Baaghi TV

افغانستان میں انسانی حقوق کی پامالی انتہا کو پہنچ گئی، طالبان رجیم کا مکروہ چہرہ بے نقاب

طالبان رجیم کی آمرانہ پالیسیوں نے افغانستان کو شدید معاشی، سماجی اور انسانی بحران کی طرف دھکیل دیا ہے

انسانی حقوق کی افغان تنظیم رواداری نےطالبان رجیم میں بڑھتےمظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کاپردہ چاک کردیا ،انسانی حقوق کی تنظیم رواداری کی تازہ رپورٹ کے مطابق؛گذشتہ سال شہریوں کے بنیادی حقوق کی پامالی، خواتین اور اقلیتوں پر ہونے والے مظالم میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ،گذشتہ سال میں ہی ٹارگٹ کلنگ، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور تشدد کے واقعات میں 40.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ 611 افراد اس کا نشانہ بنے،سال2025 میں آمرانہ پابندیوں اور جبری قوانین میں اضافے سے خواتین کے حقوق پامال کئے گئے،طالبان کی عدالتوں نے کوڑوں سمیت مختلف جسمانی اور تذلیل آمیز سزائیں نافذ کیں جو عالمی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہیں، نسلی گروہ اور مذہبی اقلیتیں روزگار، معاشی مواقع، عوامی وسائل اور خدمات تک رسائی سے محروم ہیں،انسانی حقوق کے آزاد اداروں اور آزاد عدلیہ کی عدم موجودگی سے انسانی حقوق کی پامالی میں اضافہ اور انصاف کے تمام راستے بند ہو چکے ہیں،

ماہرین کے مطابق طالبان رجیم نے افغانستان کو ایسے موڑ پر لاکھڑا کیا ہے جہاں قانون کی جگہ بندوق اور رواداری کی جگہ وحشت نے لے لی ہے،افغان طالبان رجیم کا موجودہ طرزِ حکمرانی بین الاقوامی انسانی حقوق کے چارٹر اور بنیادی انسانی اقدار کے منافی ہے

More posts