امریکا اور بھارت کے درمیان بڑھتی تجارتی کشیدگی کے دوران اڈانی کیس بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کیلئے ایک اور سنگین سفارتی چیلنج بن کر سامنے آ گیا ہے۔ امریکی جریدے بلومبرگ کے مطابق نریندر مودی طویل عرصے تک اڈانی گروپ کے سربراہ گوتم اڈانی اور ان کے بھتیجے کو امریکی سمن سے بچانے کی کوشش کرتے رہے، تاہم امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے کارروائی آگے بڑھانے کا فیصلہ کر لیا۔
بلومبرگ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی اداروں نے مودی حکومت کی سرپرستی میں مبینہ طور پر اڈانی گروپ کو دیے گئے تحفظ پر سوالات اٹھا دیے ہیں، جس سے بھارت میں کرپشن اور دھوکہ دہی کے الزامات عالمی سطح پر نمایاں ہو گئے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق امریکا میں جاری تحقیقات کے دوران اڈانی پر 250 ملین ڈالر کی مبینہ رشوت خوری کے انکشافات سامنے آئے، جنہوں نے بھارت کی عالمی ساکھ کو شدید دھچکا پہنچایا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ گزشتہ ایک سال سے اڈانی گروپ امریکا میں رشوت خوری اور فراڈ سے متعلق مقدمات کی زد میں ہے۔
امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے براہِ راست سمن جاری ہونے کے بعد اڈانی گروپ نے ممکنہ قانونی نتائج سے بچنے کے لیے سیٹلمنٹ کی کوششیں تیز کر دی ہیں، جبکہ یہ معاملہ مودی حکومت کیلئے اندرونی کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی دباؤ میں بھی اضافے کا باعث بن رہا ہے۔
امریکا بھارت تجارتی کشیدگی میں اڈانی کیس مودی حکومت کیلئے نیا سفارتی بحران بن گیا
