Baaghi TV

ڈاکٹر ریاض مجید (ستارہ امتیاز) کی صدارت میں یادگار نعتیہ مشاعرہ کی ایک شام ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

shahid naseem

فیصل آباد صرف صنعت، تجارت، محنت اور کاروبار کا شہر نہیں، یہ شعر و ادب، تہذیب، ثقافت اور روحانی اقدار کی ایک خوبصورت بستی بھی ہے۔ اس شہر کی مٹی نے جہاں بڑے صنعت کار، تاجر، دانشور، صحافی اور فنکار پیدا کیے، وہیں اس نے نعت گو شعرائے کرام اور اہلِ قلم کو بھی ایک ایسا ماحول فراہم کیا جہاں محبتِ رسول ﷺ کے چراغ نسل در نسل روشن ہوتے رہے ہیں۔ فیصل آباد کی ادبی تاریخ میں نعتیہ مشاعروں کی روایت بھی اسی تہذیبی تسلسل کا ایک روشن باب ہے۔

اسی روایت کو زندہ رکھنے اور اسے نئی نسل تک منتقل کرنے کی ایک خوبصورت کوشش ادبی ادارہ ترتیب اور لائلپور پکچر گیلری کے اشتراک سے منعقد ہونے والی 33ویں سالانہ نعتیہ محفلِ مشاعرہ کی صورت میں سامنے آئی۔ لائلپور پکچر گیلری میں منعقد ہونے والی یہ بابرکت ادبی نشست محض ایک مشاعرہ نہیں تھی بلکہ محبتِ رسول ﷺ، ادب، عقیدت اور فیصل آباد کی تہذیبی شناخت کا ایک ایسا اجتماع تھی جس میں شہر بھر سے چالیس کے قریب نعت گو شعرائے کرام نے شرکت کرکے اس محفل کو یادگار بنا دیا۔

اس نعتیہ مشاعرے کی صدارت معروف ادیب، نقاد اور دانشور پروفیسر ڈاکٹر ریاض مجید نے کی۔ ان کی شخصیت خود اردو ادب کے حوالے سے ایک معتبر حوالہ ہے۔ حال ہی میں انہیں ستارۂ امتیاز سے نوازا جانا نہ صرف ان کے لیے بلکہ فیصل آباد کی پوری ادبی برادری کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔ یہی وجہ تھی کہ محفل میں شریک تقریباً تمام شعرائے کرام نے اپنے نعتیہ کلام کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر ریاض مجید کو ستارۂ امتیاز ملنے پر بھی زبردست خراجِ تحسین پیش کیا اور منظوم و منثور نذرانۂ عقیدت پیش کیے۔
اس موقع پر مہمانانِ خصوصی میں محمد اسلم بھلی، صدر سپریم انجمن تاجران فیصل آباد، کوثر علی، پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد قادری، پروفیسر ڈاکٹر حامد رضا اور مقبول احمد لودھی شامل تھے۔ میزبانی کی ذمہ داریاں ڈاکٹر جانباز احمد مخفی، میاں بشیر احمد اعجاز اور حمید شاکر نے انجام دیں۔ تلاوتِ قرآن پاک کی سعادت حافظ ضمیر حسین اطہر قادری نے حاصل کی جبکہ پروفیسر رضا حسین گیلانی نے مترنم انداز میں نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کرکے محفل کے روحانی حسن میں اضافہ کیا۔
جب قرآن پاک کی تلاوت سے محفل کا آغاز ہوا تو یوں محسوس ہوا جیسے لائلپور پکچر گیلری کی فضا میں الفاظ سے پہلے نور اتر آیا ہو۔ اس کے بعد جب نعتِ رسولِ اکرم ﷺ کی آواز بلند ہوئی تو ادب اور عقیدت ایک دوسرے میں گھلتے چلے گئے۔ نعتیہ محفل کی اصل خوبصورتی یہی ہوتی ہے کہ یہاں لفظ محض لفظ نہیں رہتا بلکہ عقیدت کا وسیلہ بن جاتا ہے۔ شاعر اپنے تخلیقی ہنر کو محبتِ مصطفیٰ ﷺ کے حضور پیش کرتا ہے اور سامعین اسے محض شاعری کے طور پر نہیں بلکہ نذرانۂ عقیدت کے طور پر سنتے ہیں۔

