طالبان کی شدت پسند پالیسیوں کے باعث افغانستان بڑھتی ہوئی عالمی تنہائی کا شکارہو چکا ہے
طالبان رجیم کی غیر جمہوری اور پرتشدد پالیسیوں کے نتیجے میں افغانستان کو شدید عالمی تنہائی کا سامنا ہے،طالبان کی انتہا پسند پالیسیوں کے باعث متعدد ممالک افغانستان کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات معطل کر چکے ہیں،طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغان سفارت خانوں کی بندش میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، برطانیہ، ترکیہ اور ناروے کے بعد اب جاپان نے بھی افغان سفارت خانہ بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے،افغان سفارت خانوں کی مسلسل بندش اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ طالبان رجیم سفارتی طور پر ناکامی اور عالمی تنہائی کا شکار ہو چکی ہے، افغان جریدے کابل ٹائمز نے بھی جاپان میں افغان سفارت خانے کی بندش کی تصدیق کرتے ہوئے واضح کیا کہ 31 جنوری 2026 سے سفارت خانے میں تمام سیاسی اور اقتصادی امور معطل کر دیے جائیں گے۔کابل ٹائمز نے بھی خبردار کیا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم افغان شہریوں کے لیے سفارتی مشنز کی بندش سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے، کیونکہ اس سے ان کے قانونی اور انتظامی مسائل میں اضافہ ہوگا،طالبان رجیم کی آمرانہ اور شدت پسند سوچ کے باعث کئی ممالک نے افغان شہریوں کے داخلے سے متعلق قوانین مزید سخت کر دیے ہیں
افغان جریدے آمو کے مطابق سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر روس نے افغان مزدوروں کی بھرتی سے بھی انکار کر دیا ہے،ماہرین کے مطابق افغانی شرپسندوں اور سیکیورٹی خدشات کی بنا پر امریکا، جرمنی، پاکستان، ایران اور دیگر ممالک سے افغان مہاجرین کو بے دخل کیا جا رہا ہے ، طالبان کی شدت پسند اور غیر جمہوری پالیسیوں کے باعث افغانستان عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہوتا جا رہا ہے جو انتہائی تشویش کا باعث ہے،
