حکومت پاکستان نے طالبان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے کوئی وفد نہیں بھیجا۔ پاکستان کا مؤقف واضح اور دوٹوک ہے، بین الاقوامی طور پر نامزد دہشت گردوں کو پناہ دینا بند کریں اور سرحد پار دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کریں
مولانا فضل الرحمٰن خلیل کا دورہ مکمل طور پر ذاتی حیثیت میں ہے۔ یہ بھی معروف حقیقت ہے کہ فضل الرحمٰن خلیل کے (ٹی ٹی پی) کے ساتھ قریبی روابط ہیں۔طالبان حکومت اس سے قبل قطر، ترکی، چین اور روس جیسے ثالثوں کے ذریعے جنگ بندی حاصل کرنے کی کوشش کر چکا ہے، مگر یہ تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئیں۔ اب بظاہر ایک اور بے بس کوشش میں انہوں نے اپنے ہی ایک قریبی ساتھی کا سہارا لیا ہے۔
امن صرف مانگا نہیں جاتا، اسے حاصل کرنا پڑتا ہے۔ اگر آپ امن چاہتے ہیں تو پہلے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ آپ اس کے مستحق ہیں
