Baaghi TV

افغانستان، لڑکوں کے لباس میں کیفے پر کام کرنے والی کمسن بچی گرفتار

افغانستان کے صوبہ ہلمند میں طالبان حکام نے ایک کمسن بچی کو گرفتار کر لیا جو گزشتہ تین برس سے لڑکوں کے لباس میں “نور احمد” کے نام سے کام کر رہی تھی۔

بچی کی اصل شناخت نوریہ کے نام سے ہوئی ہے، جو لشکرگاہ شہر کے ایک کیفے شاپ میں ملازمت کرتی رہی۔مقامی ذرائع کے مطابق نوریہ تقریباً تین سال سے مردانہ لباس پہن کر روزگار کما رہی تھی اور ماہانہ دس ہزار افغانی کے عوض کیفے میں کام کرتی تھی۔ حکام کو اس کی اصل شناخت کا علم ہونے کے بعد اسے حراست میں لے لیا گیا۔ تاہم گرفتاری کے بعد سامنے آنے والی تفصیلات نے علاقے میں ہمدردی اور تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

نوریہ نے گرفتاری کے بعد بتایا کہ وہ یہ سب کچھ سخت مجبوری کے تحت کر رہی تھی۔ اس کا کہنا تھا،
“میں یہ سب سخت مجبوری میں کر رہی ہوں۔ مجبوری کی وجہ سے میں نے مردانہ لباس پہنا۔ میں اپنی بہنوں کی کفالت کرتی ہوں، گھر کی ذمہ داری مجھ پر ہے۔ اگر حالات خراب نہ ہوتے تو میں ایسا کیوں کرتی؟”جب اس سے اس کے والد کے بارے میں سوال کیا گیا تو اس نے بتایا کہ اس کے والد کا انتقال ہو چکا ہے اور گھر میں کوئی دوسرا کفیل موجود نہیں۔ ذرائع کے مطابق نوریہ کے خاندان کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے، جس کے باعث اس نے لڑکوں کا بھیس بدل کر ملازمت اختیار کی تاکہ گھر کا خرچ چلا سکے۔

یاد رہے کہ افغانستان میں موجودہ حالات کے باعث خواتین اور بچیوں کے لیے تعلیم اور ملازمت کے مواقع انتہائی محدود ہو چکے ہیں۔ متعدد علاقوں میں خواتین کے اکیلے کام کرنے یا بعض شعبوں میں ملازمت پر پابندیاں عائد ہیں، جس کے نتیجے میں کئی خاندان شدید مالی بحران کا شکار ہیں۔سماجی حلقوں اور انسانی حقوق کے کارکنان نے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ افغانستان میں خواتین اور بچیوں کو درپیش مشکلات کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ غربت اور بے روزگاری نے کمسن بچیوں کو بھی ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دبا دیا ہے۔

More posts