سرد ہوا کا ایک جھونکا کھڑکی کے راستے کمرے میں داخل ہوا، تو عاصم نے اپنے شال کو کندھوں پر اچھی طرح لپیٹ لیا۔ میز پر رکھی چائے کی پیالی سے ابھرتا دھواں اب غائب ہو چکا تھا۔ وہ گزشتہ دو گھنٹے سے اپنے سامنے پھیلے کاغذات کو دیکھ رہا تھا، جہاں اس کے بزنس پارٹنر کاشف کے خلاف مالی بدعنوانی کے واضح ثبوت موجود تھے۔
کاشف اور عاصم کی دوستی برسوں پرانی تھی۔ دونوں نے مل کر اس کمپنی کی بنیاد رکھی تھی۔ لیکن آج ان کاغذات نے عاصم کے بھروسے کو پاش پاش کر دیا تھا۔ کاشف کے دستخط ان تمام فائلوں پر موجود تھے جہاں سے رقم غائب ہوئی تھی۔ عاصم کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ اسی وقت کاشف کو فون کرے اور اس کی بے وفائی پر اسے کھری کھری سنائے، لیکن اس نے خود پر قابو رکھا اور صبح کا انتظار کرنے لگا۔
اگلی صبح عاصم غصے اور مایوسی کے ملے جلے جذبات کے ساتھ آفس پہنچا۔ اس نے بغیر کسی تمہید کے وہ فائل کاشف کی میز پر پٹخ دی۔
"یہ کیا ہے کاشف؟ مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی!” عاصم کی آواز میں تلخی تھی۔
کاشف نے چونک کر فائل کھولی۔ صفحات پلٹتے ہی اس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ اس نے نظریں اٹھا کر عاصم کو دیکھا، اس کی آنکھوں میں مجرمانہ احساس کے بجائے ایک گہرا دکھ تھا۔
"عاصم، جو تم دیکھ رہے ہو، وہ پورا سچ نہیں ہے…” کاشف نے دھیمی آواز میں کہنا چاہا۔
"سچ؟ سچ تو یہ کاغذات بول رہے ہیں!” عاصم نے اس کی بات کاٹ دی۔ "تم نے میرے اعتماد کا خون کیا۔ میں آج ہی یہ معاملہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے سامنے رکھ رہا ہوں۔”
کاشف نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ "ٹھیک ہے عاصم، اگر تمہیں مجھ سے زیادہ ان کاغذات پر یقین ہے، تو جو تمہیں ٹھیک لگے وہ کرو۔ میں استعفیٰ دے رہا ہوں کیونکہ میں اپنی صفائی پیش کر کے اپنی دوستی کو مزید نیچا نہیں دکھانا چاہتا۔”
کاشف آفس سے چلا گیا، اور اگلے ہی دن اس کا استعفیٰ عاصم کی میز پر تھا۔ عاصم کو لگا کہ اس نے کمپنی کو ایک بڑے نقصان سے بچا لیا ہے، لیکن اس کے دل کا سکون چھن چکا تھا۔
تین دن بعد، عاصم کے پاس کمپنی کا پرانا اکاؤنٹنٹ، رحمان صاحب آئے۔ ان کے ہاتھ میں ایک اور پرانی فائل تھی۔
"سر! مجھے معلوم ہوا ہے کہ کاشف صاحب نے استعفیٰ دے دیا ہے،” رحمان صاحب نے افسردگی سے کہا۔ "لیکن جانے سے پہلے میں آپ کو ایک حقیقت بتانا چاہتا ہوں۔”
"کیسی حقیقت؟” عاصم نے بے رخی سے پوچھا۔
رحمان صاحب نے فائل عاصم کے آگے بڑھائی۔ "چھ ماہ پہلے جب کمپنی شدید مالی بحران کا شکار تھی اور مارکیٹ میں ہماری ساکھ خطرے میں تھی، تو آپ کے کزن نوید نے کمپنی کے فنڈز میں ہیرا پھیری کی تھی۔ کاشف صاحب کو جب یہ معلوم ہوا، تو انہوں نے آپ کے خاندانی بھرم اور کمپنی کی عزت بچانے کے لیے وہ سارا الزام اپنے سر لے لیا۔ انہوں نے اپنے ذاتی فنڈز سے وہ رقم کمپنی کے اکاؤنٹ میں واپس جمع کروائی، تاکہ آڈٹ میں نوید پکڑا نہ جائے اور آپ کو دکھ نہ پہنچے۔ یہ دستخط انہوں نے اسی لیے کیے تھے تاکہ معاملہ یہیں دب جائے۔”
عاصم کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔ جو ثبوت وہ کاشف کے خلاف سمجھ رہا تھا، وہ اصل میں کاشف کی قربانی اور وفاداری کی دستاویز تھی۔ اس نے ادھورے سچ پر یقین کر کے اپنے سب سے مخلص دوست کو کھو دیا تھا۔
وہ فوراً اپنی کرسی سے اٹھا اور کاشف کے گھر کی طرف بھاگا۔ وہ جانتا تھا کہ نقصان بڑا تھا، لیکن ابھی معافی مانگنے کا وقت باقی تھا۔
