حکام نے پاکستان کی ممکنہ فضائی کارروائیوں کے خدشے کے پیش نظر اپنے ٹھکانے تبدیل کر لیے ہیں اور ملک کے وسطی صوبے بامیان منتقل ہو گئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان حکام پانچ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بامیان پہنچے، اور یہ ہیلی کاپٹر تاحال بامیان ایئرپورٹ پر موجود ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کی جانب سے افغانستان میں شدت پسند عناصر کے خلاف آپریشن غضب للحق جاری ہے۔ حکام کے مطابق اس کارروائی کا مقصد سرحد پار دہشتگردی کے مراکز کو نشانہ بنانا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق پاکستان کی جوابی کارروائیوں میں اب تک طالبان کے 435 کارندے ہلاک جبکہ 630 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فورسز نے طالبان کی 118 چیک پوسٹیں تباہ کیں اور 31 پر کنٹرول حاصل کیا، جبکہ بڑی تعداد میں ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں بھی تباہ کی گئیں۔
سرکاری مؤقف کے مطابق پاکستان اب تک افغانستان میں 51 مختلف مقامات کو فضائی کارروائیوں میں نشانہ بنا چکا ہے۔
پاکستانی فضائی کارروائیوں کے خدشے پر افغان طالبان فرار