اس بابرکت محفل میں سعدیہ نصیر، نرگس رحمت، سلیم شاہد، امین عزمی، ناصر حسین راضی، سرور کلیم، سرور خان سرور، شہزاد بیگ، رضا گیلانی، راشد اقبال، ریاض احمد قادری، پروفیسر ڈاکٹر ریاض مجید، کوثر علی، قمر عباس قمر، ساغر شہزاد، حاتم بھٹی، طارق محمود کائناتی، شاہد نسیم شاہد، عباس علی حیدر، ضمیر قادری، اختر بٹ، اقبال ناز، اشفاق ہمزالی، حامد رضا زیدی، محمود رضا زیدی، حماد حیدر نقوی، سرور قمر قادری، میاں منیر احمد منیر، منیر احمد خاور، کامران رشید، اصغر علی تبسم، اسد نقوی، ذیشان حسینی، آنس بیگ، انور انیق، آصف گوہیر اور ڈاکٹر جانباز مخفی سمیت متعدد شعرائے کرام نے اپنے اپنے نعتیہ کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔
یہ فہرست دراصل فیصل آباد کی نعتیہ شاعری کے ایک خوبصورت منظرنامے کی عکاس ہے۔ راقم الحروف شاہد نسیم نے بھی اپنی نعت مبارک پیش کی۔۔۔ جو کچھ یوں تھی۔

دل کے گلشن کو سجانے آگئے ہیں مصطفےٰ ﷺ
راہیں جنت کی دکھانے آگئے ہیں مصطفےٰ ﷺ

بے سہاروں کو سہارا دینے دنیا میں حضور
غم کے ماروں کو ہنسانے آگئے ہیں مصطفےٰ ﷺ

ظلمتوں میں نورِ حق کا راستہ دکھلانے کو
شمعِ ایماں پھر جلانے آگئے ہیں مصطفےٰ ﷺ

بت کدوں میں پرچم توحید لہراتے ہوئے
کفر کا باطل مٹانے آگئے ہیں مصطفیٰﷺ

سوئے دل کو عشقِ خالق سے سجانے کے لیے
راہِ حق ہم کو دکھانے آگئے ہیں مصطفیٰﷺ

جو بھٹکتے تھے اندھیروں میں جہاں بھر میں کبھی
ان کو منزل تک پہنچانے آگئے ہیں مصطفےٰ ﷺ

نفرتوں کی آگ کو الفت بنانے کے لیے
ٹوٹتے دل کو ملانے آگئے ہیں مصطفےٰ ﷺ

عدل کا میزان دنیا کو دکھانے کے لیے
حق کا پرچم اٹھانے آگئے ہیں مصطفےٰ ﷺ

آدمیت کو عطا کرنے کو قدر و منزلت
سوئے انساں کو جگانے آگئے ہیں مصطفےٰ ﷺ

جن کے دامن سے ملے ہر درد ہی کو اطمینان
زخمِ دل سارے مٹانے آگئے ہیں مصطفےٰ ﷺ

درد کا درمان ہے اب صرف عشقِ مصطفیٰؐ،
شاہدؔ امت کو بچانے آگئے ہیں مصطفیٰﷺ

مختلف اسالیب، مختلف لہجے، مختلف شعری تجربات اور مختلف عمر کے شعراء جب ایک ہی موضوع، یعنی عشقِ رسول ﷺ کے گرد جمع ہوں تو ایک ایسی ادبی فضا تشکیل پاتی ہے جس میں اختلافِ اسلوب اپنی جگہ رہتے ہوئے مقصد کی یکسانیت پیدا ہوجاتی ہے۔ ہر شاعر کا قلم اپنی شناخت رکھتا ہے، مگر جب بات حضور نبی کریم ﷺ کی مدحت کی آتی ہے تو سب کے دل ایک ہی مرکز کی طرف جھک جاتے ہیں۔

