہاں چند گیتوں کو اپ کے زوق کی خاطر پیش کر رہا ہوں جو اردو فلمی گیتوں کے عروضی تجزیہ کی کتاب میں موجود ہیں جن کو آفتاب خان نے انتہائی محنت لگن اور شوق کے ساتھ اپنی کتاب میں پیش کیا ہے
بحر ہزج مثمن سالم
مفاعیلن , مفاعیلن , مفاعیلن ,مفاعیلن
گیت۔
1۔ یہاں بدلہ وفا کا بے وفائی کے سوا کیا ہے
محبت کر کے بھی دیکھا محبت میں بھی دھوکہ ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
2۔ ترے کوچے میں ارمانوں کی دنیا لے کے آیا ہوں
تجھی پر جان دینے کی تمنا لے کے آیا ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔
بحر ہزج مسدس سالم مخذوف
مفاعیلن , مفاعیلن , فعولن
گیت
کبھی دل دل سے ٹکراتا تو ہوگا
انہیں میرا خیال آتا تو ہو گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
2۔ جگر چھلنی ہے دل گھبرا رہا ہے
محبت کا جنازہ جا رہا ہے
بحر ہزج مثمن اخرب سالم
مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن
گیت
ہم درد کا افسانہ دنیا کو سنائیں گے
ہر دل میں محبت کی اک آگ لگائیں گے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بحر رمل مثمن مخبون محذوف مسکن
فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن
گیت
ہاتھ سینے پہ جو رکھ دو تو قرار آ جاۓ
دل کے اجڑے ہوۓ گلشن میں بہار آ جاۓ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بحر مضارع مثمن مکفوف محذوف
مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن
گیت
دل میں چھپا کے پیار کا طوفان لے چلے
ہم آج اپنی موت کا سامان لے چلے
۔۔۔۔۔
علم عروض ہر شاعر کے لئے لازم ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ شاعر اگر مسلسل ترنم کی تحریک کرتا رہے تو اسے علم عروض کی ضرورت نہیں رہتی اس تحریک سے بحور تو درست ہو سکتی ہیں لیکن شعری لوازمات۔ میں کمی رہ جاتی جس میں گرائمر ، زمانہ کی حالت ، وغیرہ متاثر ہوتی ہے اس لیے ضروری ہے علم عروض کا مکمل علم حاصل کریں تاکہ کلام میں بنیادی اغلاط نہ ہوں کلام ہر سقم سے پاک ہو اسی لیے کہا جاتا ہے کہ علم عروض اور شعر لازم و ملزوم ہیں دونوں کا ہونا اچھے خیال اور اچھے شعر سے منسلک ہے تبھی لکھادی اچھا شعر کہہ سکے گا
موسیقی بھی علم عروض کی ساتھ ہے کیونکہ ماترے ، دھن ، اسی طرف لے جاتے ہیں کلام کو جس طرف علم عروض کی اہمیت کا ہونا لازم ہوتا ہے
اگر بات کئی جائے زبانوں کی تو اردو پنجابی زبان میں علم عروض مختلف اشکال پر مبنی ہوتا ہے آج کل زیادہ تر اردو بحور کو پنجابی میں بھی استعمال کیا جارہا ہے لیکن پنجابی گیت ، دو ہڑے ،ماہے ، غزل وغیرہ جیسی اصناف کا الگ سے عروضی مزاج ہے سو اردو زبان کی موسیقی پر یا شاعری پر آج تک ایسا کام سامنے نہیں آیا جو مکمل اردو فلمی شاعری پر سیر حاصل مضامین پر مشتمل ہو
اردو فلمی شاعری کے حوالہ سے عروضی تجزیہ کی یہ پہلی کتاب کے طور ادب میں نمایاں ہے اس سے قبل
موسیقی اور دھن کی کتب میں یا فن موسیقی کی کتب میں کہیں کہیں کسی گیت کا زکر تو ملتا ہے مگر باقاعدہ طور پر اردو فلمی شاعری کے حوالے سے افتاب خان نے یہ پہلی کتاب ترتیب دی ہے جو کہ اردو ادب کے لۓ اور فن موسیقی کے لۓ ایک اہم کتاب کے طور ادب میں نمایاں حثیت پر فائز رہے گی میں آفتاب خان کو تجرباتی کتاب کی اشاعت پر دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ وہ اردو فلمی شاعری کے حوالہ سے مزید کتب تخلیق کریں تاکہ گیت نگاری میں شوق رکھنے والے شعراء کو فن موسیقی کے حوالہ سے آسانیاں میسر ہوں
