عالمی ادارہ خوراک (ورلڈ فوڈ پروگرام) نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان دنیا کے شدید ترین غذائی بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے جہاں لاکھوں افراد کو خوراک تک رسائی میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
جمعرات کو جاری کی گئی رپورٹ میں ادارے نے کہا کہ ملک بھر میں شدید غذائی قلت میں اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث ہزاروں بچے سنگین خطرے سے دوچار ہیں۔
ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق افغانستان اور پاکستان کی سرحد پر بڑھتی ہوئی جھڑپوں کے باعث کمزور اور ضرورت مند آبادی کے لیے صحت کی سہولیات اور انسانی امداد تک رسائی بھی متاثر ہو رہی ہے۔
ادارے نے خبردار کیا کہ اگر سرحدی علاقوں میں لڑائی جاری رہی تو پہلے ہی غربت اور بھوک کا شکار خاندان مزید مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں اور ان کے حالات زندگی مزید خراب ہو جائیں گے۔
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سرحدی صوبوں پکتیا اور خوست میں افغان طالبان اور پاکستانی فورسز کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور کے مطابق حالیہ سرحدی جھڑپوں کے باعث مشرقی افغانستان میں کم از کم 16 ہزار 370 خاندان بے گھر ہو چکے ہیں۔
انسانی امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں معاشی بحران، خشک سالی اور امداد کی کمی کے باعث دیہی علاقوں میں لاکھوں افراد ہنگامی غذائی امداد پر انحصار کر رہے ہیں۔
امدادی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر مستقل انسانی امداد اور بہتر سکیورٹی صورتحال فراہم نہ کی گئی تو آنے والے مہینوں میں افغانستان کا غذائی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔
افغانستان شدید غذائی بحران کا شکار، لاکھوں افراد کو خوراک کی قلت کا سامنا