اس محفل کا ایک اہم اور قابلِ تحسین پہلو یہ بھی تھا کہ شعرائے کرام نے صرف نعتیہ کلام پیش کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ پروفیسر ڈاکٹر ریاض مجید کو ستارۂ امتیاز ملنے پر انہیں دل کھول کر خراجِ تحسین پیش کیا۔ یہ عمل اس بات کی علامت ہے کہ ادبی برادری اپنے اہلِ علم و ادب کی کامیابیوں کو اپنی کامیابی سمجھتی ہے۔ کسی شاعر، ادیب یا دانشور کو قومی سطح کا اعزاز ملے اور اس کے شہر کے اہلِ قلم اس خوشی کو اجتماعی خوشی بنادیں تو یہ ادب کی صحت مند روایت کی علامت ہے۔
مگر اس پوری محفل میں ایک شخصیت ایسی بھی ہے جس کا خصوصی ذکر ناگزیر ہے، اور وہ ہیں میاں بشیر احمد اعجاز، کسٹوڈین لائلپور پکچر گیلری۔
آج کے دور میں جب بہت سے ثقافتی مقامات اپنی اصل روح سے دور ہوتے جارہے ہیں، میاں بشیر احمد اعجاز نے لائلپور پکچر گیلری کو صرف تصاویر اور فنونِ لطیفہ کی نمائش تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے ادبی، ثقافتی اور فکری سرگرمیوں کے لیے بھی ایک فعال مقام بنانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ کسی عمارت کو صرف عمارت رکھنا آسان ہے، لیکن اسے ایک زندہ تہذیبی مرکز بنانا مسلسل محنت، خلوص اور وژن کا تقاضا کرتا ہے۔
لائلپور پکچر گیلری میں 33ویں سالانہ نعتیہ محفلِ مشاعرہ کا انعقاد اسی سوچ کا عملی اظہار ہے۔ جب ایک آرٹ گیلری میں شعراء جمع ہوں، جب وہاں قرآن پاک کی تلاوت ہو، جب نعتِ رسول ﷺ کی صدائیں بلند ہوں، جب ادب کے استاد، شاعر، تاجر، دانشور اور اہلِ ذوق ایک جگہ بیٹھیں تو دراصل ایک شہر اپنی تہذیبی زندگی کا اعلان کرتا ہے۔
میاں بشیر احمد اعجاز کو اس حوالے سے خراجِ تحسین پیش کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ ادبی تقریبات کی کامیابی صرف شاعر کے شعر کہنے سے نہیں ہوتی۔ اس کے پیچھے منتظمین کی محنت، وقت، وسائل، روابط، مہمان نوازی اور سب سے بڑھ کر نیک نیتی شامل ہوتی ہے۔ ایک کامیاب ادبی محفل کے پیچھے کئی گھنٹوں کی خاموش محنت ہوتی ہے جسے سامعین اکثر دیکھ نہیں پاتے۔
میاں بشیر احمد اعجاز نے اپنے رفقا کے ساتھ مل کر اسی خاموش محنت کو ایک خوبصورت ادبی منظر میں تبدیل کیا۔ طارق محمود کائناتی اور میاں بشیر احمد اعجاز کی جانب سے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا گیا جبکہ ناصر حسین راضی نے دعا کروائی۔ اختتام پر مصطفائی لنگر سے تمام شرکائے محفل کی تواضع کی گئی۔ یوں محفل نے ادب، عقیدت، محبت اور خدمت کے تمام رنگ اپنے اندر سمیٹ لیے۔
یہاں ایک بات خاص طور پر قابلِ ذکر ہے کہ نعتیہ محفل کا حسن صرف بلند آواز میں نعت پڑھنے یا بڑے بڑے ناموں کی شرکت سے نہیں بڑھتا، بلکہ اس وقت بڑھتا ہے جب منتظمین شعراء اور سامعین دونوں کے لیے احترام، محبت اور اپنائیت کا ماحول پیدا کریں۔ اس حوالے سے لائلپور پکچر گیلری کی یہ محفل ایک خوشگوار مثال نظر آتی ہے۔

فیصل آباد جیسے بڑے شہر میں ادبی سرگرمیوں کے لیے مستقل اور باوقار مقامات کی ضرورت ہمیشہ محسوس کی جاتی رہی ہے۔ اگر ثقافتی ادارے اپنے دروازے اہلِ قلم کے لیے کھول دیں تو شہر کی ادبی زندگی میں نئی توانائی پیدا ہوسکتی ہے۔ لائلپور پکچر گیلری میں اس طرح کی سرگرمیاں اسی ضرورت کو پورا کرنے کی ایک قابلِ قدر کوشش ہیں۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ نئی نسل کو ادب اور ثقافت سے جوڑنے کے لیے صرف کتابیں کافی نہیں، بلکہ انہیں ایسے زندہ ادبی اجتماعات بھی دکھانا ہوں گے جہاں وہ شعراء کو سامنے دیکھیں، کلام سنیں، اہلِ علم سے ملیں اور یہ محسوس کریں کہ ادب کوئی ماضی کی چیز نہیں بلکہ آج بھی ہمارے معاشرے کی فکری اور روحانی ضرورت ہے۔
نعتیہ ادب تو خصوصاً ہماری تہذیبی اور دینی روایت کا نہایت محترم حصہ ہے۔ اس لیے نعتیہ محافل کا انعقاد صرف ایک ادبی سرگرمی نہیں بلکہ محبتِ رسول ﷺ کے اظہار کا ایک خوبصورت ذریعہ بھی ہے۔ تاہم اس میدان میں سب سے اہم چیز ادب، احترام اور شرعی و شعری نزاکتوں کی پاسداری ہے۔ جب اہلِ علم و ادب اس ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے نعت کہتے اور سنتے ہیں تو ایسی محافل دلوں پر دیرپا اثر چھوڑتی ہیں۔
33ویں سالانہ نعتیہ محفلِ مشاعرہ نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ فیصل آباد کا ادبی مزاج زندہ ہے۔ یہاں شعراء بھی ہیں، سامعین بھی ہیں، ادبی ادارے بھی ہیں اور ایسے مخلص منتظمین بھی جو اپنی مصروفیات کے باوجود ادب کے لیے وقت نکالتے ہیں۔
میاں بشیر احمد اعجاز کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کیا جانا چاہیے کہ انہوں نے لائلپور پکچر گیلری کو محض ایک ثقافتی عمارت نہیں رہنے دیا بلکہ اسے ادب، فن اور تہذیب کے حسین امتزاج کا ایک فعال مرکز بنانے کی کوشش کی۔ ایسی شخصیات کسی بھی شہر کا خاموش سرمایہ ہوتی ہیں۔ انہیں نہ صرف تقریبات کے موقع پر بلکہ ان کی مسلسل خدمات کے اعتراف میں بھی سراہنا چاہیے۔
اور شاید یہی کسی ادبی معاشرے کی اصل خوبصورتی ہے کہ یہاں شاعر صرف شعر نہیں کہتا، منتظم صرف پروگرام نہیں کراتا اور سامع صرف تالیاں نہیں بجاتا؛ بلکہ سب مل کر ایک تہذیبی روایت کو آگے بڑھاتے ہیں۔
لائلپور پکچر گیلری میں ہونے والی یہ نعتیہ محفل بھی اسی خوبصورت روایت کا تسلسل تھی۔ قرآن پاک کی تلاوت سے شروع ہونے والی محفل نعت کی خوشبو میں ڈھلی، شعراء کے کلام سے سجتی رہی، ڈاکٹر ریاض مجید کے قومی اعزاز پر مبارک باد اور خراجِ تحسین کے پھول پیش کیے گئے، منتظمین نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا، دعا ہوئی اور آخر میں مصطفائی لنگر نے اس محبت بھری نشست کو اپنے ذائقے میں سمیٹ لیا۔

یہ صرف ایک محفل کا اختتام نہیں تھا بلکہ ایک عہد کی تجدید تھی کہ فیصل آباد میں ادب زندہ ہے، نعتیہ روایت زندہ ہے اور محبتِ رسول ﷺ سے وابستہ قلم آج بھی اپنی ذمہ داری نبھا رہا ہے۔
میاں بشیر احمد اعجاز اور ان کے رفقائے کار اس خوبصورت ادبی و نعتیہ روایت کو آگے بڑھانے پر مبارک باد کے مستحق ہیں۔ دعا ہے کہ لائلپور پکچر گیلری آئندہ بھی شعر و ادب، فن و ثقافت اور فکر و دانش کے چراغ روشن کرتی رہے اور یہاں سے نکلنے والی ادبی آوازیں فیصل آباد کی حدود سے آگے پورے ملک تک پہنچتی رہیں۔
یہی شہر کی تہذیبی زندگی ہے، یہی ادب کی خدمت ہے اور یہی وہ چراغ ہے جسے ایک نسل دوسری نسل کے ہاتھ میں منتقل کرتی ہے۔

More posts